الیکشن بائیکاٹ پر بھارتی فورسز کے گھر گھر چھاپے، درجنوں گرفتار، خواتین بچوں پر تشدد

23 دسمبر 2014

سرینگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر کے علاقے مائسمہ میں بھارتی فورسز کی چیرہ دستیاں جاری ہیں اور کریک ڈاؤن میں درجنوںکشمیریوں کو گرفتا ر کر لیا گیا،ہائی کورٹ بار کے وکلاء کی جانب سے گرفتاریوں کی مذمت،حریت کانفرنس نے نظر بند رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے مائسمہ اور اس کے نواحی علاقوں میں قابض بھارت فوج،پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے پکڑ دھکڑ،گرفتاریوں اور بے گنا ہ لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی فورسز نے درجنوں افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ چادر اور چا ر دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا،بزرگ شہری بھی پولیس کے تشدد سے بچ نہیں سکے۔اس علاقے میں بھارت کے زیر انتظام ہونے والے انتخابی ڈرامے کے عوام کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد گرفتاریوں کے سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔جبکہ بھارتی مظالم پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔دریں اثناء لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی نے ایک بیان میں کہا کہ جموں کشمیر کی طول عرض میں عمومی طور اور مائسمہ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں زیادتیوں کے خلاف اتوار سے فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے ۔یاسین ملک گردے کے عارضہ میں مبتلاہے اور اس وقت صورہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے مائسمہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پولیس کی طرف سے گرفتاریوں ، پکڑ دھکڑ اور کریک ڈائونوں کا سلسلہ ررواں رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ وکلا برادری کی نمائندہ انجمن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ان گرفتاریوں اور چھاپوں کے دوران تشدد کی انتہا کر دی جاتی ہے جس کی و جہ سے یہاں کے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا کہ بار ایسو سی ایشن چاہتی ہے کہ انتظامیہ نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے تمام بے گناہ افراد کو رہا کرے اور ان چھاپوں اور تلاشیوں کا سلسلہ بند کرے۔ بار ایسو سی ایشن نے بارہمولہ جیل میں محبوس رکھے گئے افراد کی بگڑتی صحت پر اظہار تشویش کیا ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...