چیف جسٹس آف پاکستان کے نام

22 نومبر 2009
مکرمی! سائلہ کے بیٹے اسرار احمد کے خلاف FIR No. 4/2003 مورخہ 26-02-2003 کو پولیس سٹیشن PCI ملتان بجرم 1997 9(CNS) کے تحت درج رجسٹرڈ کی تھی۔ یہ کہ سائلہ کے بیٹے کا ٹرائل بعدالت جناب ایڈیشنل سیشن جج ڈیرہ غازی خان مےں فیصلہ ہوا، فیصلہ کی رو سے سائلہ کے بیٹے کو 9(CNS) 1997 کے تحت سزائے موت سنائی گئی جو کہ پاکستان بننے کے بعد کسی بھی منشیات کے مقدمہ مےں سب سے بڑی سزا ہے جس کا حوالہ عدالت عالیہ نے بھی فیصلہ کرتے وقت اپنے فیصلہ مےں کیا ہے۔ یہ کہ سائلہ کے بیٹے کے خلاف حکومت پاکستان کے خفیہ اداروں نے اپنی ساکھ کو بچانے کے لئے سائلہ کے بیٹے اسرار احمد کو قربانی کا بکرا بنایا۔ اس وجہ سے سائلہ کے بیٹے کے ٹرائل کے دوران سائلہ کے دوسرے بیٹے ساجد خان جو کہ اس وقت مقدمہ کی پیروی کر رہا تھا کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود تھے لیکن ٹرائل کورٹ نے کسی سرکااری گواہ کا بیان قلمبند نہ ہونے دیا۔ یہ کہ سائلہ کے بیٹے کے ٹرائل کے دوران ہی سائلہ کے بیٹے کا جوڈیشل ریکارڈ بالخصوص تحریری شہادت کو خفیہ ہاتھوں نے تبدیل کر دیا جس کا واویلا سائلہ کا دوسرا بیٹا ساجد خان تنولی ٹرائل کورٹ اور معزز عدالت لاہور ہائی کورٹ لاہور مےں بھی بذریعہ جوڈیشل درخواست گیا اور لاہور ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کی ہدایت پر سائلہ کے بیٹے نے مصدقہ ریکارڈ بھی پیش کیا جس مےں تحریری شہادت تبدیل کر دی گئی تھی لیکن اس جوڈیشل درخواست کا کوئی فیصلہ 18-05-2009 کے فیصلہ ٹائپ ہونے تک نہ کیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد اگلے ہی دن سائلہ کے بیٹے ساجد خان تنولی کو بذریعہ لیٹر اطلاع بھجوا دی گئی کہ جو ریکارڈ و درخواست بابت تبدیلی ریکارڈ آپ نے دی ہے وہ لاہور ہائی کورٹ کے جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ سے واپس وصول کر لیں اس طرح لاہور ہائی کورٹ لاہور کو اصل حقائق سے دور رکھا گیا اگر ٹرائل کورٹ مےں شہادت تبدیلی کا ظلم نہ ہوتا یا لاہور ہائی کورٹ مےں اس زیادتی کی جوڈیشل انکوائری ہو جاتی تو سائلہ کے بیٹے اسرار احمد نے باعزت بری ہو جانا تھا۔ یہ کہ سائلہ کے بیٹے کا مقدمہ اب سپریم کورٹ سے بھی فیصلہ ہو چکا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ایک عدد درخواست نظر ثانی نمبر 39-L/2009 داخل کی ہوئی ہے جو کہ زیر سماعت ہے۔ یہ کہ سائلہ کے بیٹے نے چیف جسٹس انکوائری سیل مےں ایک درخواست نمبری 166 بتاریخ 03-09-2009 داخل کی ہوئی ہے۔ اس درخواست مےں تماام حالات ٹرائل کے شروع سے تافیصلہ ہائی کورٹ درج ہےں۔ بذریعہ اپیل ہذا سائلہ دست بستہ عرض گزار ہے کہ درخواست نظرثانی کا فیصلہ ہونے سے قبل درخواست نمبری 166 بتاریخ 03-09-2009 کا فیصلہ فرمایا جائے تاکہ سائلہ کے بیٹے اسرار احمد کے ساتھ ہونے والی جوڈیشل زیادتیوں کا پردہ چاک ہو سکے اور قانون کے مطابق سائلہ کی دل جوئی فرمائی جائے۔
رضیہ بیگم زوجہ سردار خان تنولی، ساکن ہیراں ڈاک خانہ جرل تحصیل ضلع ایبٹ آباد، موبائل: 0306-8172875