سروں کا گلدستہ

23 دسمبر 2014
سروں کا گلدستہ

شاذیہ سعید
shazi730@hotmail.com
ملکہ ترنم نور جہاں کے گانے
ایک ایسی آوازجسے سن کر انسان کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جائے، جس نے غزل گائی ، نغمے گائے اور گانوں میں تو کمال ہی کر دیا۔ انہوں نے جو بھی گایا اس سے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔ تبھی کوگ انہیں ”ملکہ ترنم نور جہاں“ کہہ کر پکارتے ہیں۔میڈم کی آواز قدرت نے جچھ اسطرح بنائی کہ انہوں نے جو بھی گایا وہ ہٹ ہوا۔ایسا ملگتا ہے جیسے قدرت نے انکی آواز میں سروں کا گلدستہ سجا رکھا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انکے سروں میں کبھی کوئی کمی پیشی نہ ہوئی۔دیکھا جائے تو موسیقی کی دنیا کا ذکر س±روں کی ملکہ نورجہاں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، گیت ہو یا غزل ملکہ ترنم کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے۔ نورجہاں کو گزرے 14 برس ہوچکے ہیں مگر آج تک کوئی ان کی طرح فن کا جادو نہیں جگا سکا، کئی گلوکاروں نے ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش بھی کی ، مگر کوئی بھی نورجہاں کا ثانی تودور کی بات ان کے قریب تک نہ پہنچ سکا۔ فن گلوکاری ہویا اداکاری، دونوں میں ملکہ ترنم نورجہاں اپنی مثال آپ رہیں۔ بے شمار کامیاب فنکاروں کو پس پردہ آوازکے ذریعے کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والی عظیم گلوکارہ نے اپنا فلمی کیریئر 1930ءمیں خاموش اداکاری والی فلم ”حنا کے ترسے“ سے شروع کیا جبکہ فلمی ہیروئن کے طور پر ان کے کیرئیر کا آغاز 1942ءمیں فلم ”خاندان“ سے ہوا۔
اس فلم کیلئے غلام حیدر کے کمپوز کئے ہوئے تمام گانے اس دور کے مقبول ترین گانوں میں شمار ہوئے۔ انہوں نے ممبئی میں کئی بھارتی فلموں ” نادان، نوکر، لال حویلی، دل، ہمجولی اور جگنو “ وغیرہ میں کام کیا۔ بعدازاں قیام پاکستان کے بعد 1947ءمیں وہ لاہور منتقل ہو گئیں جہاں پرانہوں نے اداکاری اور گلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں بھی ملکہ ترنم نور جہاں نے دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل اور انار کلی میں کام کیا۔ بعد ازاں نور جہاں نے 1960ءسے 1970ءکے عشرے میں پنجابی فلموں کیلئے گانے گائے جو سپرہٹ ہوئے بلکہ ان میں سے بہت سے گیتوںکو شمار صدابہارگیتوں میں ہونے لگا۔میڈم نے اپنا پہلا فلمی گیت ”لنگ آجا پتن چنا دا او یار وے“ صرف آٹھ سال کی عمر میں 1935ءمیں فلم ”شہلا عرف پنڈ دی کڑی“ کے لئے گایا تھا جبکہ کسی بھی فلم میں گایا انکا آخری گانا ”کی دم دا بھروسہ یار“تھا جو انہو ں نے اپنی وفات سے دو سال قبل گایا۔انہوںنے تقریباً ایک ہزار فلموں کے لئے گیت گائے۔میڈم نے مرزا غالب، داغ دہلوی، نثار کاظمی، فیض احمد فیض ، احمد فراز، عبید اللہ علیم، قتیل شفائی، سیف الدین سیف اور افتخار عارف سمیت کئی شاعروں کی غزلیں گائیں۔ملکہ ترنم نور جہاں کے دل میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے 1965ءکی جنگ میں اپنی آواز میں رضا کارانہ طور پر کئی ترانے گائے جو کہ بڑے مقبول ہوئے اور ان ترانوں سے پاکستانی فوج اور عوام کا حوصلہ بلند ہوا۔جن میں ”اے پتر ہٹا ں تے نئی وکدے“، ”اے وطن کے سجیلے جوانوں“،” جاگ اے مجاہد وطن“ زیادہ مشہور ہیں۔نور جہاں کو اپنا گیت ”آواز دے کہاں ہے“ فلم انمول گھڑی سے بیحد پسند تھا اور وہ اکثر یہ گانا گنگناتی رہتی تھیں۔نصف صدی سے زائد عرصہ تک موسیقی کی سلطنت اور کروڑوں سامعین کے دل ودماغ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ ترنم نور جہاں نے ”پلے بیک سنگنگ“ میں جو اسلوب اور انداز وضع کیا وہ فلمی موسیقی کا لازمی جزبن گیا۔ وہ ایک عظیم گلوکارہ تھیں جن کے گائے لازوال گیت ہمیشہ ان کے نام اورفن کوزندہ رکھیں گے بلکہ آنے والی نئی نسلیں بھی ان کے فن سے بہت کچھ سیکھ سکیں گی۔