پھلوں اور سبزیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے

23 دسمبر 2014
پھلوں اور سبزیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے

محکمہ زراعت پنجاب فیصل آباد نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے 14ملین ٹن پھل اور سبزیوں کا ایک تہائی حصہ صارفین کے پاس جانے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ اس کی آبادی کا زیادہ تر حصہ دیہات میں رہتا ہے جو پیشہ زراعت سے منسلک ہے ہمارے ملک کی اکانومی کا دارومدار زراعت پر ہے لیکن حکومت نے کسانوں کی بہتری اور زراعت کو بڑھانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کئے۔ پاکستان کا آم‘ مالٹا دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں کی سبزیاں بھی عرب امارات میں بہت مقبول ہیں لیکن حکومت کی عدم توجہی کے باعث آج ہمارے پھلوں اور سبزیوں کا ایک تہائی حصہ ضائع ہو رہا ہے۔ ہم نے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھا لیے۔ لاہور کو فلائی اوور کے جال میں جکڑ دیا لیکن آڑھتیوں اور پھل فروشوں کے لئے کوئی ایک کولڈ سٹوریج نہیں بنا سکے۔ محکمہ زراعت پنجاب نے خود اعتراف کیا ہے کہ سبزیاں اور پھل ضائع ہو جاتے ہیں۔ حکومت اگر سبزیوں اور پھلوں کو سٹور کرنے کے لئے بڑے کولڈ سٹوریج بنائے تو اس سے ہم نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ دیگر ممالک کو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ ایک زرعی ملک میں سبزیوں اور پھلوں کا یوں ضائع ہونا کسی المیے سے کم نہیں حکومت شعبہ زراعت مضبوط کرنے کے اقدامات کرے۔ پھلوں اور سبزیوں کو عوام تک پہنچانے کا بندوبست کرے تاکہ ہم کسی دوسرے ملک کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