ہوائے درد ستارے بجھا گئی سارے

23 دسمبر 2014

جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ غیر ملکی دہشت گرد پاک سرزمین چھوڑ دیں ورنہ ان کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں چھوڑیں گے یہ ایک اہم اعلان ہے۔ پاکستان دو دہائیوں سے مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ بھارت، افغانستان اور امریکہ کی طرف سے ایک مہم تواتر سے چلی آ رہی ہے کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی ہوتی ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد ہیں اور بم دھماکوں میں پاکستان ملوث ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی حکومتوں نے کبھی کھل کر اس پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب نہیں دیا۔ حد تو یہ ہے کہ افغانستان  سے دشنام طرازیاں، سرحدی خلاف ورزیاں، وارداتیں، دھماکے، قتل ، نعشیں اور الزام تراشیوں کے ساتھ دھمکیاں جاری رہیں لیکن پاکستان کی طرف سے کبھی موثر ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس کا جواب تو حکومت پاکستان ہی دے سکتی ہے کہ ایسی کیا مصلحتیں آڑھے آ رہی تھیں کہ کبھی بے سروپا الزامات کا منہ توڑجواب نہیں دیا گیا۔ اس مصلحت آمیزی یا اقتدار کے دفاع نے آج پاکستان کو کہاں لا کھڑا کیا ہے۔ ہرمہینے دو مہینے بعد پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بدترین سانحہ کا شکار ہو جاتی ہے۔ پشاور کا دلخراش اور شرمناک حادثہ صرف پاکستان کے لئے نہیں، ساری دنیا کے لئے ایک عبرتناک، سنگین اور اندوھناک حادثہ ہے۔ دہشت کی یہ لہر دنیا کے کسی بھی علاقے میں رونما ہو سکتی ہے۔ ستارے صرف پاکستان میں نہیں نکلتے، پھول صرف پاکستان میںہی نہیں کھلتے۔ پاکستانی مائیں ہی بچے جنم نہیں دیتیں۔ بچے تو دنیا کے ہر گوشے میں ہوتے ہیں اس لئے دنیا کو سوچنا چاہئے کہ جو دہشت گرد پاکستان کی مائوں میں درد بانٹ سکتے ہیں… وہ ظالم سفاک، شقی القلب کسی بھی ماں کا کلیجہ نوچ سکتے ہیں۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ملوث دہشت گردوں کے چہرے اورکلیے قہر سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ وہ غیر ملکی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی آلہ کار یا سہولت کار بن جاتے ہیں مگر اس کی بڑی وجہ بے ضمیری اور غداری سے زیادہ معاشی استحصال ہے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا انصافی ، حق تلفی، زیادتی، استحصال، مہنگائی ، بیروزگاری اور افلاس کا شکار ہے۔ حالات انسان کو مجبور اور بے حس بنا دیتے ہیں۔ باالخصوص نائن الیون کے بعد سے پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس لئے پاکستانی حکومت کو امریکہ، بھارت یا افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے الزام کی سختی سے مذمت کرنی چاہئے۔ پاکستان تو وہ مظلوم ملک ہے جہاں دہشت گردی مسلط کر دی گئی ہے۔  ہر بار صرف معصوم اور مڈل کلاس پاکستانی پبلک مقامات پر دہشت گردوں کی بریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ خاندان کے خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ پاکستان میں نہ پبلک مقامات محفوظ رہے نہ تعلیمی ادارے نہ ہسپتال نہ بازار نہ دفاتر نہ پارک نہ ہوٹل اورنہ گھر بار… ذرا غور کیجئے کہ ہم قیدیوں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے اطراف عقوبت خانے ، جیلیں اور بارکین بن گئی ہیں ہم سپیڈ بریکوں، باڑوں، جنگلوں، بیریئرز میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ہر طرف رکاوٹیں ہیں، ہر طرف ناکے ہیں، ہر طرف خوف کے سائے ہیں۔  2011ء سے 2014ء تک ہزاروں پاکستانی دہشت گردی میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ پشاور سانحہ پوری دنیا کے لئے ایک شرمناک حادثہ ہے اور ساتھ ہی ایک وارننگ بھی کہ اگر پاکستان کے یہ چمکتے ستارے لہو میں نہا سکتے ہیں تو پھر دنیا کا کوئی بھی بچہ دہشت گردی کی نذر ہو سکتا ہے اگر پاکستانی بچے محفوظ نہیں تو اس کائنات کا کوئی بھی ستارہ ٹوٹ سکتا ہے۔ اگر پاکستانی ماوئوں کی گود اجڑ سکتی ہے تو کسی بھی ماں کی کوکھ سونی ہوسکتی ہے کیونکہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا وہ صرف تباہی بربادی کی علامت ہیں ان کے سر پر خون سوار ہوتا ہے۔ وہ خون آشام بلائیں اور شیطان کے چیلے ہیں لہذا یہ جنگ محض پاکستان کی نہیں، ساری دنیا کی ہے۔ اس لئے پاکستان کا یہ فیصلہ کہ دہشت گردوں کو فی الفور پھانسیاں دی جائیں، یقیناً ایک قابل قدر فیصلہ ہے۔ گذشتہ دو دنوں میں لگاتار چھ دہشت گردوں کو پھانسی دیکر حکومت پاکستان نے ایک قابل تعریف قدم اٹھایا ہے جبکہ صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ مزید9 دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں۔ یہ سطور پڑھنے تک مزید آٹھ مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہو گا۔ جو لوگ درجنوں یا سینکڑوں معصوم اور نہتے شہریوں کو بلاقصور زندگی سے محروم کر دیتے ہیں۔ انہیں اگر سو بار بھی پھانسی کا پھندہ لگایا جائے تو کم ہے۔
پشاور سانحہ میں معصوم فرشتوں جیسے بچوں کی شہادت نے یورپی پاکستان قوم کو یکجا کر دیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اختلافات بھلا دئیے ہیں۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے۔ ایک طرف لاہور امن کانفرنس نے اپنی قرارداد میں دہشت گردوں کو فوری سزا کی حمایت کر دی ہے تو ملی یکجہتی کونسل نے بھی اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ بلا امتیاز پھانسیاں دی جائیں اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے مگر عالمی طاقتوں کی منافقتوں اور سازشوں کا سلسلہ ہنوز نہیں ٹوٹا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پھانسی کی سزاؤں پر ایک نئی بحث اور فضول قسم کی بے سروپا تنقید شروع کر دی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ’’پھانسی کی سزا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایک تو لوگ دہشت گردی میں مر رہے ہیں دوسرے انہیں پھانسیوں کے ذریعے مارا جا رہا ہے جو غلط ہے۔ مغرب کی دوغلی پالیسیوں اور منافقتوں کا جتنا بھی پردہ چاک کیا جائے کم ہے۔ پاکستان میں ہزاروں افراد دہشت گردی کی وجہ سے مر گئے مگر اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل، پوری یونین، اقوام متحدہ اور امریکہ گونگا بنا رہا۔ اب سب کو زبان لگ گئی ہے۔ جب امریکہ ڈرون حملوں کے ذریعے نہتے اور بے قصور پاکستانیوں کو ہر دوسرے دن مارتاتھا تب ایمنسٹی انٹرنیشنل بھنگ پی کے سو رہی تھی۔  دہشت گرد خون کے پیاسے ہوتے ہیں وہ ہمارے بچوں کا خون ہی پی سکتے ہی۔ تو تمہارے بچوں کو بھی کھا سکتے ہیں یہ ہوائے درد جو چلی ہے۔ یہ کسی کا بھی خیمہ اکھاڑ سکتی ہے۔