کسان پریشان

22 نومبر 2009
مکرمی! دھان کی فصل برداشت کے موسم سے گزر رہی ہے کاشتکاروں نے 20/25ہزار روپے فی اےکڑ زمےن ٹھےکے پر لے کر انتہائی مہنگے ترےن مداخل خرےد کر چاول کی فصل کو پالا ہے لےکن مارکےٹ کی اندھی قوتوں اور نادےدہ سےاسی سرپرستی کی ملی بھگت نے دھان سپر باسمتی کا بھاﺅ اچانک اتنا کم کر دےا کہ ےعنی 700/750کے درمےان کہ کاشت کار فی اےکٹر 25000روپے کا مقروض ہو کر رہ گےا ہے ےہی وجہ ہے کہ ملک کے طول و عرض مےں کاشتکاروں کے گھروں مےں صف ماتم بجھ گئی ہے ۔مغربی ےورپ امرےکہ ،کےنےڈا،چاپان ،جنوبی کورےااور سنگا پور اپنے ہاں کے کاشتکاروں کو کھربوں ڈالر کی سبسڈی دے کر فصلوںکی انشورنس کا نظام قائم کرکے ہر قسم کا تحفظ دےتے ہےں اور ان کی زرعی پےداوار کو مناسب قےمتوں پر خرےد لےا جاتا ہے تاکہ غذائی اجناس کی قلت کا سامنانہ کرنا پڑے اور معاشرے کو ہر قسم کے استحصال سے بچاےا جا سکے ۔لےکن پاکستان مےں گنگا الٹی بہہ رہی ہے ہمارے ارباب حال و عقد کاشتکاروں اور مزدور طبقے سے کوئی انتقام لے رہے ہےں کہ وہ ان کے تحفظ کے لئے کچھ کرنا نہےں چاہتے لالچ اور خود غرضی نے ان کو اتنا اندھا کر دےا ہے کہ ملک کی اعلی عدلےہ کے فےصلوں تک کو انہوں نے بے اثر کر کے رکھ دےا ہے اور عوام کو مارکےٹ اکانومی کے بھڑےوںکے آگے ڈال دےا ہے جو ان کو خوب جی بھر کر لوٹ رہے ہےں اور ملک کی منتخب اسمبلےاں دور بےٹھی تماشہ دےکھ رہی ہےں ۔ساڑھے بارہ صد روپےہ فی 40کلو گرام کے حساب سے سپر باسمتی کی فصل خرےدنے کا انتظام کہےں نظر نہےں آتا ۔ملک کے ستم رسےدہ عوام شائد ان کا آخری ہو ےہ ستم ہر ستم ہم آخری سمجھ کر سہہ گئے کی کےفےت مےں مبتلا رہ رہ کر تھک چکے ہےں کےونہ وہ آخر کار انقلاب فرانس کی ےادےں تازہ کر دےں کےونکہ عوامی انقلاب کبھی غےر آئےنی نہےں ہوتے۔ سلطان احمد مونگ، ضلع منڈی بہاﺅالدےن0334-5919962