شجر سایہ دار .......جمعیت

23 دسمبر 2014

سید امجد حسین بخاری
اپنے قیام سے اب تک اسلامی جمعیت طلبہ نے تعلیمی مسائل کے حل کو اپنے ایجنڈے میں سرِ فہرست رکھا ۔ خصوصاََ اسلامی نظام تعلیم کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ۔1960ء اور70ء کی دھائیوں میں بننے والے نورخان تعلیمی کمیشن اور حمود الرحمن تعلیمی کمیشن کو اپنی سفارشات پیش کی گئیں۔جنرل ضیاء الحق کو تعلیمی مسائل کے حل کے لئے میمورنڈم پیش کیا گیا ۔1982ء سے لے کر 96ء تک کا عرصہ مسلسل تعلیم بچاؤ مہم، ہفتہ اسلامی نظام تعلیم ،طلبہ مسائل مہم اور اصلاح نظام تعلیم مہم کی صورت جمعیت تعلیم اور طلبہ مسائل کے حل کے لئے مصروف عمل رہی۔1998ء میں ملک بھر میں 11نکاتی مطالباتی مہم چلائی گئی اور صدر مملکت سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی گئی ۔حال ہی میں تعلیمی اداروں کی نجکاری اور پھر نصاب تعلیم میں شرمناک تبدیلیوں کے خلاف تمام طلبہ اور اساتذہ تنظیموں کے ساتھ مل کر تاریخی احتجاج کیا اور حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اپنے تعلیم و طلبہ دشمن فیصلے واپس لیں ۔2002ء میں ملک بھر میں 182فری ٹیوشن سنٹرز میں 8,350طلبہ کو تعلیمی امداد فراہم کی گئی ۔2005ء میں جب زلزلے نے ملک بھر میں قیامت صغریٰ بپا کردی تھی ، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے ریلیف آپریشن کے ساتھ ساتھ متاثرہ اضلاع کے ہزاروں طلبہ کے لئے فری اسٹڈی سینٹرز کا آغاز کیا  اور ان کا تعلیمی مستقبل تباہی سے بچانے میں کردار ادا کیا ۔کسی فرد کے نظریات کچھ بھی ہوں لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کی تعلیمی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بھی اسی کا اعجاز ہے کہ فری کوچنگ سنٹر اور پریکٹیکل سنٹرز کا قیام عمل میںلایا گیا۔تعلیمی اداروں میں خصوصاًجامعات وپروفیشنل تعلیمی اداروں میں طلبہ کو مفت کتب کی سہولت فراہم کی گئی۔ذہین اور باصلاحیت طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیلنٹ ایوارڈز کا اہتمام بھی اس کی خوبصورت روایت بن چکا ہے۔طلباء وطالبات میں ذوق کتب بینی کو پروان چڑھانے اور معیاری سستی کتب تک آسان رسائی کیلئے تعلیمی اداروںمیں’’کتب میلہ اور کمپیوٹر نمائش‘‘کا اہتمام کرنے کی روایت کا اعزاز بھی جمعیت کو ہی جاتاہے۔تعلیمی اداروں میںماہرین تعلیم کے لیکچرز اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا کیرئیر کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنا جیسے اقدامات بھی اسی طلبہ تنظیم کا خاصا ہیں۔نشے اور دوسری فضول سرگرمیوں سے بچانے کیلئے طلبہ کیلئے سپورٹس فیسٹیول کا آغاز ہو یا طلبہ میںچھپی ہوئی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کی بات،طلبہ مسائل کو حل کروانے کی جدوجہد ہو یا فاٹا اور مالاکنڈ آپریشن کے لاکھوں متاثرین کی مدد،ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا مرحلہ درپیش ہویا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے باک انداز میں پاکستان کے طلبہ کی نمائندگی کا چیلنج،تعلیمی اداروں میں پر امن تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری ہو یا تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کی بہتری کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ماڈل کلاس رومز کا قیام،اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کا کارنامہ ہو یا اسلام کے پرچم کی سربلندی، وطن عزیز پاکستان کے وقار کو بڑھانے اور دشمن سے بچانے کا مسئلہ ہو یا طلبہ برادری کے حقوق کی بات ہو، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنے نصب العین ،دستور، پروگرام اور روایات کی پابند رہ کر  تعلیمی خدمات کے  میدان اورایسی تمام مہمات،تحریکات اور جدوجہد کی جان رہی ہے۔طلبہ یونین کے انتخابات اس بے مثال کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ الجزائر اور جنوبی افریقہ میں فرانسیسیوں کے مظالم ، نہر سویز کا مسئلہ، اراکان میں برمی مسلمانوں پر برمی کیمونسٹ حکومت کے مظالم ،اخوان المسلمون پر مصر، عراق اور شام میں مظالم اور آزادی کشمیر کے لئے اپنے مؤقف کا ڈٹ کر اظہار کیا ۔    
اسلامی جمعیت طلبہ نے اسلام کے عالم گیر تصور کو سمجھتے ہوئے اسلامی نظام زندگی کو طلبہ کے دلوں میں اجاگر کرکے انہیں اسلام کے نفاذ کے لئے تیار کیا ہے اور ہر شعبے میں یہ طلبہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نظام اسلام کے نفاذ کی کوششیں کر رہے ہیں۔
اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ دنیا میں طلبہ تنظیموں کی فیڈریشن(وفاق) کا باقاعدہ حصہ ہے۔ انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (IIFSO) کی ممبر ہے۔جو کہ1969ء سے دُنیا بھر میں اسلامی فکر و خیال رکھنے والے طلبہ و طالبات کو امت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے مئوثر کردار ادا کر رہی ہے۔جنوبی ایشیاء ریجن میں سید ابولاعلیٰ مودودی کے بتائے ہوئے تصور اسلام اور احیائے اسلام کی تحریک سے وابستہ نوجوانوں کا ایک مضبوط بلاک بنایا جا رہا ہے۔جس میں بنگلہ دیش ،نیپال ، سری لنکا، مالدیپ،بھارت،پاکستان اور افغانستان میں موجود یہ طلبہ اپنا کردار ادا کررہے ہیںتحقیق کے میدان میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ادارہ سنٹر فار ایجوکیشن ریسرچ اینڈ پالیسی انالیسز( سراپا) اہم کردار اداکر رہا ہے ۔اسکے علاوہ اسٹڈی ایڈ پروجیکٹ کا شعبہ بھی1995ء سے کام کر رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ PHDسپانسر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ سال20باصلاحیت طلبہ کے داخلے بھی کروائے گئے ہیں ۔