”یہ معصوم پھول توجہ چاہتے ہیں

22 نومبر 2009
مکرمی! دلفریب وادیاں، مست فضائیں، بہتے جھرنے اور دلکشن نظارے بلاشبہ قدرت کا بے بہا عطیہ اور حسن ہے لیکن یہ حسن بچوں کی معصوم کلکاریوں کے بنا ادھورا ادھورا سا محسوس ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس آج کھلونوں سے کھیلنے والے یہ بچے وقت کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ مسائل یا ہمارا نظام دونوں میں کوئی تو بات ہے جس نے قدرت کی اس خوبصورتی کو تہس نہس کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی یہ بچے کندھوں پر معاشی بوجھ اٹھائے معاشرے کی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں جن کے ہاتھوں میں ہم نے قلم کے بجائے اوزار پکڑا رکھے ہیں۔ 20 نومبر بچوں کا عالمی دن تھا سیمینار منعقد ہوئے بلند و بانگ دعوے کئے گئے۔ بچوں کے حقوق کی باتیں ہوئیں کیونکہ گئے سال بھی یہی کچھ ہوا تھا، مگر میں نے اس سال بہت غور کیا کہ شاید میرے اردگرد بچوں کی یہ دنیا تبدیل ہو گئی ہے مگر کچھ نہیں بدلا ہوٹلوں، ورکشاپوں میں یہ معصوم بچے ”چھوٹے پپو“ کالو کے نام سے اپنے اصل نام بھلائے دن رات کی گردش کا ستم سہہ رہے ہیں ۔ ریڑھیاں سجائے اخبارات بیجتے پھولوں کے گجرے ہاتھوں میں لئے حسرت سے سکولوں کو جاتے بچوں کو تکتے زندگی دان کر رہے ہیں گھروں کی چاکری کرتی معصوم لڑکیاں اپنے معصوم اور ننھے منے ہاتھوں سے نیپی بدلتی یہ معصوم بچیاں خوابوں کی راکھ پر زندگی گزار رہی ہیں۔ پھر ہم کن بچوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں؟ ارباب اختیار سے صرف اتنی گزارش ہے مسکراہٹیں لا دو۔(مس طاہرہ جبین تارا لاہور)