فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

23 دسمبر 2014

فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
-1 یہ کیسا سانحہ ہے کہ بیک وقت سینکڑوں پھول زندگی کی شاخ سے توڑ دئیے گئے ۔ دستِ قاتل نے خون کا دریا بہا دیا ۔ بے رحم سوچ نے ساری قوم کو ماتم کناں کر دیا ۔ تمام دنیا انگشتِ حیرت منہ میں ڈالے سوچ رہی ہے کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے! فرقہ وارانہ جنون رقص ابلیس میں ڈھل سکتا ہے! انسان اس قدر پست اور بے ضمیر بھی ہو سکتا ہے۔ جس رسول کے ہم نام لیوا ہیں انہوں نے جنگی اصول ہمیں چودہ سو سال قبل ذہن نشیں کرائے تھے۔ فتح مکہ کے وقت رسالت مآب نے جو حکم نامہ جاری کیا اس کا اطلاق آج بھی مذہب حقہ کا جزو لاینفک ہے۔ بے شک معصوم بے گناہ اور پھولوں سے نازک بچے حدودِ وقت سے آگے نکل گئے ہیں لیکن وقت ٹھہر گیا ہے۔ ان کی یاد کی خوشبو ہر گھڑی ہر لحظہ دلوں میں تازہ رہے گی۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے ساری قوم کو صرف ہلایا ہی نہیں بلکہ جگا دیا ہے۔ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح پاکستانی متحد اور متفق ہو گئے ہیں۔اس کا اندازہ کمیں گاہوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو بھی ہو گیا ہے۔
-2 برصغیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ تاریخ عالم میں بھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ حسن بن صباح کے باطنینوں سے بھی اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لوگ تلوار سے ٹارگٹ کلنگ کرتے تھے اور واردات کے بعد دوڑ جاتے تھے۔ یہاں سینکڑوں کی تعداد میں خودکش بمبار تیار کئے گئے ہیں جو ایک مخصوص نظریہ کے پرچارک ہیں۔ ان کے ہاتھوں پاکستان میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ خود بھی ہزاروں کی تعداد میں مر چکے ہیں لیکن جنگی جنون ہے کہ تھمنے میں نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ درست ہے کہ مغربی طاقتوں نے اسرائیل اور یہودیوں کی شہہ پر عالم اسلام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ یہودی ریاست کا ناسور ان کے دل میں گاڑ دیا ہے لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ یہودیوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے مسلمان ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو گئے ہیں۔ جو کچھ عراق‘ شام اور افغانستان میں ہو رہا ہے اس کی جھلک یہاں پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
-3 ہر مذہب میں فرقے ہیں اور مسالک بھی جدا ہیں۔ ایسا ہی اسلام میں بھی ہے لیکن کہیں بھی کوئی فرقہ اپنا نظریہ مسلط کرنے کے لئے بندوق نہیں اٹھاتا۔ پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل اور دیگر علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ہے۔ ”اپنا مسلک مت چھوڑو اور دوسرے کا مسلک مت چھیڑو۔ اگر اس زریں اصول پر عمل کیا جائے تو کبھی لڑائی جھگڑے کی نوبت نہیں آئے گی۔ بالفرض کوئی مفاد پرست ان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرنی چاہئے لیکن اس وقت جذبات اور جنون جس نہج پر پہنچ چکے ہیں کوئی آسان حل دکھائی نہیں دیتا۔ دہشت گردی کی جو لہر اٹھی ہے وہ اپنا ”سرکل“ مکمل کرے گی۔ اس کا مقابلہ صبر‘ تحمل‘ یکجہتی اور قربانیاں دے کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کو ختم تو بالٓاخر ہونا ہی ہے۔ خونچکاں داستانیں تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔ سوچنے والی بات صرف یہ ہے کہ جب ہماری آنے والی نسلیں اپنی تاریخ پڑھیں گی تو ان کی ہمارے متعلق کیا رائے ہو گی یا وہ شہدا جنہوں نے پاکستان بننے کے لئے تن‘ من اور دھن کی قربانی دی جب ان کی روحیں اس ملک کا طواف کرتی ہوں گی تو کس قدر مضطرب اور مضمحل ہوتی ہوں گی۔ ہمارا اصل دشمن تو سرحد کے پار بیٹھا حظ اٹھا رہا ہے۔ بغلیں بجا رہا ہے اور شاید گنگنا رہا ہے
