بے رحم 1971ء پھر لوٹ آیا ہے

23 دسمبر 2014

اہل وطن۔کیا بے رحم 1971ء پھر لوٹ آیا ہے اور وہ بھی پوری دشمنی اور نحوست کے ساتھ؟ ملاحظہ کریں قرآن پاک پارہ 24 رکوع 15 سورۃ حم السجدۃ آیت 15,14 قوم عاد کی تباہی کا ذکر اور انہیں ’’منحوس دنوں ‘‘ میں تباہ کرنے کا قرآنی بیان کیا منحوس دن بھی ہوا کرتے ہیں؟اگر کسی کا ایمان لانا نفع بخش ہوا تو وہ صرف قوم یونسؑ تھی جس کی توبہ اور ایمان قبول ہوا۔ سورۃ یونس پارہ 11 رکوع 14 آیت 97 ) ’’غلام‘‘ بنی اسرائیل کو اﷲ تعالیٰ نے فرعون کی غلامی سے نجات دی۔ مصر سے نکال کر انہیں اپنا ملک دیا مگر ان کی بداعمالیوں نے ہی فلسطینی سرزمین پر ان کا ملک تباہ کر دیا اور وہ عراق کے بخت نصرکے ہاتھوں مفتوح اور غلام بنا دیئے گئے تھے۔ ایک معاملہ سقوط بغداد کے ذریعے عظیم عباسی خلافت کے ساتھ 1258ء میں ہوا اور ہلاکو خان نے بغداد سے دمشق تک مسلمان عظمت کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ سقوط غرناطہ یورپ میں اسپین نامی مسلمان سپر پاورکے خاتمے کا نام ہے اور یہ انتہا پسند عیسائی سفید فام فرڈی نینڈ اور ازابیلا کی متحدہ مسیحی قوت کے ذریعے 1258ء میں وقوع پذیر ہوا۔ عظیم خلافت عثمانیہ کا خاتمہ 1924ء میں ہوا اور مشرق وسطیٰ نئے قومی عرب ممالک کی شکل میں برطانیہ کا اتحادی بن گیا تھا۔ آج یہی ’’عرب قومی ریاستیں‘‘ آپس کی جنگ وجدل میں مصروف ہیں۔ سوویت یونین آف رشیا ایٹمی اور سپرپاور ہونے کے باوجود غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا کہ ’’اغیار‘‘ نے ان کے کچھ لوگوں کو استعمال کر لیا تھا۔ آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے صدر ایوب خان سے حکومت 25 مارچ 1969ء کو بندوق کی طاقت سے چھین لی تھی پھر بھارت نے اسی جنرل یحییٰ خان سے اپنی ’’را‘‘ اور ’’فوج‘‘ کے ذریعے اگر تلہ سازش کے ساتھ مشرقی پاکستان دسمبر میں چھین لیا تھا۔ 16 دسمبر 1971ء کا دن پاکستانی جنرلز اور فوج کیلئے شرمندگی و شکست اور مسلمانوں کیلئے آنسو اور ندامت کا دن ہے کہ مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش ہوگیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو ہم سب بہت غلط کہتے اور ناپسند کرتے ہیں مگر یہی مولانا کانگرس کے آخری اجلاس سے جب مایوس لوٹے تو رات کی تاریکی میں سوئے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی سے جا کر ملے اور ان سے کہا ’’ہندو کانگرس جیت گئی اور میں سچ مچ آج ہار گیا ہوں اب تم کو لازماً پاکستان لیناہو گا‘‘۔ راز کی یہ بات مجھے نوابزادہ عبدالغفور ہوتی مرحوم نے خود بتائی جو ایوب کابینہ میں وزیر تجارت تھے۔ انکی کوٹھی دہلی میں تھی اور اسی میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا قیام تھا جب رات کو مایوس ابوالکلام آزاد ان سے ملے تھے۔ ابوالکلام آزاد نے واضح طور پر لکھ دیا تھا کہ 25 سال بعد پاکستان ٹوٹ جائے گا وہ بنگالی خون کی سرکشی سے آگاہ تھے کہ ان کے والد جو بہت بڑی روحانی شخصیت تھے بنگال میں رہتے تھے۔ ہمیں تو مولانا آزاد کے انتباہ سے راہنمائی لینا تھی جو ہم نہ لے سکے تھے۔ اس طویل تمہید کے بعد اب ہم پاکستان کو دوبارہ لاحق ہو چکے۔ 1971 ء کا ذکر کرتے ہیں۔ 15 دسمبر 2014 ء سے ہمیں اسی نحوست بھرے اڑھائی سالہ عہد نے دبوچ لیا ہے جس اڑھائی سالہ عہد نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا تھا۔ 16 دسمبر کو آرمی اسکول پر حملہ اسی واپسی کا آئینہ دار ہے۔ صدر مشرف کے بعد ملک میں جمہوریت اور سول قیادت ہی مکمل طور پر فیصلہ ساز رہی ہے۔ اگر طالبان و القاعدہ پاکستان دشمن ہوئی تو اس میں یقیناً کچھ جنرل پرویز مشرف کی فاش غلطیوں اور امریکہ کی مکارانہ کہہ مکرنیوں’ جھوٹ اور مسلمان دشمن پالیسیوں کا بھی وافر حصہ ہے۔ ہمیں جنرل پرویز مشرف عہدکی امریکہ نوازی کی غلط مگر تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ دوسری طرف وہ ’’مولانا‘‘ جن کو اﷲ تعالیٰ نے اسلام آباد میں دینی بادشاہت دی تھی وہ مدبر و پیکر فراست بننے کی بجائے امام کعبہ الشیخ عبدالرحمان السدیس کی اسلام آباد میںآمد اور ملاقات کی خواہش کو دفن کرتے رہے تھے ان کے خاندان پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر جو عذاب نازل ہوا اس سے بچانے کے لئے مدبر و پیکر تقویٰ و علم کچھ دیوبندی علماء نے خود جا کر مولاناکو مسلمان ریاست سے تصادم سے منع کیا تھا۔ امام کعبہ کو مایوس کرنے اور ثقہ دیوبندی جید متقی علماء کو مایوس کرنے کا ہی عذاب مولانا‘ لال مسجد و جامعہ حفصہ پر نازل ہوا تھا۔آج کے حالات میں سوشل میڈیا پر تو صدر جنرل پرویز مشرف کے ہی اقدام کودرست ثابت کیا جا رہا ہے۔ جبکہ مولانا اور انکے ساتھیوں کو غلط اور خارجی داعش کا مددگار بھی۔ یاد رہے امام کعبہ و مسجد نبوی و سعودی مفتی اکبر شیخ عبدالعزیز القاعدہ و داعش کو خارجی بار بار کہہ چکے ہیں۔ مفتی رفیع عثمانی اور مفتی نعیم سمیت ثقہ دیوبندی علماء پشاور اسکول حملہ کو اسلام اور ریاست دشمنی قرار دے کر حملہ کرنے والے ظالمان کو نیست و نابود کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔قرآن پاک میں اور جناب رسولﷺ نے ’’غلو‘‘ میں مبتلا ہونے والوں کی لازمی تباہی سے آگاہ فرمایا ہے۔ لفظ ’’غلو‘‘ کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کے الفاظ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ خوارج تھے۔ عہد حضرت علیؓ سے عہد عبدالملک بن مروان تک کا عہد غلو‘ خوارج اور انتہا پسندی کا تھا۔ مسلمان ریاست کو جمہور امت سے الگ ہونے والے ان خوارج سے لڑنا پڑا تھا۔ تمام ثقہ اہل دین ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے تب جا کر یہ فتنہ ختم ہوا تھا۔ سیکولر آزاد بلوچستان کی مسلح جدوجہد‘ القاعدہ و ظالمان و داعش کے حمایتی‘ یہ سب وہ گمراہ عناصر ہیں جو پہلے کی طرح ’’را‘‘ موساد‘ سی آئی اے کے مسلمان دشمن اہداف و مقاصد کے لئے اپنی سادہ لوحی کے سبب نہایت مفید ہیں۔ ان کو استعمال کرکے پاکستان کو مزید توڑنا اورکمزور کرنا بھارت کا پچاس سالہ منصوبہ ہے۔
اہل وطن ہم متنبہ کر رہے ہیں کہ بے رحم اور پاکستان دشمن 1971ء پھر لوٹ آیا ہے۔ 1971ء میں روس اور کے جی بی بھارت کے ساتھی تھے۔ مدت سے امریکہ اور سی آئی اے۔ اسرائیل و موساد بھارت کے ساتھی اور اتحادی ہیں۔ مستقبل میں بھی یہی بھارت کے پراسرار مدد گار رہیں گے۔ جنرل راحیل شریف نے جنرل اشفاق پرویز کیانی بننے کی بجائے آگے بڑھ کر فیصلہ سازی میں کردار اپنا لیا ہے۔ کیا مارشل لاء اور عسکری اقتدار درپیش مشکلات کا حقیقی حل ہے؟ ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ شائد اکیلی فوج درپیش چیلنجوں کا مقابلہ نہ کر سکے گی کہ 1971ء کا سبق ہمارے سامنے ہے۔ کیا سیاسی فیصلہ ساز حکمران‘ میاں نواز شریف۔ اور پارلیمان ریاست اور فوج کو مطلوبہ حمایت اور مدد فراہم کر سکیں گے؟ اب ان کے پاس فیصلہ سازی کا وقت بہت ہی مختصر اور محدود ہے۔