پھانسی گھاٹ سے آگے چلیں

23 دسمبر 2014

پھانسی گھاٹ کھلنے کے بعد یقین آنے لگا ہے کہ اب ظالموں کا یوم حساب آ چکا ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم شہداءکی ارواح نے اپنے ربّ کے حضور استغاثہ پیش کیا ہوگا کہ انہیں کس گناہ کی سزا دی گئی۔ قدرت کاملہ نے جنتی ارواح کے استغاثہ کا جواب دیا اور مجرموں کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل شروع ہو گیا۔ 2008 سے پھانسی گھاٹ مجرموں کے انتظار میں تھے۔ اس انتظار کی گھڑیاں 19 دسمبر 2014ءکی شب 9 بجے پوری ہوئیں جب جی ایچ کیو اور مشرف پر حملے کے 2 مجرموں کو جلاد نے تختہ دار پر لٹکا دیا۔ پھانسیوں کا آغاز افواج پاکستان کے مجرموں سے ہوا جن کے ڈیتھ وارنٹ پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دستخط کئے ساتھ ہی الطاف حسین کا مطالبہ سامنے آیا کہ اسلام آبا دمیں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کو گرا دیا جائے۔ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف سول سوسائٹی نے مظاہرہ کیا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی، حالات نے ثابت کر دیا کہ لال مسجد کے خلاف پرویز مشرف کا آپریشن درست تھا۔ مولانا عبدالعزیز نے دہشت گرد طالبان کو سینے سے لگا رکھا ہے۔ کہتے ہیں دنیا بھر کے علماءسے مناظرے کے لئے تیار ہوں، ثابت کر دوں گا آپریشن ضرب عضب غیر شرعی ہے جبکہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ بڑھانے، دہشت گردوں اور انکے مددگاروں کے خلاف بھر پور کارروائی کا فیصلہ جی ایچ کیو میں ہو چکا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر دکھائی دے رہی ہے۔مولانا عبدالعزیز جیسے دینی حلقوں میں ایسے عناصر کی کمی نہیں جن کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ظاہری طور پر دہشت گردوں کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن طالبان کا نام لینے سے کتراتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ منافقت سے کام نہیں چل سکتا۔ سول سوسائٹی کے خیالات اور جذبات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ جس تیزی کے ساتھ دہشت گردوں کی سرکوبی اور خاتمے کے لئے کام شروع ہوا ہے۔ وہ جنرل راحیل شریف کا مرہون منت ہے۔ جو سانحہ پشاور کے اگلے روز ہی کابل گئے اور افغانستان کو پیغام دیا کہ مُلا فضل اللہ کو ماریں یا حوالے کریں۔ دہشت گردی کے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک بھی حرکت میں آ چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان کی تیاری جاری ہے۔ سول اداروں کو افواج پاکستان کے تابع رہ کر بغیر کسی حیل وحجت کے دہشت گردوں کا صفایا کرنا پڑے گا۔ اس موضوع پر اب نہ سیاست چلے گی نہ نرم گوشہ کسی کو فائدہ دے گا۔ طالبان کے نظریاتی دوست عوام کی نظروں میں گر چکے ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ طالبان ملک کے کونے کونے میں کیسے براجمان ہوئے۔ ہر تھانیدار کو پتہ ہوتا ہے کہ اسکی حدود میں کون کون سے لوگ سماج دشمن، اسلام دشمن اور پاکستان دشمن ہیں تھانے کی حدود میں کتنے جوئے خانے، کتنے چرس کے اڈے، قحبہ خانے، بدکاری کے اڈے، کتنے کن ٹُٹے ہیں، ناجائز اسلحہ کس کس کے پاس ہے، کس کس کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ 33 خفیہ اداروں اور پولیس کو طالبان اور ان کے مددگاروں کا علم نہ ہو۔ تھانیداروں کو پتہ ہوتا ہے کے کس کس مسجد کا امام کون سے ملک کا ہے۔ اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار کون سے ہیں؟ آرمی پبلک سکول پر حملے نے حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگایا ہے۔ حکمران مجبور ہوئے ہیں کہ دہشت گردوں کا خوف دل سے نکال دیں اور سچ مُچ ان پر تابڑ توڑ حملے کریں۔ اگر معصوم جانیں نہ جاتیں تو کام چل ہی رہا تھا۔ مصلحتیں آڑے آئی ہوئی تھیں کہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کا ڈر تھا تو کہیں یورپی یونین کا خوف۔ حالانکہ حکمرانوں کے سامنے زندہ مثالیں ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کی بھی دہشت گرد یا انسانیت دشمن کو لٹکانے میں لمحے بھر کی تاخیر نہیں کرتے۔
