آئی جی قربان علی کا جھرلو اور آر ٹی ایس کی بندش

اگلے الیکشن کے بارے میں ،میں یہ کالم جان بوجھ کر تاخیر سے لکھ رہا ہوں۔دراصل میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہیں یہ شک تھا کہ نئے الیکشن مستقبل قریب میں نہیں کروائے جاسکیں گے۔ اب چونکہ آٹھ فروری 2024ءکی تاریخ کا باقاعدہ اعلان ہوچکا ہے ، سیاسی پارٹیاں چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے انتخابی مہم شروع کرچکی ہیں۔ میاں نوازشریف چار سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آگئے ہیں۔ اگر انتخابات کے انعقاد میں ذرہ بھر بھی شک ہوتا تو تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف وطن واپس نہ آتے۔ بہرحال حالات سازگار دیکھ کر ہی انہوں نے لندن کی پرسکون زندگی کو خیرباد کہا اورسیاسی گرداب میں گھرے ہوئے پاکستان کی سیاست میں چھلانگ لگائی۔
ہمیشہ کی طرح اعلان ہورہے ہیں کہ انتخابات بروقت ہوں گے۔ صاف شفاف ہوں گے۔ منصفانہ اور غیرجانبدارانہ ہوں گے۔ ایسے اعلانات ہر الیکشن سے پہلے ہوتے رہے ہیں اور ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور اور الزامات کی بوچھاڑ بھی ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کا پہلا الیکشن ایک آئی جی پولیس قربان علی کی زیرنگرانی منعقد ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں کوئی اور ادارہ زیادہ منظم نہ ہو اور اس نے پر پرزے نہ نکالے ہوں، اس لئے قرعہ فال پولیس کے حق میں نکلا۔ اس الیکشن میں وہ دھاندلی ہوئی کہ ان کا نام ہی جھرلو الیکشن پڑگیا۔ یہ تھی پاکستان میں الیکشنوں کے انعقاد کی بسم اللہ۔ جب بنیاد ہی ٹیڑھی تھی تو اس پر دیوار بھی ٹیڑھی بنی۔ فارسی کا مقولہ ہے کہ خشت اول چوں نہد....معمار کج تا ثریا میر وَد ، دیوار کج، یہ عوامی دانش کے مقبول اورزبان زد عام مقولے ہوتے ہیں ، انہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ کم از کم پاکستان کے انتخابات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ مقولہ سوفیصد سچ دکھائی دیتا ہے۔
صدر ایوب دور میں بنیادی جمہوریتوں کے نظام کے تحت الیکشن کروائے گئے ، پھر انہی کے ذریعے صدارتی الیکشن ہوا۔ میرے گاو¿ں فتوحی والا کے بی ڈی ممبر صوفی عبداللہ سنڈی کو پورے گاو¿ں والوں کے سامنے اغوا کرلیا گیا، پھر کسی کو پتہ نہیں چلا کہ انہیں زمین کھاگئی ، یا آسمان نگل گیا۔ یہ ایکسرسائز ملک بھر میں دہرائی گئی۔ مشرقی پاکستان میں انتظامیہ کو بی ڈی ممبران کے اغواکی ہمت نہ پڑی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے ، مخالف امیدوار ،بانی پاکستان قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔ صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو ایوب خان کو بھاری اکثریت سے کامیاب قرار دیا گیا۔اور الیکشن نتائج کے بعد یہ تمام بی ڈی ممبران بخیریت گھروں میں واپس پہنچ گئے، مگر یہ الیکشن ایوب خان کے زوال کا باعث بنا۔ اور پھر ان کی جگہ آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے فوجی حکومت سنبھال لی۔ ان کا مارشل لاءمختصر ترین دور کا تھا ، لیکن اس کے اثرات ملک کے لئے انتہائی مہلک ثابت ہوئے۔ اس دور میں جنرل الیکشن ہوئے ، تو ہر سیاسی پارٹی کو پاکستان مخالف نعرے لگانے کی آزادی تھی۔ نہ کوئی انتخابی ضابطہ اخلاق تشکیل دیا گیا ، اگر ایسی کوئی کاغذی کارروائی کی بھی کی گئی تو اسے سیاسی پارٹیوں نے جوتے کی نوک پر رکھا۔ جالو، جالو ، آگن جالو....کے نعرے سرِ عام لگ رہے تھے۔ جلاو¿،جلاو¿، آگ جلاو¿....کے ارادوں سے جو انتخابات ہوئے ، انہوں نے ملکی سلامتی کو خاکستر کردیا۔
اورپھر پاکستان دو حصوں میں بٹ گیا۔ مشرقی پاکستان ”آزاد “ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستانی قوم کا معدہ لکڑ ہضم ، پتھر ہضم کی صلاحیت رکھتا ہے ، اس لئے قائداعظم کا پاکستان دو ٹکڑے ہوا، تو لوگوں نے الیکشن کے اس کڑوے پھل کو بھی آرام سے ہضم کرلیا۔ بھٹو دور میں جو الیکشن ہوئے ، وہ بہت خونی تھے۔ بھٹو مخالف پی این اے اتحاد نے قومی اسمبلی کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور عوام سے اپیل کردی کہ وہ صوبائی اسمبلیوں کے پولنگ میں حصہ نہ لیں۔ عوام نے پی این اے کی اپیل پر لبیک کہا اور پولنگ سٹیشنوں پر ہو کا عالم طاری رہا۔ اس پر ملک بھر میں تحریک ِ نظام ِ مصطفی اس قدر تند و تیز ہوگئی کہ فوج بھی احتجاجی مظاہرین کو پرامن رکھنے میں ناکام ہوگئی۔
