چودھری نثار علی بھی ’’سہولت کار؟‘‘

23 دسمبر 2014
چودھری نثار علی بھی ’’سہولت کار؟‘‘

قوم ابھی تک سانحہ ٔ پشاور کا سوگ منا رہی ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے اِسے مزید خوف میں مُبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا کہ ’’دہشت گرد سانحہ پشاور جیسے حملے کی تیاری کررہے ہیں‘‘ اگر واقعی وزیرِ داخلہ کو اِس طرح کی کوئی اطلاع مِل چُکی تھی تو انہیں وزیرِ اعظم نواز شریف اور پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے گوش گُزار کرنا چاہئے تھا اور اپنی ماتحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کو خبر دار 21دسمبر کواسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے ٗ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ عام شہری بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حِصّہ ڈالیں اور پاک فوج کا ساتھ دیں۔ جناب والا! دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عام شہری تو آپریشن ’’ضرب اُلعضب‘‘ کی کامیابی کے لئے دِن رات دُعائیں مانگ پاک فوج کا ساتھ دے رہے ہیں ٗ خاص طور پر دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسروں اور اہلکاروں سمیت 55 ہزار معصُوم اور بے گناہ پاکستانیوں کے لواحقین۔ یہ تو وزیرِاعظم نواز شریف کی حکومت کی ’’سوچ و بچار ٗ لَیت و لعل اور مذاکرات کی پالیسی‘‘ تھی کہ دہشت گردوں کو مزید قتل و غارت کا موقع مِلتا رہا۔
افغانستان میں مُلّا عُمر کی حکومت قائم ہُوئی تو میاں نواز شریف وزیرِ اعظم پاکستان تھے اور چودھری شجاعت حسین وفاقی وزیرِ داخلہ۔ دونوں قائدِین کے الگ الگ بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ ’’ہم پاکستان میں بھی طالبان کا نظام قائم کریں گے‘‘ 21 دسمبر کی شب اینکر پرسن سلیم صافی نِجی نیوز چینل پر بیان کررہے تھے کہ ’’ وزیرِ اعظم نواز شریف کے موجودہ معاونِ خصوصی جناب عِرفان صدیقی مُلّا عُمر کے دَور میں کابل کے دَورے پر گئے تو انہوں نے وطن واپسی پر مُلّا عُمر کے دَورِ حکومت کو خُلفائے راشدین کے دَور سے تشبِیہہ دی تھی‘‘ بعد ازاں جناب عرفان صدیقی نے ’’طالبان کے باپ‘‘ مولانا سمیع اُلحق اور طالبان کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان سے پرِنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کئی بار کہا تھا کہ ’’ہمارا مِشن اور مقصد ایک ہے بس طریقِ کار میں فرق ہے۔ سارے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے‘‘
حقیقت تو یہ ہے کہ چودھری نثار علی خان اور جناب عرفان صدیقی طالبان کے ’’سہولت کاروں‘‘ کو وزیرِ اعظم نواز شریف کے قریب لانے اور انہیں طالبان سے مذاکرات کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے۔ چودھری نثار علی خان ٗ طالبان کے امیر حکیم اُللہ محسود سے ’’اظہار یکجہتی‘‘ میں بہت آگے بڑھ گئے تھے۔ حکیم اُللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہُوا تو 2 نومبر 2013 ء کو اسلا آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے چودھری صاحب نے کہا تھا کہ ’’امریکی ڈرون حملہ امن کی کوششوں کا قتل ہے‘‘ چودھری صاحب نے یہ بھی بتایا تھا کہ۔’’ امریکی سفیر نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ ’’حکومتِ پاکستان اور طالبان سے مذاکرات کے دَوران ہم ڈرون حملے نہیں کریں گے لیکن حکیم اُللہ محسود کو نہیں چھوڑیں‘‘ 2 نومبر کی پریس کانفرنس میں چودھری نثار علی خان نے اعلان کِیا تھا کہ ’’پاکستان ٗ امریکہ سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے گا‘‘ حالانکہ وہ وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے اِس طرح کا اعلان کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
