آرمی پبلک سکول کا سانحہ

23 دسمبر 2014
آرمی پبلک سکول کا سانحہ

مکرمی! 16دسمبر کو صبح پبلک آرمی سکول پشاور میں ہونے والے سانحہ نے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے کوئی آنکھ ایسی نہیں جو اشکبار نہ ہوئی ہو۔ ان ننھی کلیوں کا کیا قصور تھا۔ جنہوں نے پھول بن کر اپنی خوشبوں تمام ملک میں پھلانی تھی کسی نے انجینئر بن کر کسی نے ڈاکٹر اور کسی نے پروفیسر بن کر کسی نے چیف اور آرمی سٹاف بن کر۔ سچ پوچھیں تو مجھے فوجیوں کا یونیفارم بہت خوبصورت اور رعب دار لگتا ہے۔ میرے بیٹے نے ایف ایس سی کے بعد کمیشنڈ آفیسر بننے کے لئے تمام ٹیسٹ پاس کرلئے جب اس نے گوجرانوالا آخری ٹیسٹ دینا تھا تو اس کو 105ڈگری بخار ہوگیا۔ اس کی خواہش بھی دل میں رہی۔ خدا کا شکر ہے ہمارے خاندان میں میجر جرنیل برگیڈئر کیپٹن ڈاکٹرز بہت زیادہ ہیں۔
’’ننھی کلیاں اور پھول‘‘
ماں مجھے بوسہ دے دو سکول جلدی جانا ہے
گھبرانا نہیں پھولوں سے بھرے تابوت جلدی آنا ہے
شہید مرتا نہیں ہمیشہ زندہ رہتا ہے
مگر ماں کو پھر بھی انتظار رہتا ہے
(نیڈل آرٹسٹ۔ ساجدہ حنیف لاہور)