گڈ گورننس اور گورنر پنجاب

23 دسمبر 2014

چودھری محمد سرور کو ذاتی طور پر میں گورنر نہیں کہتا۔ وہ گڈ گورننس کے قائل تو ہیں مگر طبعاً اور اپنی فطرت کے حوالے سے گورنر نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایک گھر میں صرف ایک سیاستدان ہونا چاہئے۔ اس میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہر گھر میں ایک سیاستدان ہو تاکہ ہر آدمی کو احساس ہو کہ وہ بھی ملک کے معاملات میں شریک ہے۔ گورنر کے طور پر چودھری صاحب جب دیکھتے ہیں کہ ملک میں ہرطرف ظلم کا راج ہے جس کا بس چلتا ہے وہ اپنی ”توفیق“ کے مطابق ظلم اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ ظالم چھوٹا ہو یا بڑا ہو ظالم ہی ہوتا اور مظلوم کی کوئی قسم نہیں ہے۔ اس ملک کے محروم لوگ ہی مظلوم ٹھہرتے ہیں۔ وہ بے چارے پیدائشی مظلوم ہیں۔ ان مظلوموں کو زیادہ مظلوم بنایا دیا جاتا ہے اور پھر یہ تاثر بھی انہیں ملتا ہے کہ جبر کے سامنے صبر کریں۔ یہ ان کی قسمت ہے۔ 

