آپریشن ضرب عضب کا دبائو کے پی کے حکومت پر ہے‘ وفاق آئی ڈی پیز کیلئے فوری فنڈز دے: عمران

23 دسمبر 2014
آپریشن ضرب عضب کا دبائو کے پی کے حکومت پر ہے‘ وفاق آئی ڈی پیز کیلئے فوری فنڈز دے: عمران

پشاور (ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) عمران خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اسباب کو ختم کرنا ہوگا، فاٹا کے لوگوں کو سہولتیں دی جائیں، سہولتیں نہ دی گئیں تو نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل ہوں گے، آپریشن ضرب عضب کا دبائو خیبر پی کے حکومت پر پڑ رہا ہے، وفاقی حکومت آئی ڈی پیز کے لئے فوری طور پر صوبائی حکومت کو فنڈز جاری کرے، ایف سی خیبر پی کے کیلئے بنی تھی جو دوسرے علاقوں میں تعینات ہے، پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت نہیں، وفاقی حکومت ایف سی کو فوری طور پر سرحدی چوکیوں میں واپس بھیجے، 23 ہزار اہلکاروں میں سے صرف 900 صوبے کے پاس ہیں، اگر دہشت گردی کو کنٹرول کرنا ہے تو طور خم سرحد کو کنٹرول کرنا ہوگا، طور خم سرحد سے روزانہ 15 سے 20 ہزار افراد آتے جاتے ہیں جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔ تمام غیر رجسٹرڈ سموں کو فوری طور پر بلاک، کسی اور کے نام پر سم استعمال کرنے کو غیر قانونی قرار دیا جائے، خیبر پی کے میں سکولوں کی حفاظت کیلئے خصوصی موبائل سسٹم بنایا ہے، موبائل کا ایک بٹن دباتے ہی پولیس کے دستے سکول پہنچ جائیں گے، موجودہ صورتحال کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا، الیکشن کو قبول کیا، دھاندلی کو نہیں، دہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ پیر کو پشاور میں وزیر اعلیٰ ہائوس میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ عمران نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں، ملک متحد ہو جائے تو جنگ جیتی جا سکتی ہے، سانحہ پشاور نے ساری قوم کو متحد کر دیا، قوم نے فیصلہ کرلیا، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ آئی ڈی پیز ہماری ذمہ داری ہیں، ان کو ہر ممکن سہولتیں دے رہے ہیں، وفاقی حکومت بھی آئی ڈی پیز کے حوالے سے مدد کرے اور صوبائی حکومت کی مدد کیلئے فوری طور پر فنڈز دے، آئی ڈی پیز کی وجہ سے خیبر پی کے حکومت معاشی بحران کا شکار ہے،20لاکھ آئی ڈی پیز آئے ہیں، حکومت آئی ڈی پیز میں سے 5000نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کرے۔ پانچ لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین اور دیگر17لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی کا بندوبست بھی کیا جائے۔ خیبر پی کے  پولیس کو انٹیلی جنس شیئرنگ کی اشد ضرورت ہے، صوبائی پولیس کے پاس کال ٹریس کرنے کا سسٹم نہیں۔ وفاق سے درخواست کرتے ہیں کہ انٹیلی جنس کیلئے خیبرپی کے کی پولیس کو جس جس چیز کی ضرورت ہے فوری مہیا کی جائے۔ پورے پاکستان میں آرمی پبلک سکولوں پر دہشت گردوں کے حملے کا خدشہ ہے، ایف سی کی چوکیوں پر واپسی کا 20 جولائی 2013ء سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ خیبر پی کے میں جب ایف سی نہیں ہو گی تو دہشت گردی کو کیسے روکا جا سکے گا۔ خیبر پی کے  سمیت پورا ملک دہشت گردی کا شکار ہے، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، اس کو ختم کرنے کیلئے سب کو متحد ہونا ہو گا، دہشت گردی کے معاملے پر سب اکٹھے ہیں، دہشت گردی کے معاملے پر میں کوئی سیاسی بیان نہیں دینا چاہتا کہ کس کی غلطی ہے۔ آج بھی جب شہید بچوں کی مائوں سے ملا تو بہت تکلیف ہوئی۔ فاٹا کے لوگوں پر زبردستی نہیں کی جا سکتی، قبائلی لوگ کورٹ کچہری کو نہیں مانتے، فاٹا کے لوگوں کو سہولتیں اور ان کے حقوق دیئے جائیں۔