کراچی: پولیس وردیوں میں ملبوس 13 دہشت گرد مقابلے میں ہلاک

23 دسمبر 2014

کراچی+ اسلام آباد + مانسہرہ + سوات (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں+ نمائندگان) سہراب گوٹھ کراچی میں پولیس مقابلے میں پولیس وردیوں میں ملبوس 13 دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور ایک خودکش بمبار کو گرفتار کر کے بھاری اسلحہ، دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور خودکش جیکٹس برآمد کر لی گئی۔ مقابلے کے دوران دہشت گردوں نے شدید فائرنگ کے علاوہ پولیس پر دستی بموں سے بھی حملہ کیا جن کے زوردار دھماکوں سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایس ایس پی ملیر رائو انوارکے مطابق سہراب گوٹھ کے علاقے میں انڈس پلازہ کے نزدیک جس مکان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی وہ مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مقامی امیر خان زمان کا ڈیرہ تھا اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری نے دو گلیوں کا محاصرہ کرکے کارروائی کی تو دہشت گردوں نے شدید فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے۔ ایس ایس پی رائو انوار نے بتایا کہ مارے جانے والے 6 دہشت گردوں کا تعلق القاعدہ اور 7 کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان خان زمان گروپ سے تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دہشتگردوں نے اس وقت پولیس اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی جب الآصف سکوائر کے قریب افغان بستی میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا افغان بستی کا مکمل محاصرہ کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں اسلام آباد اور مانسہرہ میں سرچ آپریشن کے دوران 20 افغانیوں سمیت مزید 237 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ مینگورہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 2 بہنوں سمیت 7 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ان کے گھروں سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں پولیس کی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر سمیت 4 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے ، سرچ آپریشن کے دوران اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے مزید 117 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں 20 افغان باشندے شامل ہیں جن کے پاس پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں۔ پیر کو سکیورٹی فورسز اور پولیس نے مانسہرہ کے علاقے بریڑی، اچھڑیاں، ڈسٹرکٹ جیل، افغان مہاجرین کیمپوں شیخ آباد اور خاکی کے علاقوں میں سرچ آپریشن کیا۔ ڈی پی او اعجاز خان کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران 120مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کو متعلقہ تھانوں میں منتقل کر دیا گیا۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر آئی ٹی یونیورسٹی اور بہادر خان ویمن یونیورسٹی سمیت پاک فوج کے تحت چلنے والے کالج کو بند کر دیا گیا ہے اس سے پہلے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے قائد اعظم یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں سکیورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز پولیس اور حساس اداروں نے خفیہ اطلاعات پر کوئٹہ کے قریبی علاقے کچلاک سے کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا۔ کچلاک کے علاقے کلی کمال الدین میں حساس اداروں نے پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی، ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ ملزمان کو مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاندلیانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق افغانستان سے آنے والے چار افغانیوں کو سرور کالونی سے سٹی پو لیس نے گرفتار کر لیا یہ افغانستان کے شہر کنڑ سے مردان آئے تھے۔ ادھر مینگورہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 7 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے گھروں سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ خواتین کیخلاف دہشتگردی ایکٹ اور اسلحہ و گولہ بارود رکھنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار خواتین کے رشتہ دار دہشتگردی میں ملوث اور مفرور ہیں۔گرفتار خواتین کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ لدھا سے نامہ نگار کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے احمد زئی وزیر قبائل کے خلاف کریک ڈاؤن کیا 8 پک اپ گاڑیوں سمیت 14 افراد گرفتار کر لئے گئے۔علاوہ ازیں سی آئی ڈی  پولیس نے سائٹ کے علاقے میں چھاپہ مار کر تین دہشت گردوں  کو گرفتار اور انکے قبضہ سے اسلحہ اور تین دستی بم برآمد کر لئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان ندیم، عابد اور  نور کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سوات سے ہے اور وہ  انسپکٹر شفیق تنولی کے قتل کے علاوہ  فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں اور اس بارے میں ان سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