’’وطن عزیز‘‘ خبروں کے آئینے میں

23 دسمبر 2014

قارئین یقین نہیں آتا بلکہ صدمہ روح کی گہرائیوں تک اُتر جاتا ہے جب یہ سوچ آتی ہے کہ کیا یہ قائد و اقبال کا پاکستان ہے؟ کیا یہ قائد کے بیمار رتجگوں اور اقبال کی آہِ سحرگاہی کی عطا ہے؟ جس میں ہم سولہ کروڑ عوام و خواص رہ رہے ہیں؟ کیا حکمرانوں کی بے حسی، عوام کی بے بسی، امیر و غریب میں تفاوت، اخلاقی اقدار کا انہدام، روحانی روشنیوں کا بجھائو اور بصیرت و بصارت کا اندھیاپا کم تھا کہ یہاں رہنے والے بندے بھی درندے بن گئے ہیں؟ ہر سطح پر من مانیاں، بے ایمانیاں، لاقانونیت اور ناانصافیاں اس انتہا تک پہنچ گئیں ہیں کہ بندے مقام بندگی سے اُتر کر مقام درندگی تک آ پہنچنے ہیں۔ ایسا بہیمانہ سلوک تو تقسیم ہند کے موقع پر کرپانوں والے سکھوں اور حیا و انسانیت سے عاری مکار و عیار ہندوئوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ روا نہ رکھا ہو گا جس طرح کا وحشیانہ سلوک پاکستان میں آزادی کے مزے لوٹنے والے پاکستانی ایک دوسرے کے ساتھ بطور مسلمان کر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے بخدا اگر آج قائد و اقبال موجود ہوتے تو ہمیں آزادی کی نعمت عطا کرنے کیلئے اپنے فیصلے پر نظرثانی فرماتے ۔۔۔ علیحدہ خوبصورت وطن، آزادی بھری فضائیں اور سونے چاندی کے ذخائر سے بھرے ہوئے پہاڑ پا کر ایسا لگتا ہے بعض پاکستانی ذہنی طور پر غیر متوازن ہو گئے ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں جو چند خبریں نظروں سے گزری ہیں اے کاش ہم نابینا ہوتے بلکہ دل کے بھی اندھے ہوتے تاکہ اندر باہر سے مکمل اندھے اندھیروں میں ہونے کی وجہ سے باہر کے کسی دوسرے اندھیرے کی پہچان نہ پاتے۔ سب سے پہلی خبر تو یہ کہ پچھلے دنوں ہماری اندھی پولیس نے اندھوں پر اندھا تشدد کر کے جو نیکی بلکہ جنت کمائی اُس کی گونج پاکستانی قوم کو تمام زندگی سنائی دیتی رہے گی بلکہ یہ کارکردگی تاریخ کے سینے میں بھی ہمیشہ کے لئے محفوظ رہے گی۔ وہ لاچار، بے بس نابینا نوجوان جو باعزت روٹی روزگار کے لئے وزیر اعلیٰ سے ملنا چاہتے تھے اُن کو زخمی کر کے جس طرح ذلیل و خوار کیا گیا وہ وطن عزیز پاکستان کا نام دنیا بھر کے مہذب ممالک میں فہرست میں درج ہو گیا۔ اس نوعیت کی چند مزید جان لیوا خبریں بھی پڑھ لیں۔ کچھ عرصہ پہلے کی خبر ہے کہ -1 ڈسٹرکٹ جیل جیکب آباد میں شدید تشدد سے بیس قیدی قریب المرگ ہو گئے جیل انتظامیہ نے مظلوم و زخمی قیدیوں کے جسم پر چاقوئوں سے کٹ لگا لگا کر اُن میں مرچیں بھر دیں۔ زخمی ملزم نذرانہ نہ دینے کے مجرم تھے -2 تھانہ گولڑہ میں جرم آوارگی میں تین جوانوں پر پولیس کا وحشانہ تشدد، ان کی داڑھیوں کے بال نوچے گئے اور ہتھوڑے مار مار کر ہڈیاں توڑ دی گئیں۔ ایک کے والد کا ہارٹ فیل ہو گیا 3 کلور کوٹ میں آٹھ سالہ بچی 80 سالہ بوڑھے کی بھینٹ چڑھا دی گئی، جب سے وہ ’’ونی‘‘ چڑھی ہے ماں ابھی تک بے ہوش پڑی ہے -4 ملتان میں سات سالہ لڑکے پر سبق یاد نہ کرنے پر اُستاد کا شدید تشدد، اپنی سہارا لینے والی سوٹی کی نوک گھیڑ کر اس کی آنکھ پھوڑ دی، بینائی ضائع، بچہ موت و حیات کی کشمکش میں ہسپتال داخل -5 مشہور میرو والا کیس میں پنچائیت کے فیصلے کے مطابق مختاراں مائی کو رشتے کے لین دین پر ایک درجن درندوں کے حوالے کر دیا گیا تھا، فیصلہ کر لینے کے بعد فیصلے پر عملدرآمد کے وقت پورے گائوں کے مرد موجود تھے۔ قارئین کرائم صدمے اور حیرت سے عقل مائوف ہے کہ ان چند خبروں کے آئینے میں جس پاکستان کی تصویر نظر آتی ہے کیا وہ سچ مُچ قائد و اقبال کا پاکستان ہے؟ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کے کسی نہ کسی گائوں میں، شہر میں، گھر میں ہر روز کئی عورتوں کے ناک اور بال کاٹ دئیے جاتے ہیں، کئی ایک کو کُلی طور پر بے حجاب کر کے گلے میں رسیاں ڈال کر بھرے بازاروں گھمایا جاتا ہے جبکہ کاروکاری کے نام پر سندھ اور بلوچستان میں عورتوں پر بھرے گائوں کے ہاتھوں شدید سنگ باری تو روزانہ کا معمول ہے۔ لگتا ہے غیرتی قتل بے غیرت مردوں کے لئے آکسیجن بن گیا ہے۔ قارئین درندگی کی کون کون سی خبر اور ظلم کی کون کون سی انتہا لکھی جائے یہاں تو مظلوموں کو انصاف ملنے کے بجائے، بجائے خود انصاف کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ پچھلے سال سندھ کے علاقے شکار پور میں اغوا برائے تاوان کیلئے تین ججوں کا شکار کھیلا گیا تھا۔ بہرحال سمجھ نہیں آتی کیا قائد و اقبال کا پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد اس لئے تخلیق کیا گیا تھا جس میں مذکورہ بالا خبریں تخلیق کی جا سکیں؟ آزاد ملک میں آزادی کے ساتھ گھومنے والے درندوں کو کبھی عبرتناک سزائیں نہیں دی گئیں۔ چوکوں پر سنگسار نہیں کیا گیا۔ جھوٹی تفتیش کرنے والوں کی کبھی اصلی تفتیش نہیں کی گئی کہ آخر انسان و انسانیت کی دھجیاں اُڑانے والے درندوں کی کب بیخ کُنی کی جا سکے گی؟ ہمیں تو ڈر ہے کہ ظلم و تشدد کی ایسی سُرخ صورتحال میں خدانخواستہ کہیں وہ وقت نہ آ جائے کہ خود پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں کہ وہ عراق، فلسطین، افغانستان یا مقبوضہ کشمیر میں تو نہیں رہ رہے؟ اُن کو ہمارا جواب یہ ہے کہ لاالہ کے نام پر حاصل کئے ہوئے ملک کو اگر قائد و اقبال کے اقوام و افکار پر عمل پیرا ہو کر نہیں سنبھال سکتے ہو تو اس کے اندر صورتحال فلسطین اور مقبوضہ کشمیر والی ہی جاری رہ سکتی ہے۔ جس آزاد و خود مختار اور وسائل سے بھرپور خوبصورت ملک میں اہل ملک کی عزتِ نفس اور جان و مال ہی محفوظ نہ ہو وہاں تمہیں اینٹوں اور سیمنٹ کی بنی ہوئی ملک کی چار دیواری کو اپنا پاک وطن کہنے کا کیا حق اور جواز حاصل ہے؟ یہ اُن وفاداراور بے لوث جانثار کا وطن عزیز ہے جو ہر لمحہ اپنی اپنی محدود سطح پر پوری ایمانداری کے ساتھ اس کی بقا اور تعمیر و ترقی کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ہمارے وطن عزیز کا حامی و ناصر ہے اور اپنے رحم و کرم سے وہی تاقیامت اس کا محافظ ہے اور رہے گا۔ عزیز ہموطن اپنے وطنِ عزیز کا جو حال و حشر کر رہے ہیں اُس پر توبہ تائب ہو کر خدا سے معافی مانگیں اور نئے سرے سے اُس کی تعمیر و ترقی کیلئے دن رات ایک کر دیں۔ ہمارے تمام تر مسائل کا حل یہ ہے کہ طعنوں، جھگڑوں، تنازعوں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی گھٹیا بچگانہ سیاست بند کر کے محض اور صرف اور صرف وطن عزیز اور غریب عوام کی خدمت کو مقصد حیات بنا لیا جائے۔