حکومت وہاں تک پہنچ کیوں نہیں پائی جہاں خودکش بمباروں دہشت گردوں کی فصلیں اور نسلیں تیار ہو رہی ہیں۔ شریعت کے نفاذ کی خواہش مند دینی جماعتیں طالبان القاعدہ داعش ہی نہیں سارے اہل پاکستان ہیں۔ جہاد کے نام پر تربیتی مراکز کون چلا رہا ہے؟ کیا یہ تنظیمیں ماورائے آئین، مملکت اور قانون ہیں؟ کیا یہ انتہا پسندانہ سوچ اور عدم برداشت کا پیکر نہیں ہیں؟ ختم قل، چہلم، نعت خوانی، درود و سلام کی محافل، مجالس عزا، بزرگان دین کے عرس اور مزارات کن لوگوں کی برداشت سے باہر ہیں؟ کون عید میلاد النبی کے لئے تاویلات ڈھونڈتے ہیں؟ دہشت گردی کے نام سے اے پی سی کا عملاً کوئی فائدہ نہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو عساکر پاکستان لڑ رہے ہیں۔ ہم تو آپس میں دست گریبان ہیں۔ فرقہ واریت کیسے ختم ہو گی اس پر اے پی سی کون بلائے گا؟ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، تیونس، مصر اور ملائشیا میں مذہبی تنازعات سر نہیں اٹھاتے۔ انتہا پسندی بھی اس حد تک نہیں جاتی جہاں گرد نیں کاٹ دینا معمول بن جائے۔ دینی مدارس اور مذہبی تنظیموں کو کسی ضابطے اور ڈسپلن کا پابند کون بنائے گا؟ مساجد مساجد رہیں تو ٹھیک، لال مسجد بن جائیں تو سول سوسائٹی جاگ اٹھتی ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات کے لئے فوجی عدالتیں بننے جا رہی ہیں۔ خواجہ آصف نے تسلیم کیا ہے 2013ءمیں طالبان سے مذاکرات نہیں فوجی آپریشن ہونا چاہئے تھا ۔ اب یوں لگتا ہے مذہبی ڈسپلن کے لئے پالیسی بھی فوج کو بنانا پڑے گی۔ حکومتوں کے اغماض سے پاکستان نام نہادجہاد، مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا گڑھ بن گیا ہے۔ 1947ءکا پاکستان تو ایسانہ تھا۔ سیاسی قائدین کے لئے اب جاگنے کا وقت ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اربوں ڈالر کے ایم او یوز، موٹرویز، میٹرو بس اور لیپ ٹاپ کی فراخدلانہ تقسیم ملکی سلامتی اور یکجہتی کو یقینی نہیں بنائیں گے ہمیں ان قائدین کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی اور جو کہتے تھے کہ ہمارے دل طالبان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
دہشت گردی کا خاتمہ ہماری سلامتی اور بقا کا مسئلہ ہے ۔محض کمیٹیوں اور کمیشنوں سے بات نہیں بنے گی۔ فوری طور پر ہر حکومت کے پاس نہ کوئی ایکشن ہے اور نہ ہی پلان۔ صدر ممنون حسین کے نزدیک دہشتگردوں کا قلع قمع ہی واحد علاج ہے۔ پاکستان میں آج تک وہ کام نہیں ہوا جسے کمیٹیوں اور کمیشنوں کی نذر کر دیا گیا۔ حکومت نااہلی او نالائقی کے سبب لوگ بے چارے دھرنوں سڑکوں جلسے جلوسوں میں رُلتے رہتے ہیں۔ ماضی میں دہشت گردی کے درجنوں ہولناک واقعات رونما ہوئے لیکن دہشت گردوں کے لئے پھانسی گھاٹوں کو کیوں بند رکھا گیا؟ دہشت گردوں کا مقصد اور پلان ایک ہے کہ پاکستان کو کمزور کر دیا جائے۔ پاک بھارت جنگوں اور سقوط مشرقی پاکستان نے ہمیں اتنا نڈھال نہیں کیا جتنا ایک عشرہ سے زیادہ عرصے پر محیط دہشت گردی نے کیا ہے۔ 2008ءسے 2012ءکے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے 14155 دہشت گردوں کو چھوڑ دیا 10387 دہشت گردوں کی ضمانت منظور کی۔ سانحہ پشاور کے دو روز بعد ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملہ کیس کے ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت منظور کی۔جنرل ضیاءکے دور میں پپو کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی گئی۔اب بھی سرعام پھانسیوں کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی نہیں قاتل اور جرائم پیشہ عناصر بھی عبرت پکڑیں ۔جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے، نصاب تعلیم میں تبدیلیاں لائی جائیں، نیکٹا کو وزارت داخلہ سے نکال کر جی ایچ کیو کے حوالے کیا جائے۔نیکٹاکو 32 ارب روپے کی ضرورت ہے جبکہ بجٹ میں 9 کروڑ 20 لاکھ دیئے ہیں، اسلام آباد میٹرو بس زیادہ اہم ہے جس کے لئے 44 ارب دئیے گئے، کیا یہی رقم میٹرو بس سے Nacta کی طرف نہیں جا سکتی؟