دہشت گردی سے مستقل نجات کے لئے عدلیہ کی فعالیت بھی ضروری ہے

23 دسمبر 2014

قومی پارلیمانی ورکنگ گروپ کی متعدد اقدامات کی سفارش، چودھری نثار کی وارننگ اور سندھ و پنڈی ہائیکورٹ سے سزاﺅں کی معطلی

 

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی سربراہی میں جاری قومی پارلیمانی ایکشن کمیٹی کے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں قلیل المدتی اور وسط مدتی سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ ان سفارشات میں مدارس کو ملنے والے غیر ملکی فنڈز‘ مدارس کی غیر قانونی جگہوں پر تعمیر‘ سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگ‘ غیر رجسٹرڈ مدارس کی فوری بندش‘ فوجی عدالتوں کے قیام اور طریقہ کار‘ اسلحہ پالیسی میں تبدیلیاں لانے‘ انسداد دہشت گردی کے قوانین میں مو¿ثر تبدیلی کرنے سمیت مختلف امور شامل ہیں۔ تمام سفارشات کے عمیق جائزے کے بعد یہ سفارشات قومی پارلیمانی کمیٹی کو پیش کی جائیں گی جس کی منظوری کے بعد وزیراعظم کو پیش کر دی جائیں گی۔ ورکنگ گروپ نے انسداد دہشت گردی سے متعلق 16 قوانین کا جائزہ لیا اور نیکٹا کو مزید مضبوط اور فعال کرنے کی سفارش کی۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کلین اپ اور قانون کرایہ داری میں ترمیم پر غور کیا گیا۔ تین حصوں میں حکمت عملی تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا جو فوری، قلیل المدتی اور وسط مدتی ہو گی۔ ورکنگ گروپ نے مخصوص حالات، علاقوں کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام، انسداد دہشت گردی عدالتوں کی سکیورٹی بہتر بنانے، دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں کا تحفظ یقینی بنانے کی تجاویز دیں۔ قبل ازیں انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے حکومت کو تجاویز پیش کیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے مدارس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ نفرت انگیز لٹریچر اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے اخبارات وجرائد پر پابندی عائد کی جائے۔
دہشتگردوں نے 16 دسمبر کو جس بربریت کا مظاہرہ کیا قوم آج بھی اس کے سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے، شہدائے سانحہ پشاور کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہاہے دہشتگردی کا نشانہ بننے والے سکول میں شہریوں کی آمد اور شمعیں روشن کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سکول کا دورہ کیا اور کئی شہداءکے لواحقین سے بھی ملے۔
بہیمانہ دہشتگردی کے فوری بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد بحال کر دیا جس پر دو دن کے وقفے سے 6 دہشتگردوں کو پھانسی دیدی گئی، مزید کے بلیک وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ سکھر اور لاہور میں کچھ دہشتگردوں کو آج پھانسی پر لٹکایا جانا تھا جن کی سزا پر متعلقہ ہائیکورٹس نے عملدرآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو حکم امتناعی ختم کرانے کے لئے قانون کے مطابق اقدام کی ہدایت کی ہے۔ دہشتگردوں کے لواحقین نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹس سے رجوع کیا تھا۔ بلاشبہ دہشتگرد انسانیت کے قاتل ہیں اور وہ کسی رو رعایت کے مستحق نہیں تاہم کسی بھی مجرم کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر پھانسی نہیں دی جا سکتی۔ سزائے موت کے قیدیوں کے بھی حقوق ہیں ان کی لواحقین سے ملاقات، وصیت کی تحریر اور آخری خواہش کا اظہار وغیرہ شامل ہے۔ اسی طرح مجرمان کو ایک عدالت سے سزا کے بعد دیگر مجاذ عدالتی فورموں پر اپیل اور پھر صدر سے رحم کی اپیل کا حق حاصل ہے۔ فوجی عدالتوں کا سزا یافتہ قیدی آرمی چیف سے اپیل کر سکتا ہے۔ ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ ہائیکورٹس کی نظر میں اگر کہیں کوئی سقم رہ گیا ہے تو وہ جلد دور کر لیا جائے گا۔ حکومت اور فوج جس طرح دہشتگردوں کے خاتمے کےلئے پُرعزم اور ایک پیج پر ہے اس سے قوم کو جلد دہشتگردوں سے نجات مل سکتی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے میں عدلیہ کا بھی کردار ہے۔ ہائیکورٹس نے جس طرح سزائے موت کے قیدیوں کی اپیل پر فعالیت دکھائی ہے ایسی ہی فعالیت سے قوم دہشتگردی کے مقدمات نمٹائے جانے کی بھی امید رکھتی ہے۔ خصوصی عدالتوں نے سات روز میں فیصلہ دینا ہوتا ہے مگر کئی عدالتوں میں کئی سال تک مقدمات لٹکے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس ناصر الملک نے کل اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان کا اجلاس طلب کر رکھا ہے اس میں یقیناً دہشتگردی کے مقدمات تیزی سے نمٹانے کی حکمتِ عملی پر غور کی توقع ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے عدالتوں کا فعال ہونا اور ججوں کی طرف سے بلاخوف فیصلے کرنا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نواز شریف ضربِ عضب آپریشن سے مطمئن ہیں اور اپریشن کے نتائج کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کا مل کر خاتمہ کریں گے ان کا کہنا ہے حکومت اور سوسائٹی فوج کے ساتھ ہیں۔ پاک فوج کو حکومت اور قوم کی طرف سے ایسے ہی حوصلے کی ضرورت ہے۔ آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کی سفاکیت کے بعد فوجی کارراوئیوں میں تیزی آئی اور تین چار روز میں دو سو کے قریب دہشتگردوں کو ہلاک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ گزشتہ روز 200 دہشتگردوں نے وانا چیک پوسٹ پر حملہ کیا تو جوابی کارروائی میں 25 کو ڈھیر کر دیا گیا ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے وارننگ دی ہے کہ دہشتگرد سانحہ پشاور جیسے حملے کی تیاری کر رہے ہیں، اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور حامیوں کو ملک میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ پشاور میں معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کرنے پر جیلوں میں دس سال سے پڑے سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل شروع ہو گیا۔ جس قسم کے خدشات کا اظہار وزیر داخلہ نے کیا ہے ایسا ہونے کی صورت میں قوم شاید دہشتگردوں کے لواحقین کے”محاسبہ“ کے تقاضہ سے بھی گریز نہ کرے۔ آرمی چیف نے غیر ملکی دہشتگردوں کو ملک چھوڑنے کی وارننگ دی ہے دوسری صورت میں ان کا نام و نشان مٹانے کا عزم ظاہر کیا ہے، یہی ان کے لئے بہتر ہے۔ مقامی دہشتگرد اپنی جان بچانے اور اپنے لواحقین کو قوم کی نفرت کا نشانہ بننے سے بچانے کے لئے سرنڈر کر دیں۔ کئی دہشتگردوں کے لواحقین ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے جب پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ملاقاتوں کے لئے لاتعلقی کا اعلان کرنے والے موجود تھے۔ اعلان لاتعلقی اور عاق نامے کے اشتہار شائع کرانے سے خون کے رشتے ختم نہیں ہو جاتے۔ اس کا احساس ان لوگوں کو ہونا چاہئے جن کے بچے گمراہ ہو کر دہشتگردی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے ان کے خلاف سخت کارروائیاں اور قانون کے مطابق سزائے موت پر عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ حکمرانوں کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ دشمن کی اس لئے پہچان ممکن نہیں کہ وہ ہم میں سے ہے، قوم ساتھ ہو تو وہ اپنے اندر موجود دشمن کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ دہشتگردی ایک سوچ کا نام ہے، دہشتگردوں کا خاتمہ اس سوچ کی موجودگی میں ممکن نہیں، یہ سوچ کہاں بیدار ہوتی اور پنپتی ہے اس آماجگاہ کا خاتمہ کرنا ہو گا، دہشتگردوں کی نرسریوں کو تباہ کرنا ہو گا۔ یہ کام حکومت، فوج اور عوام مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے حکومت کا پرعزم راسخ ہونا اور اس کی طرف سے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ دہشتگردی کا جڑوں سے خاتمہ دہشتگردوں کے حامیوں اور ان سے تعاون کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے اس کے لئے ورکنگ گروپ کی میڈیا میں آنے والی تجاویز پر جتنا جلد ممکن ہے عمل ہونا چاہئے۔ ورکنگ گروپ میں فوری، قلیل المدتی اور وسط مدتی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ طویل المدتی حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کی آمدورفت افغان بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے اسے بھی روکنے کی اسی طرح کوشش کی جائے کہ ڈیورنڈلائن مستقل بن جائے اور اس پر دیوار کی تعمیر شروع کر دی جائے۔ اسے طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ مدارس کا معائنہ، ان میں یکساں نصاب ضروری ہے جو مدارس ایسا کرنے سے گریز کریں ان پر پابندی لگانے میں تامل نہ کیا جائے۔ نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت تو کجا، اس کی موجودگی بھی ناقابل برداشت ہونی چاہئے۔ خصوصی عدالتوں کے ہوتے ہوئے فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں۔ جو جج حضرات خوفزدہ ہو کر مقدمات کی سماعت سے گریز کرتے ہیں ان کی جگہ نڈر، دلیر اور محب وطن جج تعینات کر دئیے جائیں۔ ایسے علاقوں میں فوجی عدالتیں مخصوص تعداد میں بنائی جا سکتی ہیں جہاں جوڈیشری کے لئے کام کرنا ممکن نہیں ہے، ان علاقوں میں ممکنہ حد تک کم تعداد میں ملٹری عدالتیں صرف دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کریں۔ ہمیں ہر صورت دہشتگردی سے نجات حاصل کرنی ہے، وقتی طور پر نہیں ہمیشہ کے لئے اور وہ بھی کم از کم دورانیہ میں۔ حکومت اور قوم دہشتگردوں کے خلاف مصروف عمل فوج کی پشت پر موجود رہی تو انشاءاللہ دہشتگردی سے نجات اور دہشتگردوں کے مکمل صفایا کا مقصد جلد حاصل کر لیا جائے گا۔