لاہور ہائیکورٹ نے فوجی عدالت سے 5 سویلین قیدیں کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا

23 دسمبر 2014

راولپنڈی + کراچی (نوائے وقت رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے 5 قیدیوں کی پھانسی پر عملدرآمد روک دیا ہے اور دوسری جانب حکومت نے حکم امتناعی ختم کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ سزائے موت کے قیدیوں میں احسان عظیم، عمر ندیم، کامران، عامر یوسف، آصف ادریس شامل ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی عدالت نے پانچوں مجرموں کو آئین اور قانون کے تحت سزائے موت دی تھی۔ مجرموں کے وکلاء نے عدالت میں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ مجرموں کو دیا گیا حکم امتناعی خارج کیا جائے تاکہ انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ واضح رہے کہ سزائے موت پانے والے پانچوں مجرموں کو جہلم چناب پل پر 7 فوجی افسروں اور ایک پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد فوجی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پانچوں کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس ارشد تبسم نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانیوالے قیدیوں سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر کوٹ لکھپت جیل میں قید احسان عظیم، آصف ادریس، عمر ندیم، کامران اسلم اور عامر یوسف کے وکیل لائق خان سواتی نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالت سول شہریوں کا کورٹ مارشل نہیں کر سکتی مگر اس کے باوجود ان کے موکلان کو ملک کے قانون کے خلاف فوجی عدالت میں سزا دی گئی ہے۔ مقدمے کے دوران انہیں نہ تو وکیل کرنے کا حق دیا گیا نہ کسی بھی قسم کی عدالتی دستاویزات فراہم کی گئیں۔ ملزموں کو اس بارے میں بھی کوئی علم نہیں کہ انہیں کن جرائم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد عدالت عالیہ نے سزائے موت کے تمام قیدیوں سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے 12 جنوری تک وفاق اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا۔ کیس کی اگلی سماعت تک پانچوں ملزموں کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کر دیا گیا ہے۔ ان ملزموں کو آج کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ کے خلاف دو مجرموں کے اہل خانہ کی درخواستوں پر عدالت نے سرکاری وکیل سے جواب طلب کرلیا ہے اور دو مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ معطل کر دئیے ہیں۔ کالعدم تنظیم کے محمد اعظم اور عطاء اللہ عرف عبداللہ کے اہل خانہ نے ڈیتھ وارنٹ معطل کرنے سے متعلق درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کررکھی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں بینچ نے درخواست کی سماعت کی دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور سپرنٹینڈنٹ سکھر جیل پیش ہوئے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سپرنٹینڈنٹ سکھر جیل سے استفسارکیا کہ کیا آپ کو پھانسی کے رولز میں کی گئی ترمیم کا علم ہے؟، اگر آپ جانتے ہیں تو بلیک وارنٹ جاری ہونے کے سات دن بعد پھانسی کی تاریخ مقرر کی جانی تھی۔ 23دسمبر کیسے رکھ دی؟ تاریخ 26دسمبر بنتی ہے۔ حکومت خود قانون کا مذاق بنارہی ہے۔ اپنی مرضی نہیں قانون کے مطابق چلیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سزا کے خلاف تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی دوسری درخواست زیر التوا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلیک وارنٹ جاری کرتے وقت سپریم کورٹ میں موجود نظر ثانی کی درخواست کو نظر انداز کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے قانون کے مطابق 7 روز بعد سزا پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ خیبر پی کے کی جیلوں میں انتہائی درجے کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے فوج، ایلیٹ فورس اور جیل عملے کی مشترکہ ریہرسل کی گئی۔ ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، تیمر گرہ اور ہری پور کی جیلوں میں فوج کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔ جیلوں میں موجود حساس قیدیوں کی سکیورٹی کی حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے۔ خیبر پی کے جیلوں میں سزائے موت کے 56 قیدیوں کی اپیلیں صدر کو بھیج دی گئی ہیں۔ سزا کے منتظر 20 قیدی شدت پسندی اور 36 دیگر جرائم میں قید ہیں۔ سکیورٹی خدشہ کے تحت ڈسٹرکٹ جیل مانسہرہ کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل محمد قیوم نے کہا ہے کہ پولیس نے ڈسٹرکٹ جیل کے اطراف میں گھر گھر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ قیدیوں کی نگرانی کیلئے جیل کے اندر بھی سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ راولپنڈی سے اپنے سٹاف رپورٹر کے مطابق کورٹ مارشل میں سزائے موت پانے والے پانچ مجرموں کی پھانسی پر عملدرآمد روکنے کے حکم امتناعی کے خلاف وفاق پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں نظرثانی کی اپیل میں اٹارنی جنرل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجرم احسان عظیم، آصف ادریس، عمر ندیم، کامران اسلم اور عامر یوسف نے 2012ء میں حساس ادارے کے اہلکاروں کو شہید کیا جس پر مجرمان کو قوائد کے مطابق مجاز عدالتوں نے سزائیں سنائی جس کے لئے تمام قانونی تقاضے مکمل ہیں اس لئے حکم امتناعی ختم کر کے ان کی پھانسی پر عملدرآمد کی اجازت دی جائے۔ اس ضمنی میں مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔ وفاق کی اس درخواست پر عدالت عالیہ نے 24 دسمبر کو وفاقی حکومت اور جیک برانچ سے جواب طلب کر لیا ہے۔
لاہور(وقائع نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت کے منتظر ملکی اور غیرملکی مرد و خواتین قیدیوں کی مکمل تعداد طلب کر تے ہوئے مزید سماعت 12جنوری تک ملتوی کردی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمود مقبول باجوہ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت جیلوں میں قید ملکی و غیر ملکی سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تمام تر تفصیلات عدالت میں طلب کرے۔ گزشتہ ساڑھے چھ برسوں میں سزائے موت پر عمل نہ ہونے سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی اصل تعداد اور انکی جنس کے حوالے سے حتمی اعدادو شمار موجود نہیں۔وزارت داخلہ قیدیوں کے اعدادوشمار چھپا رہی ہے۔عدالت حکومت سے یہ تفصیلات بھی طلب کرئے کہ صدر نے موت کے منتظر کتنے قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کیں ،کتنی رحم کی اپیلیں زیر التواء ہیں۔ سزائے موت کے منتظر کتنے بھارتی اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔حکومت سے یہ وضاحت طلب کی جائے کہ 2008ء سے لے کر آج تک ملکی اور غیر ملکی سزائے موت کے قیدیوں کی سزاوں پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔سزائے موت کے منتظر خواتین اور خواجہ سراء قیدیوں کی الگ الگ تفصیلات بھی عدالت میں طلب کی جائیں۔