مجھے جمعیت سے کیوں دلچسپی ہے؟

23 دسمبر 2014

ایوب منیر
جمعیت کے قیام کو چھیاسٹھ برس گزر چکے ہیں اور اس عرصے میں یہ طلبہ کی ملک گیر ، منظم ، باکردار ، اصول پسند اور علم دوست تنظیم بن کر سامنے آئی ہے ۔ اس تنظیم کا ایک دستور ہے ۔ اس میں باضابطہ طور پر انتخابات ہوتے ہیں ۔ فنڈز کے جمع کرنے اور تقسیم کرنے کا نظام موجود ہے  ۔اسلامی جمعیت طلبہ میں جو شخص ، اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کا جو نوجوان شامل ہوجاتا ہے وہ تحریراً اقرار کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد اللہ اور اس کے رسول ؐ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول ہے ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ،علامہ اقبالؒ اور خرم مراد ؒکے خیالات و افکار سے جمعیت مسلسل استفادہ کرتی رہی ہے اور اس پر اسے فخر بھی ہے ۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کئی نسلیں تیار ہوچکی ہیں کہ جنھوں نے بقائے پاکستان کی جنگ مشرقی پاکستان میںلڑی ہے افغانستان اور جموں و کشمیر کی تحاریک آزادی میں حصہ لیا اور اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ انھیں غیر ملکی استعمار اور غیروں کی خدائی پسند نہیں ہے ۔ جمعیت کے دستور میں یہ طے ہے کہ جمعیت کے کارکنان کسی سیاسی پارٹی کے آلہ کار نہ بنیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جماعت اسلامی سے کئی بار اختلافات سامنے آئے ہیں ۔ اگرچہ پاکستان کے کسی بھی دینی و سیاسی لگائو سے جمعیت جماعت کے زیادہ قریب ہے ۔
جمعیت کا ایک مرکزی سیکرٹریٹ جہاں مختلف شعبے ہیں اور ان کے تمام اخراجات طلبہ اپنے جیب خرچ سے ادا کرتے ہیں ۔ تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں جمعیت کے دفاتر قائم ہیں ۔ جہاں شب بیداری ، درس قرآن ، مطالعہ قرآن و حدیث اجتماعی کھانے ، اسٹڈی سرکل وغیرہ کے ذریعے نوجوانوں کی علمی تربیت کی جاتی ہے ۔
جمعیت نے امت مسلمہ کے درد کو ہمیشہ محسوس کیا ہے ۔ مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کا المناک واقعہ ہو ، لبنان پر اسرائیل کی ملٹری جارحیت ہو ۔ افغانستان و عراق میں امریکی فوجوں کے ہاتھوں معصوموں کا قتل عام ہو ، بھارت کے شہروں ، ایودھیا ، احمد آباد ، علی گڑھ، میرٹھ اور بھاگپور میں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی ہو ، بوسنیامیں خون مسلم کی ارزانی ہو یا چیچنیا کے معصوم شہریوں پر روسی حکومت موت کا دائرہ تنگ کررہی ہو ۔ فلسطین میں حماس کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد ہو یا اقوام عالم کے کسی بھی  حصے میں ظلم و ستم ، جبر اور زیادتی ہو ، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے، نعرے بلند کیے ہیں ، جلوس منعقد کیے ہیں ۔ یہ اسلامی جمعیت طلبہ کے دبائو کا نتیجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔
کشمیریوں کی پیٹھ میں کئی بار خنجر گھونپا گیا ہے۔ وہ پاکستانیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پاکستانی حکمران انھیں نئے نئے راستے سجھارہے ہیں مظفر نعیم، شعیب نیازی اور نجانے جمعیت کے کتنے جاں نثار مقبوضہ کشمیر کی وادیوں میں دفن ہیں ۔ جن کی قبریں شہادت دے رہی ہیں کہ پاکستانی نوجوان ، جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے اور پاکستان کو سلامت رکھنے میں اپنا خون بہانے میں کبھی راہِ فرار اختیار نہ کریں گے ۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو ، پاکستان کی نوجوان نسل کو اور اسلامی جمعیت طلبہ کو شادباد و شادمان رکھے ۔ آمین