مزید 8 ڈیتھ وارنٹ‘ 50 مجرموں کی اپیلیں مسترد‘ 500 کو آئندہ ہفتوں میں پھانسی

23 دسمبر 2014

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) فیصل آباد میں مزید چار دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ان  دہشت گردوں کو مشرف حملہ کیس اور راولپنڈی بینک ڈکیتی قتل کیس میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مشرف حملہ کیس کے دو مجرم ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دئیے گئے ہیں۔ فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں موجود سزائے موت کے دو مجرموں نائیک نوازش علی اور لانس نائیک غلام نبی کو مشرف حملہ کیس میں سزا ہوئی تھی۔  عبدالمالک اور محمد مشتاق راولپنڈی میں بینک میں ڈکیتی اور قتل کیس کے مجرم ہیں۔ صدر  نے ان چاروں دہشت گردوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔ ان دہشت گردوں کو بھی فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل ہی میں پھانسی دی جائے گی۔ دہشت گردی میں ملوث 4 مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ فیصل آباد جیل انتظامیہ کو مل گئے ہیں انہیں کسی بھی وقت پھانسی  دی جا سکتی ہے، فیصل آباد  شہر سمیت جیل کی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ بی بی سی کے مطابق صدر ممنون حسین نے پھانسی کی سزا پانے والے مزید 50 سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔ حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اب کسی بھی وقت انہیں پھانسی دیدی جائے گی۔ حکام کے مطابق پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے حکومتی فیصلے کے بعد پھانسی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد پھانسی دئیے جانے کی مدت کو 14 دنوں سے کم کرکے تین دن تک محدود کر دیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ حکومت کب ان 50 سے زائد مجرموں کے بلیک وارنٹ جاری کرے گی۔ اے ایف پی کے مطابق ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا ہے کہ حکومت آئندہ ہفتوں میں 500 دہشت گردوں کو پھانسی دے گی۔ اب تک6 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ نے 500 کیسز کو حتمی شکل دیدی ہے۔ صدر نے ان تمام کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں مزید 500 مجرموں کو پھانسی دینے کی اطلاعات پریشان کن ہیں۔ سانحہ پشاور المناک تھا‘ حکومت نے اصل مسئلہ حل کرنے کی بجائے پھانسی کی سزا بحال کی ہے۔