پاکستان میں56 ہزار این جی اوز، کارکنوں کی تعداد60 لاکھ سے تجاوز

23 دسمبر 2014

اسلام آباد( صباح نیوز)قومی سلامتی کے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے این جی اوز بالخصوص غیرملکی امداد حاصل کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے موجودہ قانون کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 56ہزار این جی اوز ہیںاور ان کے کارکنوں کی تعداد 60 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ۔ یہ تعداد پاک فوج سے 10 گنااور پولیس سے 20 گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح ان تنظیموں کے باقاعدہ ملازمین کی تعداد 3 لاکھ اور رضاکار دو لاکھ ہیں۔بعض غیر سرکاری تنظیموں کو جا سوسی کے مقاصد لئے استعمال کیے جانے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق ملک کے اعلیٰ بیوروکریٹس سمیت اعلی ریٹائرڈ افسران کی بیگمات اور ان کے دیگر عزیز و اقارب نے بھی بھاری فنڈز کے حصول کے لئے این جی اوز بنا رکھی ہیں۔ مشروم کی طرح پاکستان میں این جی اوز میں اضافہ کے باوجود یہاں معاشرتی ناہمواری بڑھتی جارہی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملکی ضابطوں پر پورا نہ اترنے والی این جی اوز کے خلاف کریک ڈاون کا امکان ہے۔ نئے قانون کے تحت عوامی فلاح و بہبود سماجی ترقی کی آڑ میں غیر ملکی ایجنڈا کے لیے استعمال ہونے والی نام نہاد این جی اوز کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نہ صرف ان پر پابندی عائدکی جائے گی بلکہ انہیں کسی دوسرے نام کے ساتھ دوبارہ رجسٹریشن کی اجازت بھی نہیں ہوگی ۔غیرملکی امداد لینے والے غیر سرکاری تنظیموں کو اپنے حسابات کی جانچ پڑتال کرنے کا پابند بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق این جی اوزکی نگرانی کا سخت میکانزم وضع کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور اس کے لئے نیا قانون بنایا جائے گا جس کا اطلاق چاروں صوبوں میں ہوگا۔ اس کے لئے وزرائے اعلی کو اعتماد میں لیتے ہوئے تحریری طور پر آگاہ کیا جائیگا اور صوبائی حکومتوں سے کہا جائے گا کہ وہ صوبوں میں صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی این جی اوز کا ڈیٹا کمپوٹرائزڈ کرنے کے بعد ان کی تفصیلات وفاق کو ارسال کریں۔موقر میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت پاکستان میں 56 ہزار 219 رجسٹرڈ این جی اوز ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان کے ظاہری فنڈز 12 ارب 40 کروڑ روپے ہیں باطنی فنڈز سامنے پیش لائے جاتے یہ ادارے بیشتر وسائل بیرونِ ملک اور ایجنسیوں سے حاصل کرتے ہیں فراہم کرتی ہیں۔