21 دسمبر کی پریس کانفرنس میں چودھری صاحب نے یہ اِنکشاف بھی کِیا کہ ’’ مولوی عبداُلعزیز ( سرکاری) لال مسجد کے خطِیب نہیں ہیں‘‘ اُدھر اعلیٰ حُکّام کے حوالے سے بھی یہ خبر شائع ہُوئی ہے کہ ’’مولوی عبداُلعزیز کو تو 2005 ء میں ہی لال مسجد کے خطیب کے عہدے سے برطرف کردِیا گیا تھا‘‘ اگر یہ وضاحت درُست ہے تو لال مسجد پر قابض خطِیب کی حیثیت سے مولوی عبداُلعزیز نے6 اپریل 2007 ء کو خود ’’امیر اُلمومنِین‘‘ کا لقب اختیار کر کے اور اپنے چھوٹے بھائی غازی عبداُلرشید کو ’’نائب امیراُلمومنین‘‘ نامزد کر کے پُورے مُلک میں شریعت نافذ کرنے کا اعلان کیسے کردِیا تھا؟ اِس وقت لال مسجد کے خطِیب مولوی عبداُلعزیز کے بھانجے عامر صدیق ہیں۔ سرکاری ملازم کی حیثیت سے عامر صدیق اپنے ماموں ’’داعِش‘‘ کے نمائندے مولوی عبداُلعزیز کو خطِیب اور امام کا پارٹ کیسے ادا کرنے دیتے ہیں؟ وزیرداخلہ کہتے ہیں کہ ’’ ہم نے مولوی عبداُلعزیز سے سکیورٹی واپس لے لی ہے‘‘ کیا اتنا ہی کافی ہے؟ مولوی صاحب سے مسجد کا قبضہ کون چُھڑائے گا؟
جِس طرح وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے ایوان میں ’’مُحبّ ِ وطن طالبان‘‘ کی اصطلاح استعمال کر کے اُن کی صفائی پیش کی تھی۔ 21 دسمبر کی پریس کانفرنس میں موصُوف نے دِینی مدرسوں کے وکیلِ صفائی کا کردار ادا کِیا اور کئی بار کہا کہ ’’ مُلک میں قائم 90 فیصد سے زیادہ مدرسوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘ چودھری صاحب نے وضاحت نہیں کی۔ 90 فی صد سے زیادہ 91 فی صد یا99 فی صد ہے؟ پاکستان میں زیادہ تر مدرسے قیامِ پاکستان کے مخالف جمعیت عُلمائے ہِند کے کانگریسی علماء کی معنوی اور صُلبی اولاد کی سرپرستی اور نگرانی میں چل رہے ہیں۔ مولانا سمیع اُلحق اور مولانا فضل اُلرحمن کی جمعیت عُلماء اسلام کے دونوں گروپ جمعیت عُلمائے ہِند کے وارث ہیں۔ اِن مدرسوں میں ’’مطالعہ پاکستان کا مضمون‘‘ نہیں پڑھایا جاتا۔ اِس لئے کہ پھر علّامہ اقبالؒ اور قائدِ اعظمؒ کی قومی خدمات کے بارے میں بھی پڑھانا پڑتا۔ جِن کے خلاف اِن کے اکابرین نے کُفر کے فتوے دیئے تھے۔ چودھری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں مولانا سمیع اُلحق اور مولانا فضل اُلرحمن کو (پیشی کے بغیر ہی) بری کردِیا ہے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو ہدایت کی ہے کہ ’’وہ دِینی مدرسوں پر بلا وجہ تنقید نہ کریں‘‘ مولانا سمیع اُلحق طالبان کے باپ اور مولانا فضل الرحمن ’’برادرِ بزرگ‘‘ کہلاتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف صاحب! آپ نے دہشت گردوں اور اُن کے ’’سہولت کاروں‘‘ کا قلع قمع کرنے کا اعلان کِیا ہے لیکن اُس سے پہلے آپ کو 90 فی صد سے زیادہ سوچنا پڑے گا کہ کیا۔ چودھری نثار علی خان بھی کسی کے ’’سہولت کار‘‘ ہیں؟