بھارت میں مذہب کی جبری تبدیلی

23 دسمبر 2014
بھارت میں مذہب کی جبری تبدیلی

بھارت میں مسلمانوں کے بعد 225 عیسائیوں کو بھی زبردستی ہندو بنا لیا گیا۔ یہ ہمارے بھائی تھے جنہیں زبردستی مسلمان یا عیسائی بنایا گیا تھا۔بھارت میں موجودہ ہندوانتہا پسند مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اقلیتوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ متعدد انتہا پسند تنظیمیں جن میں وشواہندو پریشد سرفہرست ہے وہاں کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو جبراً ہندو بنانے کے درپے ہے جس کا مظاہرہ مسلمان اور عیسائی برادری کے غریب لوگوں کو زبردستی ہندو بنا کر کیا جا رہا ہے۔ جبری مذہب کی تبدیلی کی اس لہر سے سیکولر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ اب اگر ”شدھی“ کی اس جدید تحریک کے جواب میں بھارت میں موجود کروڑوں مسلمان اور عیسائی بھی متحد ہو کر ”ہندوتوا“ کے خلاف صف آرا ہو گئے تو اسکا انجام بھارت کے کئی مزید ٹکڑوں کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو کسی ایسی خطرناک صورتحال کا پہلے ہی سے ادراک کرتے ہوئے اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کی اس مہم کو روکے۔ اگر مودی سرکار واقعی سیکولر بھارت پر یقین رکھتی ہے تو اسے بھارت میں آباد تمام مذہبی اقلیتوں کے مذہبی اور انسانی حقوق کا خیال رکھنا اور احترام کرنا ہو گا اور جبری مذہب کی تبدیلی کی یہ مہم روکنا ہو گی۔