کوئلوں کے دلال!

22 نومبر 2009
گزشتہ ہفتے امریکی اخبار ”نیویارکر“ کو انٹرویو دیتے ہوئے ”سابق باوردی صدر“ نے حالیہ ” بے وردی“ صدر جناب آصف علی زرداری کے بارے میں کہا ہے کہ وہ انتہائی کرپٹ اور ناقابل اعتبار شخص ہے یہ ”ارشاد مبارک“ اس ”بھگوڑے جرنیل“ کا ہے جو نو سال تک قومی مفاد کے نام پر قومی مفاد کو بری طرح کچلتا رہا اور جاتے جاتے اقتدار اپنے جیسی صلاحیتیں رکھنے والوں کے سپردخاک کر گیا۔ ”بھگوڑے امریکی ایجنٹ“ کے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اسے اب تک نو بار پھانسی کی سزا ضرور ہو چکی ہوتی کہ نو سالہ اقتدار میں ہر سال اس کے جرموں کی کم از کم پھانسی ہی سزا بنتی ہے۔ افسوس کہ اقتدار کے ”ڈیلروں“ نے اسے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا کچھ لو کچھ دو کے تحت ہونے والی ڈیل کے نتیجے میں اب دونوں فریق سکون سے بیٹھے ہیں۔ ایک ملک کے اندر دوسرا باہر۔ ایک ملک کو اندر سے کھائے جاتا ہے، دوسرا باہر سے۔ اندر اور باہر سے یہ دونوں ایک ہیں، نہ ان کی صلح ملک وقوم کے لئے تھی نہ لڑائی۔ صلح شاید اس لئے ہوئی تھی کہ دونوں مل کر لوٹیں گے اور لڑائی اس لئے ہے کہ ایک نے دوسرے کو ”حصہ دار“ بنانے کی بجائے اس کی چھٹی کرا دی۔
گزشتہ برس ”بے وردی “ صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات مجھے ابھی تک یاد ہے آپ جناب سرکار نے فرمایا تھا۔ ”لوگ کہتے ہیں جنرل مشرف کو سزا دی جائے۔ اس کے لئے یہ سزا کافی نہیں کہ جس سیٹ سے ہمیشہ جڑے رہنے کا خواب اس نے دیکھا تھا وہ اس سے چھن گئی؟ اب وہ گھر بیٹھے کڑھتا ہے کہ جس شخص کو نو برسوں تک ناجائز طور پر اس نے جیل میں رکھا آج وہ اس کی سیٹ پر بیٹھا ہے، کیا یہ سزا اس کے لئے کافی نہیں؟ “ .... کاش کسی روز پھر ”بے وردی صدر“ سے ملاقات ہو تو ان سے پوچھنے کی جسارت کریں، حضور وہ تو حق دار تھا کہ اسے سزا دی جاتی، عوام کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ اس بات کی کہ وہ شہید بی بی کو زندہ دیکھنا چاہتے تھے یا اس بات کی کہ وہ اس کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں؟ منتخب صدر نے عوام کے درد کو ذرا سا محسوس کیا ہوتا تو ان کے بارے میں جو زہر سابق جرنیل حکمران نے اگلا عوام کا غم وغصہ اس پر دیدنی ہوتا۔ عوام تو دور کی بات ہے خود ان کی پارٹی کی حالت یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ وزیر نجی محفلوں میں سابق جرنیل حکمران کی حالیہ ”خوش بیانی“ سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم کا ردِعمل بھی اتنا ”ہومیو پیتھک“ ہے جیسے کہنا چاہتے ہوں ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“ ان سے تو بہتر اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان نکلے۔ ” سابق باوردی صدر“ کے ”حالیہ بے وردی صدر“ کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس کے بارے میں جنہوں نے اتنا شدید ردِ عمل ظاہر کیا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما کم اور ” صدارتی ترجمان“ زیادہ محسوس ہوئے۔ سنا ہے پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماو¿ں نے چودھری نثار علی خان سے اس بات کا گلہ بھی کیا کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کیوں بنے ہو؟
