نظام تعلیم کی اصلاح کیلئے جدوجہد

23 دسمبر 2014

یاسر ریاض
 موجودہ نظام تعلیم کے حوالے سے اسلامی جمعیت طلبہ کا نقطہ نظر بالکل واضح ہے۔ جمعیت پاکستان میں ایسے نظام تعلیم کا نفاذ چاہتی ہے جس کی بنیادیں اسلام اور قرآن سے اٹھائی گئی ہوں۔ جو طلبہ کو ایک کامیاب انسان، بہترین پروفیشنل اور باعمل مسلمان بنائے۔ جمعیت طبقاتی نظام تعلیم کو تمام خرابیوں کی جڑ سمجھتی ہے اور یکساں نظام تعلیم کی جدوجہد کو اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔ ایک نظام، ایک نصاب اور ایک زبان ہمارا نعرہ ہے اور ایک ایسے نظام تعلیم کے خواہاں ہیں جو طلبہ کو علم اور تحقیق کا جویا بنائے۔
نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے جمعیت نے طویل جدوجہد کی ہے 1950ء ہی میں جمعیت نے طلبہ مسائل کے ضمن میں پہلی تحریک چلائی تھی۔ 26روزہ مہم اور ہڑتال کے نتیجے میں میڈیکل کالج کے طلبہ کے تمام جائز مطالبات حکومتِ وقت نے تسلیم کر لیے تھے۔ 1952ء میں جمعیت نے ملک بھر میںاسلامی نظام تعلیم کے نفاذ کے لیے مہم کا آغاز کیا۔ دورانِ مہم جمعیت نے نہ صرف اسلامی نظام تعلیم کے نظریے کو اجاگر کیا بلکہ بڑی تعداد میں طلبہ اور عوام کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ 1963ء میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اسلامی نظام تعلیم کے موضوع پر مذاکروں کا اہتمام کیا گیا۔ اسی سال مارشل لاء حکومت نے یونیورسٹی آرڈینینس جاری کرنا چاہا تو جمعیت نے اس کے خلاف طویل مہم چلائی۔
1965ء میں حمود الرحمن تعلیمی کمیشن بنایا گیا تو جمعیت نے کمیشن کو یادداشت پیش کی۔ اسی سال جمعیت نے ’’تعلیم کا مسئلہ‘‘ کے عنوان سے مجلہ جاری کیا۔ 1966ء میں جمعیت نے خواتین یونیورسٹی کے قیام کے لیے مہم چلائی۔ 1969ء میں نور خان تعلیمی کمیشن بنا تو جمعیت نے اپنی سفارشات مرتب کر کے کمیشن کے حوالے کیں۔ اسی سال جمعیت کے تحت شائع ہونے والے رسالے ’’ماہنامہ ہمقدم‘‘ نے ’’نظام تعلیم‘‘ نمبر شائع کیا جو اسلامی نظام تعلیم کے حوالے سے ایک وقیع دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
1977ء میں منعقد ہونے والی قومی تعلیمی کانفرنس مین طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیت نے سفارشات پیش کیں ۔1983ء میں پاکستان بھر میں ہفتہ تعلیمی مسائل منایا گیااور طلبہ مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کے لیے کانفرنسز، سیمینار اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔1984ء میں مارشل لاء حکومت نے طلبہ کے جمہوری حق طلبہ یونین پر پابندی لگائی تو جمعیت نے ملک بھر میں اس فیصلے کے خلاف جمہوری انداز میں احتجاج کیا۔  1987ء میں قائد اعظم یونیورسٹی کے طلبہ کے جبری اخراج کے خلاف جمعیت نے مہم چلائی اور لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اہتمام کیا۔ شاہدرہ کے مقام پر فوجی حکومت کے حکم پر پولیس نے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کر لیا۔
1993ء میں گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بچانے کے لیے جمعیت نے ملک بھر میں ’’تعلیم بچائو مہم‘‘ کا آغاز کیا۔ 1995ء میں تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف صوبائی طلبہ ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ 1996ء میں حکومت نے طلبہ ریلیوں پر پابندی لگاتے ہوئے سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کر لیا۔ لیکن طلبہ کی یہ مہم جاری رہی۔ 1997ء میں جمعیت نے قومی تعلیمی پالیسی کے لیے ایجنڈا مرتب کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو پیش کیا۔1998ء میں حکومت نے تعلیمی پالیسی جاری کی تو جمعیت نے اس پالیسی میں موجود خامیوں کو آشکار کرنے کے لیے ملک بھر میں خصوصی پروگرامات کا انعقاد کیا۔ 1999ء میں جمعیت نے گیارہ نکاتی مطالباتی مہم کا آغاز کیا۔ 2001ء میں جمعیت نے تحقیق کے فروغ کے لیے PhDاسکالر شپ مہم کا آغاز کیا ۔
2002ء میں فوجی حکومت نے یونیورٹی آرڈیننس جاری کیا اور تعلیمی اداروں کی نجکاری کا آغار کیاتو جمعیت نے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔2003ء میں جمعیت نے تجزیہ و تحقیق کے رجحان کو فروغ دینے، تعلیمی پالیسیوں کے تجزیے اور تفہیم کے اہتمام اور متبادل راہوں کی  نشاندہی کے لیے ’’سینٹر فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ پالیسی اینالائسز (سراپا) ‘‘ کے نام سے ایک تحقیقی ادارے کی بنیاد رکھی۔ 2004ء میں نصاب تعلیم میں تبدیلی کی گئی اور قرآنی آیات کو نصاب سے خارج کیا گیا تو جمعیت نے اس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ملک بھر میں مہم چلائی۔
2006ء میں کوئٹہ میں طلبہ کے پہلے مستقل ہاسٹل کے قیام کے منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ 2010میں بیداری طلبہ مہم کے ذریعے بڑے پیمانے پر پروگرامز منعقد کئے گئے۔بورڈ آف گورنر کے قیام کے خلاف پنجاب بھر میں تحریک چلائی۔ 2011ء میں نصاب تعلیم میں قرآنی آیات اور مشاہیر کے مضامین نکالنے پر مہم چلائی گئی ، 2013 ء میں تعمیر تعلیم سے مہم کے دوران تعلیمی سفارشات مرتب کی گئیں اور پنجاب میں نصاب تعلیم میں تبدیلی کے خلاف جمعیت نے ملک گیر احتجاج کیا۔2014ء میں خیبر پختونخواہ میں نصاب تعلیم کی تبدیلی کے خلاف جمعیت نے تحریک چلائی اور صوبائی حکومت تبدیلیوں کو واپس لینے پر مجبور ہوئی۔