دہشت گردی کیسز کا ٹرائل تیز کیا جائے: وزیراعظم

23 دسمبر 2014

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے اٹارنی جنرل اور حکومت کی قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ مختلف عدالتوں میں جہاں دہشت گردوں کو پھانسیوں کی سزا پر عملدرآمد کے خلاف حکم امتناعی ملے ہوئے ہیں اس حوالے سے مقدمات کے سرگرمی سے پیروی کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کا ہر قیمت پر خاتمہ چاہتے ہیں۔ جنہوں نے ہمارے فوجی جوانوں، شہریوں اور بچوں کو قتل کیا ان لوگوں پر کوئی رحم نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے مقدمات کی متحرک پیروی کرنے اور پھانسیوں پر عملدرآمد کے حوالے سے عدالتی حکم امتناعی جلد ختم کرانے کے لئے کوششوں کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو دہشت گردی کے مقدمات تیز تر بنیادوں پر چلانے کی بھی ہدایت کی۔ ترجمان وزیراعظم کے مطابق یہ ہدایات اٹارنی جنرل کو پہنچا دی گئی ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے اٹارنی جنرل سے دہشت گردوں کے کیسز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ  دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے یکسو ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جس دہشتگرد  کو عدالتوں سے حکم امتناعی ملا ہے یا پھر کسی  وجہ سے کیس  آگے نہیں چل رہے ان کی پھانسیوں کا عمل جلد از جلد  مکمل کیا جائے تاکہ جلد از جلد  دہشتگردوں  کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک سے ہر قیمت پر مکمل طور پر دہشتگردی کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے۔ دریں اثناء انسداد دہشت گردی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے  وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت پاکستان کیلئے کینسر ہیں، ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کا وقت آ گیا ہے، ہزارہ ٹائون، پشاور سکول اور چرچ میں خون بہانے والوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہو گی، دہشت گردوں کی سرپرستی اور پناہ دینے والوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھیں گے، ایک آپریشن ضرب عضب قبائلی علاقوں میں جاری ہے ایک ضرب عضب شہروں اور دیہات میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف ہوگا۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق حکومتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء چودھری نثار علی خان، اسحاق ڈار، عبدالقادر بلوچ، خواجہ ظہیر، بیرسٹر ظفر اللہ اور اٹارنی جنرل شریک ہوئے۔ وزیراعظم نوازشریف نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت پاکستان کیلئے کینسر ہیں، ملک کو اس کینسر سے نجات دلانے کا وقت آ گیا ہے۔ شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہو گی، دہشت گردی اور فرقہ واریت ملک کیلئے  کینسر ہیں، ان سے نجات دلاکر رہیں گے۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ نوازشریف نے کہا کہ جو بھی کیسز عدالتوں میں زیرالتواء ہیں ان پر جلدازجلد کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا ملک میں سر اٹھاتی دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچل دیا جائیگا۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون خواجہ ظہیر اور سیکرٹری قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے ملک کے موجودہ انسداد دہشت گردی کے قوانین اور زیرالتواء مقدمات کے حوالے سے اجلاس میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف ٹرائل جلد نمٹانے کے لئے خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو ہرممکن تحفظ اور امن دینے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