اپوزیشن لیڈر فرماتے ہیں ” صدر زرداری کے خلاف مشرف کے توہین آمیز الفاظ پر حکومت کا ردِعمل نہیں آیا“ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے ساری حکومت تو ”مال گاڑی“ میں سوار ہے، باہر کے معاملات دیکھنے کی فرصت کس کے پاس ہے؟ ان حالات میں ”ردی عمل“ جیسا ردِ عمل بھی کافی ہے، ہمیں تو اتنی بھی امید نہیں تھی۔ لاہور میں صدر زرداری کے حق میں پوری تین ”جلوسیاں“ نکلیں، جس کے شرکاءکی تعداد دیکھ کر یقین ہو گیا۔ حکمران پارٹی کا واقعی ”جلوس“ نکل چکا ہے۔ ان ”جلوسیوں“ میں جنرل مشرف کے پتلے کو جوتیاں ماری گئیں، یاد رہے کہ یہ وہی جنرل مشرف ہے جس نے این آر او کا ”بہشتی دروازہ“ کھولا تھا، جس سے گزر کر کئی جرائم پیشہ ”فرشتے“ قرار پائے۔ جی ہاں وہی جنرل مشرف جس کے اندھا دھند جرائم کی سزا اسے فرار کروا کر دی گئی اب اس کے پتلے جلائے جائیں یا اسے جوتیاں ماری جائیں اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟ گونگلوو¿ں سے مٹی جھاڑ کر عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ سیاستدان اور جرنیل اقتدار کی خاطر کیا کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ؟ عوام سب جانتے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں محض اقتدار کے لالچ نے پیپلز پارٹی کو اس جرنیل صدر کے قریب کر دیا تھا اپنی کتاب میں جس نے شہید بھٹو اور پیپلز پارٹی کے لئے انتہائی نازیبا جذبات کا اظہار کیا تھا؟ پیپلز پارٹی کے وزراءنے جس فخر سے اس جرنیل صدر کو حلف دیئے وہ بھی تاریخ کا ”روشن باب“ ہے اب اسی شخص نے جناب آصف علی زرداری کے لئے نامناسب جذبات کا اظہار کیا ہے تو اس سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑی؟ جناب آصف زرداری شہید بھٹو سے زیادہ اہمیت کے حامل تو نہیں۔
اقتدار میں اخلاقیات نام کی کوئی شے نہیں ہوتی، کل کے بدترین دشمن ذاتی مفادات کے لئے آج کے بہترین دوست اور آج کے بدترین دشمن ذاتی مفادات کے لئے کل کے بہترین دوست ہوں تو اس پر حیران ہونے کی ذرا ضرورت نہیں۔ اپنی ساری دوستیوں اور دشمنیوں کو یہ ملک وقوم کے مفاد میں قرار دیتے ہیں کون ان سے پوچھے جب پیپلز پارٹی اور مشرف کی ”دوستی “ تھی تو ملک وقوم کو کیا فائدہ ہوا۔ آج دشمنی ہے تو ملک وقوم کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ کل جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ایک دوسرے کے دست و گریبان تھے تو ملک وقوم کو کیا فائدہ ہوا تھا اور آج ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ہیں تو ملک وقوم کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ تو جناب عرض ہے ان کی دوستیوں اور دشمنیوں کے ”رازوں“ سے عوام اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں۔ کوئلوں کے دلال ایک دوسرے کا منہ کالا نہیں کرینگے تو کیا کرینگے؟ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں اللہ انہیں نیکی کی ہدایت دے کہ ہم تو پہلے ہی بدنامیوں کی دلدل میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں، اتنے کہ جو کچھ ”سابق باوردی صدر“ ”موجودہ“ ”بے وردی صدر“ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے اس کی تردید کر سکتے ہیں نہ اس کی جو موجودہ ” بے وردی صدر“ کے حواری سابق ”باوردی صدر“ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں دنیا ہمارے اچھے حکمرانوں کی تاریخ کھنگالے تو کتنے نام سامنے آئیں گے؟ کاش ہم کبھی اپنے حکمرانوں پر فخر بھی کر سکیں، شرمندہ تو ہوتے ہی رہتے ہیں!