ملکہ ترنم نور جہاں اور ریڈیو پاکستان

23 دسمبر 2014
ملکہ ترنم نور جہاں اور ریڈیو پاکستان

حضرت بابا بُلھے شاہؒ کی نگری شہر قصور کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ جہاں حضرت بابا بُلھے شاہ نے اپنی شاعری سے عوام میں روحانی شعور پیدا کرنے کی کوششیں کیں وہاں اپنے مداحوں اور ماننے والوں کے لئے دعائیں بھی کیں دیگر مخلوق کے ساتھ اس شہر کا نام روشن کرنے میں استادان موسیقی بڑے غلام علی خان، استاد برکت علی خان علی بخش قصوری وغیرہ کے نام بھی نمایاں ہیں قصور شہر جہاں شعر و نغمے کی آبیاری میں مشہور ہوتا گیا وہاں کے گلستان موسیقی کے گھرانے میں ایک ایسی کلی پھوٹی جس کے حُسن اور آواز کی صدا انڈو پاک کے استاد فن کو متاثر کرنے لگ گئی اور آج بھی موسیقی سے محبت رکھنے والوں کو مسخر کرتی سنائی دے رہی ہے۔ خدا کی مہربانی سے جب باران رحمت کا نزول ہوتا ہے تو وہ ذات پات، دوست دشمن اور امیر غریب کے کھیت کو نہیں دیکھتا یکساں بارش برساتا ہے اور دنیا کی ہر مخلوق اُس سے مستفید ہو رہی ہوتی ہے۔ قصور کی زمین جہاں سرسبز و شاداب ہے وہاں سُریل بھی ہے وہاں بڑے بڑے گائیک پیدا ہوئے، وہاں بی بی نور جہاں بھی تھی۔ جب استاد غلام محمد نے نور جہاں کو فن موسیقی کی تعلیم دینا شروع کی، فنی باریکیوں سے آشنا کروایا اور اس کی آواز میں پختگی آنا شروع ہو گئی تو فلم والوں کے کانوں میں جب اس کی آواز اور خوبصورتی کے چرچے پہنچے تو انہوں نے فلم ”یملا جٹ“ جو لاہور میں بنی اور اس کی ریلیز کے ساتھ ہی فلم ”خاندان“ ”خزانچی“ میں بطور ہیروئن اور گلوکارہ کاسٹ کر لیا گیا جو بڑی کامیاب فلمیں رہیں، اُن کے بعد بمبئی میں فلم ”جگنو“ میں دلیپ کمار کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا بعد ازاں سید شوکت رضوی جو ایک خوبصورت نوجوان ڈائریکٹر تھے شادی کر لی اور دونوں نے بمبئی میں خوب عزت و شہرت حاصل کی اور نور جہاں کے فلمی نغمے جب ریڈیو سے نشر ہونے شروع ہوئے تو نورجہاں کے مقدر کو چار چاند لگ گئے اور انڈیا کے موسیقی سے وابستہ حضرات کو تسلیم کرنا پڑا کہ نورجہاں کی آواز میں جادو ہے، سحر ہے اور طلسم ہے اور مشہور مغنیہ لتا بائی اس کے علم کی معترف دکھائی دیں اور ہمیشہ ”دیدی“ کہہ کر یاد کیا کرتی۔
جب پاک وطن وجود میں آ گیا تو وہاں ہندوﺅں کے رویے جو آج بھی مسلمانوں اور پاکستان کے حق میں نہیں لاہور شفٹ ہو گئے تو سید شوکت حسن رضوی نے لاہور میں اپنے اور نورجہاں کے نام سے شاہ نور فلم سٹوڈیو تعمیر کر لیا جہاں پاکستان فلم انڈسٹری کو عروج حاصل ہوا۔ جو فلمیں لاہور میں ریلیز ہوتیں پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سب سے پہلے ریڈیو پاکستان سے اپنی فلموں کی تشہیر کے لئے رابطے کرتے اور اپنے فلمی گانوں کے ریکارڈ اور پھر آڈیو کیسٹ مہیا کرتے اور ریڈیو لاہور میں چار رکنی افراد پر ایک بورڈ مقرر تھا جو ان کو سُن کر کہ آیا یہ ریڈیو پاکستان کی پالیسی کے مطابق ہیں پھر ان کو نشر کرنے کی اجازت دیتا۔ فلم تو ایک عرصہ بعد سنیماﺅں میں اُتر جاتی لیکن نورجہاں کے گائے ہوئے نغمے اور گیت آج بھی ریڈیو پاکستان کے ہر سٹیشن سے سنائی دے رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نور جہاں ریڈیو پاکستان کی بڑی مشکور تھیں۔ ریڈیو پاکستان نے ہی نورجہاں کو ملکہ ترنم کا خطاب دیا اسی کے نام کا ریڈیو لاہور کے یاد باغ میں ان کے ہاتھ لگایا ہوا پورا اب تناور درخت بن چکا ہے موجود ہے۔
