حکومت دھاندلی پر جوڈیشل کمشن بنائے، عمران اسمبلی میں لوٹ آئیں، سراج الحق، شاہ محمود کی ملاقات

23 دسمبر 2014
حکومت دھاندلی پر جوڈیشل کمشن بنائے، عمران اسمبلی میں لوٹ آئیں، سراج الحق، شاہ محمود کی ملاقات

لاہور+ اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار+ آن لائن) تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز اسلام آباد کے خیبر پی کے ہائوس میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی اور سیاسی معاملات، سانحہ پشاور سے پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا  سانحہ پشاور پر پوری قوم سوگوار ہے، تاریخ میں اس طرح کے ظالمانہ واقعہ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ہر گلی میں کربلا سجا دی گئی  ہیں، موجودہ وفاقی حکومت کو پوری قوم اور سیاسی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے، حکومت کی صلاحیتوں کا اب امتحان ہے، موجودہ صورتحال میں محراب و منبر کو لیڈنگ رول ادا کرنا ہوگا، تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت کو مل کر 2015ء کو امن کا سال قرار دینا چاہئے، امن قائم نہ ہوا تو ملک  خدانخواستہ  عراق یا شام بن جائے گا، حکومت جلد از جلد تحریک انصاف سے معاملات نمٹائے اور دھاندلی کی شکایات نمٹانے کیلئے جوڈیشل کمشن تشکیل دیا جائے۔ عمران خان  اور ان کی جماعت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ اب اسمبلیوں میں بھی لوٹ آئیں، تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ملکی مسائل پر پوری قومی سیاست یکجا ہے، یکجہتی کے اظہار کیلئے دھرنا ختم کیا، ہم نے  قومی یکجہتی کیلئے قدم بڑھایا ہے، اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دھاندلی کی شکایات کا ازالہ کرے،  اُمید ہے مذاکرات کے اگلے دور میں جوڈیشل کمشن  قائم کردیا جائیگا، قوم کے بچوں  اور ملک کی عظمتوں کے حوالے سے پوری قوم متحد ہے اور کسی کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا، دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے آلات کی تیاری، پولیس کی ٹریننگ سمیت دیگر اقدامات اٹھانا ہونگے۔ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نصف سطح تک آچکی ہیں جس سے  حکومت کو 15ارب ڈالر تک کا ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں  نے کہا قوم کے بچوں  اور ملک کی عظمتوں کے حوالے سے پوری قوم متحد ہے اور کسی کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے آلات کی تیاری، پولیس کی ٹریننگ سمیت دیگر اقدامات اٹھانا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سراج الحق کے 2015ء کو امن کا سال قرار دینے کی تجویز کو سراہتے ہیں  اب حکومت کو بھی  اقدامات اٹھانا ہونگے کہ کس طرح اداروں میں رابطوں کے فقدان کو ختم کیا جائے۔ تحریک انصاف اس سلسلے میں مثبت تجاویز  لارہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا محراب و منبر سے بھی دہشتگردی کیخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں کیونکہ  دہشتگرد کا کوئی  مذہب نہیں ہوتا یا کوئی مذہب دہشتگردی کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ اس واقعہ کو اسلام اور پاکستان کے  خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں  انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں  محراب و منبر کو بھی لیڈنگ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