انسانیت کے قاتلوں کا یومِ حساب

23 دسمبر 2014

دہشتگردوں کا بُرا وقت آچکا ہے۔ انسانیت کے قاتلوں کا یوم حساب آپہنچا ہے۔ان کا ہر طرف سے گھیرائو ہورہا ہے۔ کئی مذہبی جماعتیں اور سیاستدان کُھل کر طالبان کی حمایت کرتے تھے۔ حکومتی حلقوں میں بھی ان کے حامی موجود تھے۔ہوا کا رُخ دیکھ کر اب ہر سیاستدان دہشتگردوں کی حمایت سے تائب ہونے اور مذہبی جماعتوں نے خاموشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھ لی ہے۔ ملک کی اکثر مذہبی جماعتیں دہشتگردوں کے خلاف رہی ہیں۔انہوں نے دہشتگردی کے خلاف فتوے جاری کئے جس کی پاداش میں مولانا سرفراز نعیمی جیسے جید علماء کو دہشتگردوں نے شہید کر دیا۔ دہشتگردوں کی حمایت پر مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق کی جماعتیں سرگرم رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کا منور حسن کی سربراہی میں ایک گروپ ضرور پاکستانی طالبان کی حمایت کرتا رہا ہے جبکہ جماعت اسلامی کی دہشتگردوں کی حمایت کی کبھی پالیسی نہیں جس کا ایک ثبوت جماعت کے انتخابات میں منور حسن کا محاسبہ تھا۔ لیکن وہ بدستور دہشتگردوں کی سپورٹ کرتے رہے۔ البتہ اب پورے ملک میں دہشتگردوں کی حمایت میں ایک بھی آواز نہیں اُٹھ رہی۔ سانحہ پشاور میں دہشتگردوں نے 132 بچوں سمیت ڈیڑھ سو لوگوں کو جس بے دردی ، سفاکیت  اور بربریت سے شہید کیا اس سے قوم جہاں رنج و غم اور صدمے سے نڈھال ہے وہیں دہشتگردوں کے خلاف اشتعال میں بھی ہے۔ جس کا ادراک دہشتگردوں کے حامیوں کو ہو چکا ہے۔ پشاور کے ملٹری سکول کے بچوں پر حملے سے کربلا کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ اب دہشتگردوں سے انتقام کی پکار اُٹھ رہی ہے۔ پاک فوج بھی اسی جذبے کے تحت اپنے اپریشن کررہی ہے۔ جی ایچ کیو میں وزیراعظم کی زیرصدارت  اجلاس میں دہشتگردوں کا پورے ملک میں گھیرائو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس روز فوج نے پورے ملک میں اپریشن شروع کر دئیے۔ شمالی وزیرستان، خیبر پی کے اور کرم ایجنسی میں تو پاک فوج اور فضائیہ دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے گولہ باری اور بمباری کر رہی ہے اس میں مزید تیزی آ گئی ہے جبکہ لالہ موسیٰ اور کراچی میں بھی دہشگردوں کا تعاقب کر کے ان کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔ ایک دن میں سو کو اُڑا کے رکھ دیا گیا۔ اگلے روز اپریشن میں مزید چالیس دہشتگردوں کو ہلاک اور ساڑھے تین سوکو مختلف شہروں سے گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ ہی فوری طور پر دہشتگردوں کو پھانسیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ جو دہشتگرد اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر بے گناہ افراد کا خون بہاتے رہے وہ پھانسی کے پھندے کو دیکھ کر سہمے نظر آئے، ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ بچوں اور خواتین کے بہیمانہ قتل عام پر شرمندہ تھے، جان بخشی کی اپیل کرتے اور معافیاں مانگتے رہے۔ یہ ان کے ساتھیوں کے لئے عبرت کا نشان ہونا چاہیے جو اب بھی انسانیت کا خون بہانے کو راہِ نجات سمجھتے ہیں۔
