بلوچستان میں آٹھ نامعلوم افراد کی مسخ شدہ نعشوں کی برآمدگی

23 دسمبر 2014
بلوچستان میں آٹھ نامعلوم افراد کی مسخ شدہ نعشوں کی برآمدگی

بلوچستان کے ضلع پشین کے نواحی علاقوں بیکلزئی اور خانوزئی سے پانچ نامعلوم افراد کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے، ان کے جسموں پر تشدد کے نشان بھی پائے گئے ہیں۔ اسی طرح زیارت کے نواحی علاقے سجاوی سے بھی تین افراد کی نعشیں ملی ہیں انہیں بھی تشدد کر کے اور گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ ابھی تک ان واقعات کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی جبکہ نعشوں کی بھی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔ دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے اس ملک میں بلوچستان کی صورتحال اس لئے بھی تشویشناک ہے کہ وہاں علاقائیت اور فرقہ واریت کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی زیادہ وارداتیں ہوئی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی اندھی وارداتوں میں ناراض بلوچ قوم پرستوں کا عمل دخل ہے جن کے بارے میں ایف سی اور دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمات میں پیش بھی کئے جاتے رہے ہیں جبکہ بی ایل اے اور دوسری بلوچ قوم پرست عسکری تنظیموں کو بھارت کی سرپرستی اور ہر قسم کی مالی اور حربی مدد حاصل ہونے کے شواہد بھی حکومتی ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں، یہ تنظیمیں ملک سے باہر بیٹھ کر بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلا رہی ہیں جس میں آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ قومی پرچم کو نذر آتش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا جبکہ یہی تنظیمیں زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کو بھی مسمار کر چکی ہیں۔ موجودہ دورِ حکومت میں ڈاکٹر عبدالمالک کو اسی تناظر میں قومی اتفاق رائے سے بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر نامزد کیا گیا تھا کہ وہ بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں کو سیاست کے قومی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے اور ان کی شکایات کا ازالہ کر کے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائیں گے، اس سلسلہ میں ان کی جانب سے کی گئی کوئی قابل قدر کوشش تو نظر نہیں آتی مگر ان کا دور بھی ان کے پیشرو وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کے دور کی طرح ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ واریت کی بنیاد پر دہشت گردی کی بدترین مثال ہی بنا ہوا ہے جو بلوچستان کی گورننس پر ایک بدترین دھبے کے مترادف ہے۔ بلوچستان کے اضلاع پشین اور زیارت سے آٹھ افراد کی نعشیں برآمد ہونا وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے جبکہ بادی النظر میں ان سب مقتولین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ ان سب کی موت سر میں گولی مارے جانے سے واقع ہوئی ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنے صوبے میں امن و امان بحال کرنے کے اہل ثابت نہیں ہوتے تو ان کے اپنے منصب برقرار رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ برآمد ہونے والی نعشیں جن افراد کی بھی ہیں ان کے قتل کے پس پردہ محرمات کا بہر صورت کھوج لگایا جانا چاہئے اور ان کے قاتلوں کو تلاش کر کے کیفر کردار کو پہنچایا جانا چاہئے بصورت دیگر بلوچستان میں کسی بھی شہری کے تحفظ کی ضمانت نہیں مل سکے گی۔