’’لوگ بے دردہیں پھولوں کومسل دیتے ہیں‘‘

23 دسمبر 2014
’’لوگ بے دردہیں پھولوں کومسل دیتے ہیں‘‘

میں نے 16 دسمبر 2014 کے کالم میں پرانے اور نئے پاکستان کی بات کی تھی، بدقسمتی سے اُسی دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اور بدترین سانحہ ہو گیا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ 132معصوم بچوں اور دیگرشہیدوں کی قربانیوں نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایک ایسا واقعہ جس نے ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہر گھر اشکبار ہو گیا۔ معصوم بچے تو سب کے ہوتے ہیں ہر کوئی ان سے پیارکرتا ہے۔ ماں اور باپ تو ایک ہی ہوتے ہیں لیکن ہر ماں باپ ہر بچے کو اپنے بچوں کی طرح Treat کرتے ہیں جبکہ اسلام اور بین الاقوامی قوانین میں بھی جنگ کے دوران بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو مارنے کی اجازت نہیں۔ یہ کیا ہوگیا! مارنے والے کونسے قانون کو مانتے ہیں؟ اسلام یا بین الاقوامی؟ کوئی تو اس کی اجازت نہیں دیتا تو پھر ان بچوں کا قصور کیا ہے۔ دہشتگردی کا نشانہ بچے کیوں؟ دنیا میں سکولوں میں دہشتگردی کے بہت واقعات ہوئے ہیں پشاور سانحہ انسانی تاریخ کا دوسرا بدترین سانحہ ہے۔ ستمبر2004ء میں روس میں بیلان سکول میں 32 دہشتگردوں نے186 بچوں سمیت 385 یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ دہشتگرد اور دہشتگردی کے بارے میں مختلف باتیں کی جاتی ہیں، معاشی مسائل، غربت، تعلیم کی کمی لوگوں کو دہشتگرد بنا دیتی ہے۔ میں یہاں دہشتگردوںکے حوالے سے مختلف Interpertation بتانا چاہوں گا تاکہ ہمیں سمجھ آ سکے کہ دہشتگرد کون ہوتا ہے؟ مسلم کمیونٹی برطانیہ کے 39 اماموں اورعلماء نے ایک بیان پر دستخط کئے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ’’7 جولائی2005 کا المیہ ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے ہم سب مل کر ایسے مسائل کا مقابلہ کریں۔ ہم تعصب، بیروزگاری، معاشی محرومیوں اور ان معاشرتی مسائل جیسے عوام کو ختم کرنے کیلئے جدوجہد کریں جو ہمارے نوجوانوں کو مایوسی کا شکار بنا کر انتقام پر اُکسا رہے ہیں۔‘‘ ہماری دنیاکی نصف سے زیادہ آبادی 2 ڈالرسے بھی کم پر اپنا دن گزارتی ہے۔ ایک بلین سے زیادہ لوگوں کی تعلیم پرائمری یا اس سے بھی کم ہے جبکہ 800 ملین بالغ لوگ اس وقت بالکل ان پڑھ ہیں۔ لیکن غربت، جہالت اور بے روزگاری دہشتگردی کا باعث ہوتے تو دنیا ان دہشتگردوں سے بھری ہوتی جو ہماری زندگی اور نظام کو برباد کرنے پر کمربستہ ہوتے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔9/11 کمیشن رپورٹ 2004ء کے صفحہ نمبر378 کے مطابق ’’دہشتگردی کی وجہ غربت نہیں۔‘‘ اس طرح دہشتگرد پراپرٹی یا مال و دولت کے پیچھے ہوتے تو خودکش حملوں کی کیا ضرورت تھی۔ اگر وہ زندہ ہی نہیں رہیں گے تو دولت کس کام کی؟ گزارش یہ ہے کہ دہشتگردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس طرح غربت اور جہالت بھی دہشتگردی پر مجبور نہیں کرتی۔ لاطینی امریکہ کے دہشت گردگروپوں پرکی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہاں زیادہ تعلیم دہشتگردی کو ختم نہیں کر سکی۔ اسلام دہشتگردی تو ایک طرف خودکش اور قتل تک کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ایک Mindset ہے جو ریاست کو کمزورکرنا چاہتا ہے۔ آج کا پاکستان انہی سازشوں کا شکار ہے۔ وہاں دوسری طرف سیاستدان بھی اکٹھے ہو گئے۔ آل پارٹیزکانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام سیاسی پارٹیوں نے شرکت کی۔ عمران خان کی شمولیت نے APC کو بھرپور رنگ دے دیا۔ عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں 126 روز سے جاری احتجاجی تحریک معصوم جانوں کی قربانیوں کی بدولت ختم کر دی گئی۔ عمران خان نے نہایت درست فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف اس وقت ملک کی دو بڑی پارٹیاں ہیں ان سے توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔ عمران خان نے دھرنا اور بہت بڑے جلسے کرکے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھاہے۔ ان حالات میں ان سے بجا طور پر توقع تھی کہ وہ قومی مفاد میں فیصلے کریں۔کچھ عرصہ سے دانشورکہہ رہے تھے کہ عمران خان کو Face Saving دینی چاہئے، انہیں عزت کے ساتھ دھرنے سے واپس لانے کا راستہ دیا جانا چاہئے تو اس طرح کوئی سودے بازی کے بغیر عزت کا راستہ مل گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لینا چاہئے کہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن اصلاحات جیسے فیصلے نہ کئے جائیں۔ الیکشن کمیشن کے اراکین کی مدت آئین میںطے ہے لیکن بدقسمتی سے سب سے زیادہ تنقید انہی اراکین پر ہوئی ہے۔ فخرالدین جی ابراہیم ایک قابل عزت اور قابل فخر انسان ہیں انہوں نے ساری زندگی قانون کی حکمرانی اور انصاف کیلئے گزاری ہے، اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اصولوں کی خاطر بڑے بڑے عہدوں کو چھوڑنا انکی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ ان پر الیکشن 2013 کے حوالے سے کوئی تنقید بھی نہیں کرتا لیکن سچ یہ ہے کہ آئین نے چیف الیکشن کمشنرکی حیثیت کم کر دی ہے جس کی وجہ سے فخرالدین جی ابراہیم کا کنٹرول مؤثر نہیں تھا، دوسرا انکی بزرگی نے بھی اراکین کو من مانی کرنے دی۔ ان حالات میں چاروں اراکین رضاکارانہ طور پر الیکشن کمیشن سے مستعفیٰ ہو جائیں تو مجھے یقین ہے کہ انکو سراہا جائے گا اور تمام سیاسی پارٹیاں بشمول حکمران جماعت انکی مشکور ہونگی۔ الیکشن اصلاحات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ لگتاہے کہ کمیٹی کے اراکین کودھاندلی سے روکنے کی خواہش نہیں۔ کمیٹی کو اپنا کام تیزکرنا چاہئے۔ اس طرح جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فوری اعلان ہونا چاہئے۔ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے دھاندلی کی تحقیقات کرانے پر حکمران جماعت سمیت تمام جماعتوں نے پہلے ہی اتفاق کیا ہوا ہے۔ اس میں دیر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ہمیں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ چوہدری نثارعلی خان نے درست کہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور قوم کو پاک فوج کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے۔ ماضی میں بھی پاکستانی قوم نے ہر جنگ میں فوج کا ساتھ دیاہے اورآج بھی پوری قوم معصوم بچوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ننھے منھے بچوں کے چلے جانے پر ہر ماں کا کلیجہ دولخت ہوا ہے۔ ہر ماں کی آنکھ اشکبار ہے۔ ہر ماں اس وقت شدید غم میں مبتلاہے اس حالت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور ایک مضبوط اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہئے جوکہ دہشتگردی پر قابو پا سکے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا ہے اور اتفاق رائے سے دہشتگردوں کے خلاف اعلان جنگ کیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت کر کے دہشتگردوں کے خلاف عدالتی نظام اور طریقہ کار طے کیا جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر اندر فیصلے ہو سکیں۔ اس طرح مدرسوں سے شکایات دورکرنے کیلئے علماء کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کی جائے۔  مجھے یاد ہے کہ عراق جنگ کے دوران دنیا کا آزاد ترین میڈیا امریکہ نے کوئی ایسی خبر نشر نہیں کی جس سے امریکہ کونقصان پہنچے اور یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ امریکی حکومت نے کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی لیکن میڈیا نے خود ہی ذمہ دارانہ اور محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایسی خبروں اور تبصروں سے گریز کیا جس سے امریکہ کو نقصان ہو مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ لوگ آج بھی سیاستدانوں کے پرانے بیانات دکھا کر اپنی تنقید کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں۔