امریکہ دہشت گردی کا منبع ہے، وائٹ ہائوس اور پینٹاگون پر حملے کر سکتے ہیں: شمالی کوریا کی دھمکی

23 دسمبر 2014

پیانگ یانگ (بی بی سی) سونی پکچرز پر سائبر حملے کے بعد امریکہ اور شمالی کے درمیان ہونے والی الفاظ کی جنگ میں اب تیزی آنے کے بعد شمالی کوریا نے امریکہ پر غیر حملوں کی دھمکی دی ہے۔شمالی کوریا نے ایک تند بیان میں کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور پورے امریکہ پر حملے کر سکتا ہے۔شمالی کوریا نے امریکہ کے ان دعووں کی تردید کی ہے کہ سائبر حملوں کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔ خیال ہے کہ ان حملوں کا تعلق اس فلم سے تھا جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی افسانوی ہلاکت دکھائی گئی ہے۔حالیہ بیان امریکہ کے اس بیان کے کچھ دن بعد آیا ہے جس میں اس نے سونی پکچرز پر سائبر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام باقاعدہ طور پر شمالی کوریا پر لگایا تھا۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے نشر کی جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فوج اور ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے عوام امریکہ کے ساتھ ہر طرح کی جنگ، بشمول سائبر جنگ کے لئے تیار ہیں۔‘کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی طرف سے نشر کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’ہماری سب سے بڑی لڑائی وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور تمام امریکہ کے خلاف ہو گی جو کہ دہشت گردی کا منبع ہے، اور یہ مزاحمت اس سے کہیں زیادہ ہو گی جس کا اعلان اوباما نے کیا ہے۔‘ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بیان کے دو اہم پہلو ہیں۔ ایک کہ ’ہم نے یہ نہیں کیا‘ اور دوسرا کہ ’جس نے بھی کیا وہ ٹھیک کیا۔‘