اب تو صبر کا اجر بھی نہیں ملتا اور جس صبر کا اجر نہیں ہوتا وہ صبر نہیں ہوتا مجبوری ہوتی ہے۔ پاکستان کے خواتین و حضرات مجبور ہیں۔ مقہور ہیں۔ ان کی بات چودھری سرور کرتے ہیں۔ یہ عجب حاکم ہے کہ محکوموں کے دکھوں کی بات کرتا ہے؟ ان کے سینے میں دردمند آدمی کا دل ہے۔ صاف شفاف اور بے داغ چہرے والا آدمی کڑھتا ہے مگر یہ دلیر آدمی کبھی کبھی بول بھی پڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آئینی طور پر نہیں بول سکتا۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا، احتجاج بھی نہیں کر سکتا۔ پھر تو وہ مظلوم عوام سے بھی بڑے مظلوم ہوئے۔ ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی ہے مگر انہیں ایک امید بھی ہے کہ حکومت کچھ نہ کچھ کرے گی۔ وہ اپنے حکمرانوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں مگر دیکھتے ہیں کہ کہیں گوشہ عافیت نہیں ہے۔ یہ حیرت انگیز کریڈٹ ہے کہ انہی حکمرانوں نے انہیں گورنر پنجاب بنایا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ سب کچھ قانون کے مطابق ہو۔ انصاف ہو، ریلیف ملے، خوشحالی ہو، لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوں، مہنگائی پر کنٹرول پایا جائے۔ یہ حکمرانوں کے علاوہ افسروں اور ملازموں کا کام بھی ہے۔ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ زندگی شرمندگی بن گئی ہے اور ہر طرح کی درندگی کا سامنا ہے۔ کرپشن زوروں پر ہے۔ کسی دفتر میں جاﺅ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نہ کوئی ضابطہ نہ قانون؟ جس ملک میں صاف پانی نہ ملے۔ ملاوٹ کے بغیر کوئی چیز نہ ملے۔ دوا بھی نہ ملے۔ تو پھر لوگ کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ کوئی ٹھکانہ نہیں۔ جو گھر میسر ہے اسے کسی حوالے سے گھر نہیں کہا جا سکتا۔
واضح طور پر دو گروپ وجود میں آتے جا رہے ہیں۔ امیر اور غریب، ظالم اور مظلوم، حاکم اور محکوم، جابر اور مجبور، افسر اور ملازم اور لازم و ملزوم ۔ جو امیر نہیں ہے اور ظالم نہیں ہے، حاکم نہیں ہے چھوٹا یا بڑا حاکم ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ حاکم حاکم ہوتا ہے اور ظالم حاکم کا ہم قافیہ ہے۔ کوئی بھی اگر کسی حاکم کا رشتہ دار اور دوست نہیں ہے اسے زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔ اسے ایسے ہی زندہ رہنا ہو گا کہ زندہ ہونے اور شرمندہ ہونے میں کوئی فرق نہ رہے۔ کیا اب دوقومی نظریہ اس ملک میں یہی ہے۔ وہ دو قومی نظریہ جس کے لئے ڈاکٹر مجید نظامی زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے وہ کہاں ہے؟ اس کی ضرورت اب کہیں بھی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ چودھری محمد سرور کئی بار ڈاکٹر مجید نظامی کے پاس حاضر ہوئے۔ گورنر ہاﺅس میں ایک دفعہ وطن کے لئے زخمی ہو کر معذور ہونے والے لوگوں کے لئے تقریب ہوئی۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے اس تقریب کی صدارت کی۔ مجیب شامی اور میں نے اس ولولہ انگیز تقریب سے خطاب کیا۔ شاید ہم سب معذور ہیں۔
سانحہ پشاور کے لئے شہید بچوں کے لواحقین سے ملاقات کے بعد جو بات چودھری سرور نے کی وہ خون کے آنسو رلا دینے والی ہے۔ اب بھی ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحد ہو کر مضبوط اور مربوط کارروائی نہ کی تو بچوں کی قربانی اور ماﺅں کی فریادیں اس زمین کو ہلا کر رکھ دیں گی۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں چودھری صاحب نے کہا کہ ظلم اور بے انصافی کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ ”ایک خاندان میں ایک سیاستدان ہوناچاہئے۔“ یہ بہت غور طلب ہے اور یہ بھی غور طلب ہے کہ ہر خاندان میں ایک سیاستدان ہونا چاہئے تاکہ اسے احساس ہو کہ وہ بھی ملک و قوم کے معاملات میں شریک ہے۔ اختیارات میں شریک ہونے سے تو ”شریکہ“ کا خیال آتا ہے اور سیاسی شریکہ پنجاب کلچر میں ”شریکے“ زیادہ تکلیف دہ ہے۔ کبھی کبھی شریکہ دشمنی سے بھی زیادہ ظالمانہ ہوتا ہے۔ چودھری صاحب کی اس گہری بات کے حوالے سے برادرم محترم اثر چوہان نے بہت زبردست کالم لکھا ہے۔
حکمرانوں نے اختیارات میں کسی کو بھی شریک کرنے کی روایت کو ختم کر دیا ہے۔ صرف مل کر کھانے کی روایت باقی ہے بلکہ جاری و ساری ہے۔ یہ روایت ملک کو لوٹ کر کھا جانے کی خواہش ہے۔ اس کے علاوہ کسی معاملے میں اتحاد کی بات تلاش کرنا بے وقوفی ہے۔ البتہ حکمرانی کا مزا لینے کے لئے سارا خاندان اور اس خاندان کے ساتھ کئی خاندان ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ جس خاندان میں ایک بھی ممبر اسمبلی ہو تو خاندان کا ہر فرد اپنی گاڑی پر MPA یا MNA لکھوا لیتا ہے اور ہر غیرقانونی کام بڑی آسانی اور دھڑلے سے کرتا ہے۔ یہی حال وزیروں شذیروں کے گھر والے کرتے ہیں اور حکمرانوں کے گھر والے تو جو کرتے ہیں وہ یہاں بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کے لئے کوئی قانون نہیں ہے۔ قانون صرف عام لوگوں کے لئے ہے۔ پاکستان میں روحانی اقتدار بھی اقتدارسے کم نہیں ہوتا پھر بھی وہ اقتدار میں آنے کے لئے بہتر ”روحانی طریقہ اپنا لیتے ہیں۔ ہمارے کئی وزیراعظم وزیراعلیٰ اور وزیر شذیر کسی نہ کسی طرح سے ”پیر ہوتے ہیں۔ پیر اور وزیر ہم قافیہ ہیں۔ گدی نشین کے علاوہ پیر گھرانے کا ہر آدمی پیر ہے اور عورت ”پیرنی“ ہے۔ گدی نشینی کے لئے عرض ہے کہ حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ کی گدی کا وارث شاہ محمود قریشی ہے؟
وراثت کی روایت دنیا کے سب انسانوں میں ہے۔ مسلمانوں میں بھی ہے۔ نواسہ رسول کے لئے ہماری عقیدت بہت گہری ہے مگر وارث ثابت بھی کرے کہ وہ اس کا حقدار ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی وراثت کی سلامتی کی گواہ ہے جبکہ اس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے۔ وراثت پر اعتراض نہیں ہے۔ کہ یہ ہر غریب اور امیر کی زندگی میں اہم ہے مگر امیری اور غریبی کا ورثہ بنا لینا ناانصافی ہے۔ حکومت ورثہ نہیں ہے۔ مگر ہماری تاریخ بھری پڑی ہے کہ بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا بادشاہ بنا۔ اس کے لئے اپنے آپ کو وارث ثابت کرنا ضروری ہے۔ اکبر اعظم تو تاریخ میں زندہ ہوا مگر بہادر شاہ ظفر کا کیا حشر ہوا۔ اب نااہلی نالائقی کے باوجود خاندان کا ہر فرد حکمران بن جاتا ہے۔ اس سے لاقانونیت استحصال، ظلم و ستم اور کرپشن کی جو روایت ہمارے ہاں پیدا ہوئی ہے وہ بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بھٹو خاندان اور شریف خاندان کے علاوہ کئی خاندان ہیں جو پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر حسین نیازی عمران خان کا بھانجا نہ ہوتا تو وہ لندن میں مخالف سیاستدانوں کے ساتھ غیرقانونی حرکات نہ کر سکتا۔ عمران کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خاندان کے کئی لوگ اور عورتیں اسمبلی اور حکومت میں ہیں۔ بڑے پھنے خان سیاستدان محمود اچکزئی کی بہنیں بھائی اور بچے حکومت و سیاست میں دندناتے پھرتے ہیں۔ اسمبلیوں میں بڑے بڑے مذہبی رہنماﺅں کی بیٹیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔
چودھری سرور کی یہ بات بہت اہم ہے کہ ایک خاندان میں ایک سیاستدان ہو اور وہ حکومت کے معاملات میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے ڈٹا ہوا نہ ہو۔ چودھری سرور کا اپنا بیٹا ممبر پارلیمنٹ ہے مگر اس نے اپنی اس حیثیت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ انگلستان میں کرئی بھی اپنے والد کی وجہ سے الیکشن جیت نہیں سکتا۔ دھاندلی اور پیسے کی سیاست میں نااہل اور نالائق لوگ جیت کر آتے ہیں۔ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی حالت دیکھیں اور پھر چودھری سرور کی بات پر غور کریں۔