وزیرستان : جھڑپیں‘ ایف سی کیمپ پر حملہ‘ افسر سمیت 6 اہلکار‘ 20 شدت پسند جاںبحق

22 نومبر 2009
اسلام آباد + وانا + اورکزئی ایجنسی (ایجنسیاں + مانیٹرنگ نیوز) جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات‘ شمالی وزیرستان میں ایف سی کیمپ پرحملے اور جھڑپ میں ایک افسر سمیت 6 اہلکار جبکہ 20 شدت پسند جاںبحق ہو گئے‘ اورکزئی ایجنسی میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 8 غیر ملکیوں سمیت 12 افراد مارے گئے‘ باڑہ میں شدت پسندوں نے ایک اور سکول کو دھماکے سے اڑا دیا۔ تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں شدت پسندوں نے ایف سی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا۔ حملے میں ایک آفیسر سمیت 6 سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی اور قریبی پہاڑوں میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جوابی کارروائی میں شدت پسندوں کے کمانڈر سمیت 6 شدت پسند جاںبحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے دوران 14 شدت پسند جاںبحق ہو گئے۔ فورسز نے جنڈولہ کے قریب جنڈالی والا کے علاقے کو کلیئر کر دیا ہے۔ آمدہ اطلاعات اور سرکاری ذرائع کے مطابق ہفتہ کی سہ پہر جیٹ طیاروں نے اورکزئی ایجنسی کے بالائی علاقے اور اپر سب ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر غلجو میں واقع افغان مہاجرین کیمپ پر عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں آٹھ (افغانی) جاںبحق ہو گئے جو مبینہ طور پر عسکریت پسند سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ذرائع کے مطابق بمباری کے باعث ایک گولہ قریب واقع غلجو بازار میں گرنے سے چار مقامی قبائلی بھی جاںبحق ہو گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق بمباری کے باعث متعدد مکانات اور دکانیں تباہ ہو گئیں۔ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے‘ بمباری کے باعث علاقے میں مواصلاتی نطام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ دریں اثناءسکول کی عمارت میں بارودی مواد نصب کر کے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ جنوبی وزیرستان میں کانی گرم کے قریب ایک 70 فٹ لمبی سرنگ برآمد ہوئی جس کو تباہ کر دیا گیا‘ شدت پسندوں کے زیر استعمال ایک جامع الیکٹرانک نظام کو بھی تباہ کیا گیا۔ خیبر ایجنسی میں افغانستان سے بڑے پیمانے پر ہتھیار سمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسلحہ کے 2 ٹرک پکڑ لئے گئے‘ اسلحہ کی مالیت 10 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے‘ ڈرائیور اور کلینر فرار ہو گئے۔ باجوڑ ایجنسی سے سرچ آپریشن کے دوران 16 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