پنجاب اسمبلی: فنڈز کم، تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد مشکل ہے: رانا مشہود، وزیر قانون کے نہ آنے پر اجلاس ملتوی

23 دسمبر 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر) صوبائی وزیر تعلیم و سپورٹس رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پنجاب ایجوکیشن ترمیمی بل محکمہ قانون پنجاب کے پاس ہے جو اس کا جائزہ لے ر ہا ہے جس کے بعد یہ ترمیمی بل منظوری کے لئے اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ وہ گذشتہ روز پنجاب اسمبلی میں منعقدہ اجلاس کے دوران تعلیم کے بارے میں ارکان اسمبلی کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ گذشتہ روز اجلاس 55 منٹ تاخیر سے 3 بج کر 55 منٹ پر منعقد ہوا۔ رانا مشہود احمد نے کہا سکولوں میں 30 ہزار کلاس رومز بنانے کا منصوبہ ہے۔ ای ڈی او ایجوکیشن بہاولپور کو فورٹ عباس شہر میں فوری طور پر ایک اور سکول قائم کرنے کے لئے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے اس کے علاوہ پی ای ایف ایف کو بھی کہا ہے فورٹ عباس شہر میں سکولوں کا دائرہ کار بڑھائے۔ قصور شہر میں 2 ہزار سے زائد سکولوں میں مسنگ سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں آئندہ ماہ یا فروری مارچ تک باقی سکولوں میں چار دیواری مکمل کر لی جائے گی۔ سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 1800 ملین روپے مختص کئے ہیں جن میں سے 162 ملین روپے ضلع قصور کے سکولوں کیلئے مختص ہیں۔ انہوں نے بتایا 2013-14ء میں ضلع قصور میں 6 سکولوں کی اپ گریڈیشن کی گئی۔ مغرب کی نماز کے وقفے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس وزیر قانون کی عدم دستیابی کے باعث آج صبح 10 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ وزیر قانون نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو آگاہ کیا تھا انکی عزیزہ وفات پا گئی ہیں جس کے باعث وہ اجلاس میں نہیں آسکتے۔ این این آئی کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کہا گیا محکمے نے ایجوکیشن پالیسی مکمل کر لی ہے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث اس پر عملدرآمد میں مشکلات آ رہی ہیں۔ سکول کونسلز کو فنکشنل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد تمام فنڈزانہی کونسلز کے ذریعے خرچ ہوں گے۔ رانا مشہود نے بتایا محکمہ میں جتنی بھی آسامیاں خالی ہیں انہیں آئندہ سال تک مکمل کر لیا جائے۔ بڑھتی ہو آبادی اور شہروں میںجگہ کی کمی کے باعث اب تین تین منزلہ عمارات کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے 70فیصد سکولوں میں سرکاری نصاب پڑھایا جاتا ہے۔پوری دنیا میں کسی بھی ملک میں یکساں نصاب تعلیم نہیں ہوتا۔پنجاب حکومت جلد ہی پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹرر یشن کا عمل شروع کررہی ہے اور جو رجسٹرریشن نہیں کرائیں گے ان کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔آئی این پی کے مطابقسپیکر پنجاب اسمبلی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد کو وقفہ سوالات کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے سخت سوالوں سے بچاتے رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن اسمبلی فرزانہ نذیر کے سخت سوال پر سپیکر نے وقفہ سوالات مقررہ وقت سے 5منٹ پہلے ہی ختم کردیا۔ ڈاکٹر فرزانہ نذیر نے کہا الجبرا ء کو انگلش میں میتھ کہتے ہیں اس مضمون کو پڑھانے کیلئے لیڈی میکلیگن گرلز سکول میں کون سی استاد ہیں تو وزیرتعلیم جواب دینے کے بجائے مسکراتے رہے اور سپیکر نے معاملہ گھمبیر ہونے پر وقفہ سوالات نمٹا دیاجس پر فرزانہ نذیر نے اظہار ناراضی کیا۔