زہر کیوں دیں اسے جو مرے شِیر کے ساتھ
-4اگر افغانستان کا امریکن میڈ صدر حامد کرزئی گزشتہ 8 برسوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر حکمت عملی بناتا تو اب تک دہشت گردی کا عملاً خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ اس خود ساختہ صدر نے جتنا نقصان ان دو ممالک کو پہنچایا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ یہ شخص انڈین لابی کا خاص مہرہ ہے جو ایک دن اپنا سبز چغہ چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔ اب وہ بھی مشکل نظر آتا ہے۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ ہو گیا ہے۔ مغرب اور پاکستان ایسے احسان فراموش کو پناہ نہیں دیں گے۔ طالبان بھی اسے کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ اشرف غنی بھی زیادہ دیر تک اس کے سر پر دست شفقت نہیں رکھ پائے گا۔
-5جرمنوں نے (Geo political determinisim) تھیوری سائنٹفک انداز میں پیش کی اس کے سادے الفاظ میں معانی یہ ہیں کہ کسی ملک کی سیاست کو اس کے جغرافیے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جغرافیائی حالات سیاست پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے نئے صدر اشرف غنی کو اس کا ادراک ہے۔ جب تک پاکستان اور افغانستان مل بیٹھ کر پالیسی نہیں بناتے طالبان اور ہندوستان کا موثر انداز میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آسانی کے ساتھ کبھی سرحد کے اس پار آ جاتے ہیں تو کبھی دوسری طرف نکل جاتے ہیں۔ دیر بعد ہی سہی اب تو عبداللہ عبداللہ بھی اشرف غنی کا ہمخیال اور ہم نوا نظر آتا ہے۔ اس بقائے باہمی اور یگانگت کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کا کافی حد تک کریڈٹ جنرل راحیل شریف کو بھی جاتا ہے۔ اگر یہ میجر شبیر شریف (نشان حیدر) کا بھائی اور میجر عزیز بھٹی (ن ح) کے بھانجے نہ بھی ہوتے تو بھی انہوں نے عسکری ہسٹری میں اپنے مقام کا تعین کرنا ہی تھا۔ ہمارے ڈرے ڈرے سہمے سہمے لیڈروں کو اپنے عمل سے ہمت اور حوصلہ بخشا ہے۔
-6 عمران خان نے حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا طویل دھرنا اور روز بروز مقبولیت حاصل کرتے ہوئے جلسے جلوس ختم کر دئیے ہیں۔ ان اقدامات کو عوام نے سراہا ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب گزشتہ الیکشن میں اس کی انتخابی مہم نصف النہار پر تھی تو وہ سیڑھی سے گر کر مرگ و زیست کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ نتیجتاً سیاسی سطح پر ہر چہ بادا باد ہو گیا اب جبکہ اسے منزل قریب نظر آ رہی تھی تو ایک بہت بڑا قومی سانحہ رونما ہو گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے حکمران بھی اسی قدر غمناک ہیں جتنی کہ ساری قوم آزردہ ہے۔ ویسے بھی بے یقینی کی کیفیت میں موثر طور پر حکومت نہیں چلائی جا سکتی لیکن اس کو نااہل مشیروں اور دربانوں سے بدتر درباریوں کے ایما پر کبھی ”رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت“ نہیں سمجھنا چاہئےِ، نہ ٹال مٹول سے کام لینا چاہئے۔ خطرہ ٹلا نہیں‘ ہنوز منڈلا رہا ہے۔ معاملات افہام و تفہیم اور خلوص نیت سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ایک ضرورت سے زیادہ انگریزی بولنے والے دوست نے درست ہی کہا ہے۔
"Mian Nawaz Shrif shoold anticipate the course of events and take time by the forlock"
میاں صاحب کو آنے والے حالات کا ادراک ہونا چاہئے اور وقت کی پیش بندی کرنی چاہئے۔ خدانخواستہ اب کے بات بگڑی تو بہت دور تلک جائے گی۔