ایسے حالات میں ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے ، کہ افراتفری کا فائدہ فوج کو ملتا ہے ، اور ملک مارشل لاءکے چنگل میں چلا جاتا ہے۔ نئے فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق نے بار بار اعلان کیا کہ وہ نوے روز کے اندر الیکشن کرواکر فوج کو واپس بیرکوں میں بھیج دیں گے۔ مگر یہ نوے روز گیارہ برسوں پر پھیل گئے ، جنرل ضیاءکی حکومت نے سابق وزیراعظم بھٹو کو بھی ایک قتل کے مقدمے میں ملوث کرکے پھانسی کے پھندے پر چڑھادیا۔ اور ان کی پارٹی پر پاکستان کی سرزمین تنگ کردی گئی۔
جنرل ضیاءکہا کرتے تھے کہ وہ جنرل الیکشن ضرور کروائیں گے ، مگر اس صورت میں کہ ان کے مثبت نتائج نکلیں۔ لوگ نئے الیکشن کا انتظار کررہے تھے ، مگر جنرل ضیاءنے ایک ریفرنڈم منعقد کروادیا اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو تاحیات صدر بنوالیا۔ بعد میں انہوں نے غیر جماعتی بنیادو ں پر الیکشن کروائے ، مگر وہ اپنے ہی ہاتھوں بنائی ہوئی اسمبلی کے ساتھ نہ چل سکے۔ انہوں نے ایک سادہ پرچی پر ہاتھ سے لکھ کر حکم جاری کیا کہ حکومت اور اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔ کچھ عرصہ بعد بہاولپور کی فضاو¿ں میں ایک حادثہ ہوا ، جس میں جنرل ضیاءکی زندگی اور اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ بہرحال ان کی تاحیات صدر رہنے کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔
1988ءکے بعد بار بار انتخابات ہوئے ، محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف باری باری حکمران بنتے رہے۔ مگر کسی کو حکومتی دوام نصیب نہ ہوا۔ اب تک کے آخری فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف بھی ایوب خان اور ضیاءالحق کی طرح خوش نصیب ثابت ہوئے۔ کہ دس ، گیارہ سال تک وہ تخت ِ حکومت سے چمٹے رہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو سہارا دینے کے لئے ق لیگ کھڑی کی۔ مگر اس کا کوئی وزیراعظم اپنی ٹرم پوری نہ کرسکا۔ البتہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے خوب موج میلہ کیا۔ مشرف دور کے آخری دنوں میں ایک جانکاہ حادثہ ہوا اور محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کردیا گیا۔ بعد میں الیکشن ہوئے ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے باری باری حکومتیں بنائیں۔ اس دوران میں عمران خان کی صورت میں ایک تیسری سیاسی قوت ابھری۔ جس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی طاقت تھی۔ 2018ءمیں جو الیکشن منعقد ہوئے ، اس کے لئے آر ٹی ایس کے نام سے ایک کمپیوٹرائزڈ سسٹم وضع کیا گیا تاکہ الیکشن کے نتائج صاف و شفاف اور فوری حاصل کئے جاسکیں۔مگر آر ٹی ایس کے نظام نے پراسرار طور پر رات کے دس بجے کام کرنا بند کردیا۔ سیاسی جماعتوں نے الزام لگا یا کہ اب رات کے اندھیرے میں الیکشن کے نتائج تبدیل کئے جائیں گے۔
اگر یہ نتائج تبدیل بھی کئے گئے تو پھر بھی عمران خان کو حکومت بنانے کے لئے مطلوبہ اکثریت نہ ملی۔ اس موقع پر جہانگیر ترین کا جہاز حرکت میں آیا اور اس میں قومی اسمبلی کے ارکان کو لاد کر اسلام آباد پہنچایا گیا ، تاکہ وہ عمران خان کے حق میں ووٹ دے سکیں۔
چنانچہ ان انتخابات کی پوری تاریخ لوگوں کی نظروں میں ہے۔ بلکہ ایک الیکشن کے بعد تو عمران خان نے 35پنکچرز کا بھی الزام عائد کیا تھا ، اس نے اس مقصد کےلئے مہینوں احتجاجی دھرنا بھی دیا اور حکومتی نظام جام کرکے رکھ دیا۔ حتیٰ کہ چینی صدر کو پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ اب پچھلے دو سال سے ایک ”نیا کھیل “شروع ہے۔ حکومتیں اور اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں ، مگر آئین کے مطابق مقررہ مدت میں الیکشن نہیں کروائے جاتے۔ کبھی الیکشن کمیشن کوئی بہانہ پیش کردیتا ہے ، کبھی حکومت کہتی ہے کہ اس کے پاس الیکشن اخراجات کےلئے پیسہ نہیں ہے، کبھی فوج کا موقف سامنے آتا کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی سنگین لہر اورملکی سلامتی کے پیشِ نظر فوج کو الیکشن ڈیوٹی کے لئے متعین کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ اب دیکھئے کہ آٹھ فروری 2024ءکو الیکشن کمیشن بھی کوئی ہچڑ مچڑ نہ کرے ، حکومت کے پاس بجٹ بھی ہو اور فوج بھی سیکورٹی خطرات سے محفوظ ہو۔

اسد اللہ غالب....انداز جہاں