راگ درباری

22 نومبر 2009
ارشاد احمد عارف۔۔۔
این آر او سے فائدہ اٹھانے والے سیاست دانوں‘ بیوروکریٹس اور دیگر بااثر افراد کی فہرست میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو جب مختلف تاویلات کے ذریعے اس کالے قانون کی افادیت بیان کررہے تھے تو ٹی وی کے ناظرین کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اگر یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے سیاسی انتقام کا ازالہ کرنے کی ایک مفید کوشش تھی تو وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم جاوید ہاشمی نے اس سے فائدہ اٹھانے کو معیوب کیوں سمجھا اور جب غلط فہمی یا شرارت سے وزیراعظم کی اہلیہ محترمہ فوزیہ گیلانی کا نام این آر او سے فیضیاب ہونے والوں کی فہرست میں آگیا تو وزیراعظم کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ”اگر یہ ثابت ہو جائے کہ میری اہلیہ نے کسی قسم کا فائدہ اٹھایا ہے تو میں اپنا منصب چھوڑ دوںگا۔“
بلاشبہ پاکستان میں سیاسی انتقام کی روایت موجود ہے‘ اس ملک میں چودھری ظہور الٰہی مرحوم پر بھینس چوری کا الزام لگ چکا ہے‘ عوامی شاعر حبیب جالب سے پستول برآمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی‘ ایوب دور میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پر بھی اسی قسم کا ایک بے ہودہ مقدمہ قائم کیا گیا‘ ایئرمارشل (ر) اصغر خان پر ہوٹل میں توڑ پھوڑ کا الزام لگا‘ سیاسی لیڈروں اور کارکنوں پر اس قسم کے مقدمات قائم کئے جاتے ہیں اور وہ گرفتار بھی ہوتے ہیں لیکن کسی سیاست دان نے اپنے خلاف مقدمات کی این آر او کے ذریعے واپسی کے حق میں کبھی یہ دلیل نہیں دی کہ چونکہ عرصہ دراز تک ان کا فیصلہ نہیں ہو سکا‘ اس لئے یہ سب سیاسی انتقام تھا‘ کسی ملزم کا عدالت میں پیش نہ ہونا‘ طویل عرصہ تک مقدمہ کو لٹکائے چلے جانا اور فیصلے کی نوبت نہ آنے دینا‘ اس بات کا ثبوت ہرگز نہیں کہ وہ بے گناہ اور بے قصور ہے‘ کوئی بے گناہ آخر کیوں عدالت کے بجائے کسی غاصب‘ جابر اور عوام دشمن حکومت سے رعایت طلب کرے‘ یہ تو تاریخ کی عدالت میں اپنے آپ کو قصور وار ثابت کرنے کے مترادف ہے۔
این آر او پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور پیپلزپارٹی کے علاوہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیاسی سطح پر بدنام کرنے کیلئے جاری کیا‘ مجرم اول بھی پرویز مشرف ہے مگر پیپلزپارٹی کی نابالغ قیادت نے اسکی صفائیاں دے دے کر اپنے گلے کا ہار بنا لیا ہے۔ چودھری شجاعت حسین جب این آر او کی تشکیل کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں تو اس کا مقصد پیپلز پارٹی کے قائدین کی بے گناہی پر مہر تصدیق ثبت کرنا نہیں بلکہ ایک سیاسی چال کو منکشف کرنا ہے جو مسلم لیگ (ق) اور پرویز مشرف نے پیپلزپارٹی کے خلاف چلی۔ بی بی کی شہادت نے یہ چال ناکام بنا دی تھی مگر پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے باوجود اس چال کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ نہ لگا سکی۔ ڈوگر کورٹ سے بی اے کی شرط ختم کرانے کے بجائے اگر ان مقدمات میں ریلیف لے لیا جاتا جو 28 نومبر کے بعد افضل سندھو کے بقول اوپن ہو جائیں گے‘ تو آج حکومت کے ماہرین قانون کو ان بودے دلائل اور کمزور تشریحات کا سہارا نہ لینا پڑتا‘ جن کی وجہ سے انکی بھد اڑ رہی ہے اور حکومت کی سیاسی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
افضل سندھو اپنی پارٹی کے اہم افراد کی صفائی پیش کر رہے تھے اور میں ماضی کے ایک ایسے سادہ منش وزیراعظم اور نیک نام سیاست دان کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کی کابینہ کے ایک رکن مخدوم سید یوسف رضا گیلانی بھی ہوا کرتے تھے۔ محمد خان جونیجو کو نہ تو عوامی مقبولیت کا کوئی زعم تھا اور نہ وہ اپنی جیب میں سندھ کارڈ قسم کی کوئی توپ رکھتے تھے‘ سادگی‘ دیانت‘ قناعت ‘ نیک نامی اور منصبی تقاضوں کا احساس انکی کل کائنات تھی‘ تین بااثر وزیروں خان آف قلات پرنس محی الدین بلوچ‘ اسلام الدین شیخ اور چودھری انور عزیز کے بارے میں انہیں شکایت ملی کہ ان کی وزارتوں میں گھپلے ہو رہے ہیں جس سے حکومت کی بدنامی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کے عتاب، پیر صاحب پگارا کی ناراضگی اور اپنی حکومت کو لاحق خطرات کی پروار کئے بغیر ان سے استعفے طلب کر لئے، تین بااثر وزیر چلے گئے‘ حکومت چلتی رہی اور وزیراعظم کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہوا۔
معلوم نہیں وزیراعظم گیلانی کا آئیڈیل ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے علاوہ آصف علی زرداری ہیں یا محمد خان جونیجو کی یاد ان کے نہاں خانہ دل میں کہیں جاگزیں ہے لیکن این آر او کے معاملے میں انہوں نے اپنے اور پیپلز پارٹی کے موجودہ قائد کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کی‘ یہ مخدوم یوسف رضا گیلانی ہی تھے‘ جن کے مشورے پر محمد خان جونیجو مرحوم نے لاہور کے جلسہ عام میں یہ تاریخ ساز جملہ کہا تھا ”جمہوریت اور مارشل لاءایک ساتھ نہیں چل سکتے“۔ جمہوریت اور کرپشن یا جمہوریت اور این آر او ایک ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ اب گیلانی صاحب کو کرنا ہے‘ کیونکہ اخلاقی برتری اور جواز سے ہی سیاست دانوں کو غیرسیاسی قوتوں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ہر قیمت پر اقتدار میں رہنے اور بدنامی کا بوجھ اٹھا کر وزارتوں کے مزے لوٹنے کی خواہش انسان کو دور ازکار تاویلات اور بعیداز قیاس قانونی موشگافیوں کی راہ دکھاتی ہے‘ جس کا مظاہرہ ان دنوں این آر او کے فیض یافتگان‘ ان کے سیاسی بھونپو اور قلمی کارندے شدومد سے کر رہے ہیں۔ ہر ٹی وی چینل کی سکرین اور اخبار کے صفحہ پر یہ راگ درباری خشوع و خضوع سے الاپا جا رہا ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو پریس کانفرنس کے دوران این آر او کے حق میں دلائل تراشتے ہوئے پتہ نہیں کیوں صحافیوں اور کیمرے کی آنکھ سے آنکھ ملانے میں دقت محسوس کر رہے تھے حالانکہ ان کا اپنا نام اس فہرست میں ہرگز نہیں تھا‘ دور دور تک نہیں۔