پنجاب حکومت کی درخواست واپس لینے پر خارج، ملک اسحاق کی نظربندی ختم

23 دسمبر 2014

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے ریویو بورڈ کے روبرو پنجاب حکومت کالعدم تنظیم کے رہنماء ملک اسحاق کی نظربندی کیلئے ٹھوس ثبوت اور جواز پیش نہ کر سکی ۔ حکومت کی طرف سے نظربندی میں توسیع کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر ہائیکورٹ کے نظرثانی بورڈ نے ملک اسحاق کی نظربندی ختم کر دی۔ ملک اسحاق کی ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری وکیل کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سانحہ پشاور کے پس منظر میں ملک اسحاق کی نظربندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جائے کیونکہ اگر ملک اسحاق کو رہا کیا گیا تو ملک میں نقص امن کا خدشہ پیدا ہو گا، سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملک اسحاق اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں جس سے معاشرے میں خون خرابہ ہوتا ہے۔ ملک اسحاق نے خود  دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کیخلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام بے بنیاد ہے، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت ملک اسحاق کی نظربندی کیلئے ٹھوس شواہد اور جواز پیش کرے تاہم حکومت کوئی ٹھوس جواز پیش نہ کر سکی، سرکاری وکیل نے نظرثانی بورڈ سے استدعا کی انہیں درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے جس پر بورڈ نے پنجاب حکومت کی طرف سے ملک اسحاق کی نظربندی میں توسیع کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے رہنما ملک اسحاق کی نظربندی ختم کر دی، نظرثانی بورڈ نے قرار دیا پنجاب حکومت ملک اسحاق کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے، پولیس ذرائع کے مطابق بھکر میں ملک اسحاق پر دو افراد کے قتل میں ہم مشورہ ہونے کا الزام ہے جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر رہا نہیں کیا جائیگا، نظرثانی بورڈ کے فیصلے کے بعد ملک اسحاق کو سخت سکیورٹی میں واپس ملتان جیل روانہ کر دیا گیا۔