آج دہشتگرد جس انجام سے دوچار ہیں اس کے پیش نظر ان کے حامی اب چھپتے  پھر رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔ دہشتگردوں کے سہولت کار اور حامی مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں بھی موجود ہیں بلکہ حکومت کا حصہ بھی ہیں۔ ان کی نشاندہی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر ردعمل ظاہر کرنے والوں کے بیانات دیکھ کر ہو جا سکتی ہے۔ کیا پرویز رشید کے  بیان کے بعد ان لوگوں کا محاسبہ ہو سکے گا؟ مولانا سمیع خود کو طالبان کا باپ کہلانے پر فخر کیا کرتے تھے۔ اب قوم کا ردعمل دیکھ کر وہ بھی اپنے نظریات کی نفی کر رہے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت افغانستان کی آزادی کیلئے روس کیخلاف لڑنیوالے مجاہدین سے انکے دوستانہ تعلقات رہے ہیں مگر مغربی میڈیا نے انہیں تحریک طالبان پاکستان کے دوست کے طور پر پیش کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور منور حسن بھی اپنے نظریات کے اظہار کے لئے سامنے نہیں آ رہے۔ البتہ لال مسجد فیم مولانا عبدالعزیزاپنی جہالت کا اظہار کرنے سے باز نہیں آئے۔ وہ ایک سو 34 بچوں سمیت ڈیڑھ سو انسانوں کا خون بہانے والوں کی مذمت کرنے سے انکاری ہیں۔ ایسے لوگ قطعی قابل معافی نہیں۔
حکومت نے بجا طور فوج کے مطالبے پر سزائے موت پر عائد پابندی ختم کر دی۔ سب سے پہلے فوج نے اپنی صفوں میں پائے جانے والے  دہشتگردوں کو تختہ دار پر چڑھایا۔ آرمی چیف نے بغیر کسی خوف کے ان کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے۔ سول حکومت بھی کیا اپنی صفوں میں موجود دہشتگردوں  کے حامیوں کے ساتھ وہی سلوک کر سکے گی جو بقول پرویز  رشید دہشتگردوں کے ساتھ ہو رہا ہے؟ اگر حکومت ایک بار پھر مصلحتوں کا شکار ہوئی تو دہشتگردوں کا خاتمہ ایک خواب ہی ثابت ہو گا۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان جمہوریت کو ہو سکتا ہے۔ مولانا سمیع الحق جیسے لوگ جو اب طالبان سے لا تعلقی کا اظہار کر رہے ہیں، اس پر اعتبار کی ضرورت نہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹرائل ہونا چاہیے۔ ان کی سپورٹ سے دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہوتے رہے۔ ہزاروں لوگ جو دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے گئے ان کا خون دہشتگردوں کے حامیوں کے سر بھی ہے۔ دہشتگردوں کے ہاتھوں فوجیوں کو ذبح کیا گیا ، زندہ انسانوں کو جلایا گیا، اس کے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں جو سفاک لوگوں کے ساتھ مذاکرات پر زور دیتے اور مذاکرات کرتے رہے جبکہ اس دوران ان کی انسانیت سوز کارروائیاں جاری رہیں۔
دہشتگردوں کے ترجمان خراسانی نے اپنے ساتھیوں کی پھانسی پر حکومت اور فوج کو دھمکیاں دی ہیں۔ کیا خراسان میں وہ شریعت نافذ ہے جس کے نفاذ کی کوشش یہ غیر ملکی دہشتگرد پاکستان میںکر رہے؟ بلاشبہ اب ان  کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ حکومت فوج اور قوم ان کے خلاف یکجہت ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے  اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک بھر میں ایک بھی دہشت گرد اور اس کی پناہ گاہ باقی نہیں رہنے دیں گے، انہوں نے  غیر ملکی دہشت گرد وں کو وارننگ دی ہے وہ پاک سرزمین چھوڑ کر چلے جائیں ورنہ انکا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔ بلاشبہ فوج، حکومت اور فوج دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے ایک پیج پر نظر آتے ہیں، دہشتگردوں کے خاتمے میں عدلیہ کا بھی اہم کردار ہے جو اسے ماضی کے برعکس جرأت اور بہادری سے ادا کرنا ہے۔ سب نے مل کر دہشتگردوں سے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لینا ہے۔عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاہے کہ  دہشت گرد گروپس اور انکے حمایتیوں کے مکمل خاتمہ کیلئے وار آن ٹیرر کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے بجا کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں پر مکمل پابندی لگائی جائے اور انکی املاک ضبط کی جائیں۔