1965ءکی جنگ جو انڈیا نے ہم پر زبردستی مسلط کر دی تھی ملکہ ترنم نورجہاں ریڈیو پاکستان لاہور تشریف لائیں جبکہ ہوائی حملے اور سائرن بج رہے تھے اس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ صاحب نے نورجہاں کو صوفی تسبم کے کمرے میں لے جا کر کہا صوفی ملکہ ترنم تشریف لائی ہیں کلام لکھئے، ریکارڈ کروائیے مَیں منتظر ہوں۔ صوفی تبسم نے سب سے پہلے (میرے ڈھول سپاہیا تینوں ربّ دیاں رکھاں) لکھ کر ریکارڈ کروایا اور اسی وقت اس کو ہوائی لہروں کے سپرد کر دیا گیا تو ہمارے فوجی جوانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہو گیا اور وہ سمجھ گئے کہ قوم ہمارے ساتھ ہے اور جاگ رہی ہے۔ پھر ہر روز ایک نیا ترانہ سامنے آتا گیا جس سے دشمن کے چھکے چھوٹنے شروع ہو گئے۔ جب ترانہ گونجا (اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے نہ ڈھونڈ تُوں ایس بازار کُڑے) دشمن مزید بھاگنے لگا۔ پھر یہ نغمہ آن آئر گیا (میرے نغمے تمہارے لئے ہیں) تو دشمن کے ہوش ٹھکانے آ گئے کہ نشریاتی محاظ پر ریڈیو پاکستان لاہور کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ان ترانوں میں اتنا سحر تھا کہ ہمارے فوجی جوان اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑی فوج کو للکارتے ہوئے اس پر ٹوٹ پڑتے۔ لہٰذا 1965ءمیں اور اس کے بعد ریڈیو پاکستان کی کارکردگی پر اتنی داد دی گئی جو آج تک کسی دوسرے الیکٹرانک میڈیا کو نصیب نہیں ہوئی۔
پی ٹی وی نے بھی ترنم کے نام سے موسیقی کا ایک پروگرام شروع کیا جس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ریڈیو لاہور میں گائے ہوئے گیتوں اور نغموں کے ویڈیو بنا کر ٹیلی کاسٹ کئے جس پر سابق جی ایم ٹی وی لاہور کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے ملکہ ترنم نورجہاں سے نعتیں اور حضرت علامہ اقبال کا تحریر کردہ شکوہ جواب شکوہ بھی ریکارڈ کروایا جس کی گونج مصر کی مشہور گائیکہ اُم کلثوم تک پہنچی تو اس نے بھی نورجہاں کے ساتھ مل کر شکوہ اورجواب شکوہ گایا۔ سلطنت موسیقی کی ملکہ کہلانے والی کی زندگی آزمائشوں سے عبارت تھی، عزیزوں اور شوبز سے متعلق لوگوں سے بڑی شفقت سے پیش آتیں۔ ملکہ ترنم نورجہاں کے نام پر ریڈیو پاکستان لاہور نے ایک آڈیٹوریم بھی بنا رکھا ہے جس میں گاہے گاہے تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں ملکہ ترنم کی وفات کراچی میں 23 دسمبر 2000ءکو ہوئی۔ فانی کو آخر فنا ہونا ہوتا ہے نورجہاں تو آسودہ خاک ہو گئیں لیکن ان کا نام اور کام موسیقی کی دنیا میں زندہ رہے گا اور اس میں ریڈیو پاکستان کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جو ان کی برسیاں منانا رہتا ہے۔