چھ دہائیوں پر محیط فنی سفر

23 دسمبر 2014

رحیم طلب
ممتاز شاعر ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد نے نورجہاں کے بارے میں کہا ہے کہ نغمے اس کی تان میں ڈھل کر لہریں لیتے تھے۔ سر کی شمعیں جل اٹھیں تو منظر خوشبو دیتے تھے۔ سر کی فصل بہار جب کھل اٹھتی تو اس کی آواز کا لمس آکاش کے پردوں تک محسوس ہوتا تھا۔ اس کی تان سے روح کے سارے پھول مہک اٹھتے تھے۔ قوس قزح کے سارے رنگ اس کے سر میں مل جاتے تھے۔ اس کی ایک تان میں سب ذی روح اپنے آپ میں کھوجاتے تھے۔
نورجہاں کے گلے کے سریلے صوتی نور نے اہل دل اہل ذوق سرشناس لوگوں کو خصوصی اور عام آدمی کے ذہن کو منور ترنم کیا۔ ان کے گیتوں کی لے پر دل خودبخود دھڑکتے تھے۔ خاموش دل مچلتے تھے۔ آنکھیں چھلکتے پیالوں کاروپ دھارلیتی تھیں ان کی گائیکی دلوں کی تفسیر، ہرجذبہ محبت کی تصویر تھی وہ اہل عالم میں پاکستان کی ثقافتی سفیر تھی اس کی آواز درد ساز اور سوز قلب وجگر کا مرقع تھی پاکستان اور پاک سرزمین کی جغرافیائی سرحدوں سے باہر بھی کوئی ایسا فرد نہیں، نورجہاں کی آواز جس تک نہ پہنچی ہو۔ مایوس دلوں کے لئے وہ جینے کا حوصلہ تھی۔ سرفروشی کا ولولہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔ وہ کمال فن کی اوج ثریا پر فائز تھی وہ اپنی خوبصورتی سرکی ریاضت اور شہرت کی معراج پر تھی ملکہ کی آواز چھ دہائیوں سے اہل سر اور شائقین موسیقی کومسحور و مسرور کرتی رہی ہے اور ابھی تک اس کے سر کا سحر قائم دائم ہے اور یقیناً صدیوں قائم دائم رہے گا
ملکہ ترنم نورجہاں نے کئی موسیقاروں کی دھنوں کو امر کردیا۔ نورجہاں کی آواز سے دھن کو چار چاند لگ جاتے اور موسیقار راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھو لیتے ان کے ہرگیت میں ایک مکمل فنی رچاﺅ اور چس رس ملتی تھی۔ میڈم نورجہاں نے شاعروں کی شاعری کو غنائیت کا حسین ترین لباس عطا کیا۔ لفظ جب خود سرکا لباس پہن کر اس کے ہونٹوں پر آتے تو شعروں کا حرف حرف جھوم جھوم اٹھتا شاعروں کے جذبات کو مجسم کرکے دنیا کے سامنے پیش کرناان کا ادنی سا کام تھا کیونکہ شاعری کی پہچان ہی موسیقیت اور ترنم سے ہوتی ہے۔
گیت کے برعکس غزل میں نورجہاں نے دیگر شعری صنفوں سے الگ اپنا جداگانہ رنگ اپنایا۔ نورجہاں نے غالب، اقبال، فیض، امجد اسلام امجد، حسن رضوی، ناصر کاظمی، احمد فراز، خواجہ پرویز، قتیل شفا ئی کی غزلوں میںوہ سماںو سحر باندھا کہ غزل عام آدمی تک سننے کا شوقین ہوگیا۔
ملکہ ترنم نورجہاں نے ٹھمری، خیال اور نیم کلاسیکل کو اپنے سر کی خوبصورتی سے لوگوں میں عام کرایا لفظوں کی ادائیگی میں میڈم سے بڑھ کر کوئی اور گلوکارہ پیدا نہیں ہوئی ملکہ ترنم نورجہاں کی صوتی انفرادیت برصغیر سمیت پوری دنیا پر عیاں تھی۔ ان کے گلے میں موجود غنا ئی جہتوں کی وجہ سے مختلف رنگ ڈھنگ کے موسیقار اپنی تخلیق کو ہوا کے دوش روانہ کرنے کیلئے میڈم کے فن کا سہارا لیتے۔ میڈم مشکل ترین دھنیں بڑے سہل انداز میں گالیتی تھی میڈم نورجہاں اور خواجہ خورشید انور کا فنی اشتراک پاکستان فلم انڈسٹری کوکئی دہائیاں سہارا دیتا رہا۔ جس سے پاکستان فلم انڈسٹری کو سینکڑوں صدا بہارو شاہکار نغمے مل سکے فیض احمد فیض کی مشہور زمانہ نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ کو ملکہ ترنم نے گاکر فلمی دنیا میں نظم گائیکی کا ایک نیا سریلا تجربہ کیا۔
ملکہ ترنم نورجہاں پر ملی جذبہ اس طرح عودکر آتا تھا جیسے وہ خود محاذ جنگ پر ہو۔ ان کے ملی نغمے سے وطن کے سجیلے جوانوں کے حوصلے بلند ہوتے۔ دلوں میں سوزو گداز کا مادہ پیدا ہوتا۔ صوفی تبسم کا لکھا ہوا ملی نغمہ ایہ پترہٹاں تے نئیں وکدے، دیگر نغمے اے وطن کے سجیلے جوانوں ، میرے ڈھول سپاہیا، ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی ، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہوجیسے، ملی جذبات سے مزین نغمے گائے جس کی مثال نہیں ملتی۔
قصور کی اللہ رکھی نے اپنے چائلڈ کیرئیر سے نورجہاں بننے تک جس طرح مسلسل ریاضت سے اور فکری فن ارتقاءسے چھ دہائی تک موسیقی کاسفر طے کیا یہ سفر برصغیر پاک وہند میں کسی نے نہیں طے نہیں کیا۔ نورجہاں نے بے شمار فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ نورجہاں سب سے پہلے فلمساز کے ڈی مہرا کی فلم پنڈ دی کڑی میں جلوہ گر ہوئی۔
فلم سیرسیال میں نورجہاں بے بی نورجہاں کے طورپر متعارف ہوئیں۔ 1939ءمیں ماسٹر غلام حیدر نے نورجہاں کیلئے گانا کمپوز کیا جسے نورجہاں نے فلم گل بکاﺅلی کیلئے گایا، 1942میں فلم خاندان میں پہلا مرکزی کردار ادا کیا۔ 1945میں لتا اور آشا کے ساتھ فلم بڑی ماں میں لیڈ رول ادا کیا۔ اور اسی سال قوالی گائی آہیںنہ بھر یں شکوہ نہ کیا یہ قوالی زہرہ باجی انبالے والی اور عیانی کے ساتھ گائی۔ ساوتھ ایشیاءمیں یہ قوالی گانے کا پہلا تجربہ تھا۔ نورجہاں نے انڈین فلموں کے لئے 127گانے گائے۔
قیام پاکستان کے بعد سید شوکت حسین رضوی اور نورجہاں پاکستان آگئے ابتدائی ایام کراچی گزارے پاکستان میں پہلی فلم چن وے 1951ءمیں سنتوش کے مقابل پہلی پنجابی فلم میںبطور ہیروئن کام کیا۔
ملکہ ترنم نورجہاں جو 21ستمبر1926ءکو قصور میں پیدا ہوئیں اور 23دسمبر 2000ءکو کراچی میں سر کی یہ میٹھی تان ٹوٹ کر پیوند خاک ہوگئی۔