ترے نام سے…

23 دسمبر 2014

تعوّذ (اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم) پڑھ لینے سے انسان ایک مقدس اور مبارک روحانی حصار میں آجاتا ہے ۔ اپنے نہاں خانہ دل کو صاف کر لیتا ہے۔ کوئی گھر صاف ہوجائے تواب اسے آراستہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔جسم کی آرائش وزیبائش (تخلیہ) سے پہلے میل کچیل اور آلائشوں سے پاک کیا جاتا ہے (تخلیہ)۔ تعوذ پڑھنے کے بعد انسان اپنے پاک پروردگار کے مبارک نام سے آغاز کرتا ہے اور کہتاہے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے نام سے جو غایت درجہ کا مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والاہے۔ جب شیطان رجیم اور ہرماسوا اللہ سے تعلق اور علیحدگی کا اعلان ہوگیا تو اب اللہ رحمان ورحیم کی طرف متوجہ ہونے کا مرحلہ ہے باطل اور گناہ سے رستگاری کے بعد حق اور ثواب سے آراستگی ضروری ہے۔ شر سے حفاظت تو ہوگئی اب خیر کی عنایت بھی طلب کرنی ہے۔

باطنی طہارت کے مرحلے سے گزر گئے تو اب روحانی سفر بھی شروع ہونا چاہیے۔گمراہی سے بچ گئے تواب ہدایت کی طلب ہے۔ عزم سفر کرلیا تو منزل کی طرف گامزن بھی ہونا ہے۔ پرہیز کے بعد علاج بھی ہے، حسد، بغض، عناد اورغصے سے پناہ مانگ لی تو رحمت ورافت کی صفات سے آراستہ بھی ہونا ہے۔ غیراللہ سے دور ہو گئے تو بارگاہِ خدا کے قرب ووصال سے لذت آشنا بھی ہونا ہے۔ سو انسان ادارک اور شعور کی کیفیت سے آراستہ ہوکر اللہ کا مبارک نام لیتا ہے اورکہتا ہے کہ میں اس اللہ کے نام سے آغاز کر رہا ہوں جو رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ ’’اللہ‘‘ کا اسمِ مبارک اپنے ذیل میں ’’حیرت وتحیر‘‘ کے معنی رکھتا ہے۔ ایک ایسی ذات جس کے عرفان کی کوئی آخری منزل نہیں ہے‘ جس کی شناسائی کا آخری مرحلہ کبھی آتا نہیں ہے۔ مومن جب ایسے پروردگار سے وابستہ ہو جاتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ اسکے اپنے مزاج میں بھی آفاقیت آنی چاہیے۔ اسکے علم کی آخری منزل کبھی نہیں آنی چاہیے۔ اسے کسی بھی منزل شوق کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ رحمن وہ ذات ہے جسکی رحمتیں بے کنار اور بے حد و حساب ہیں۔ رحیم وہ ہے جس کی رحمت میں کبھی انقطاع نہیں ہوتا۔ اس کا پہل اتعارف رحمت و رافت کا ہے، کرم اور مہربانی کاہے۔ اسکے نام کاوردکرنے والابھی اسکی ان صفات کا مظہر ہونا چاہیے۔ مومن اپنا آغاز بنامِ اِلہٰ کرتا ہے۔ اس ’’بائ‘‘ میں معیت (ساتھ) کا معنی ہے۔ استعانت (مدد) کا معنی ہے۔ بر کت کا معنی ہے یعنی نامِ خداہروقت میرے ساتھ ہے، ہمیشہ میرامدد گار ہے اور میرے ہرکام میں مسلسل برکتوں، رحمتوں اور رافتوں کا نزول ہورہا ہے۔
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں توہواکے رُخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے