این ایل سی میں بدعنوانیاں : ذمہ داروں کے تعین کی رپورٹ نہ ملی تو یکطرفہ ایکشن لیں گے : پی اے سی

22 نومبر 2009
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی/ نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے این ایل سی میں ایک ارب 70کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیوں کے ذمہ داروں کا تعین 15دن کے اندر کرکے کمیٹی کو رپورٹ نہ دینے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے این ایل سی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ اگر عید کے فوراً بعد رپورٹ پیش نہ کی گئی تو ہم یکطرفہ ایکشن لینے میں حق بجانب ہونگے۔ گذشتہ روز پارلیمنٹ ہاﺅس میں چیئرمین کمیٹی چودھری نثار علی خان کی زیرصدارت اجلاس میں وزارت پانی و بجلی‘ دفاع‘ سیاحت اور دیگر حکام نے شرکت کی جبکہ کمیٹی نے چھاﺅنیوں میں دفاعی مقاصد کیلئے مختص زمین کے تجارتی مقاصد کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت دفاع کو ہدایت کی ہے کہ پی اے سی کو ملٹری لینڈ کے تمام منصوبوں کی مانیٹرنگ رپورٹ پیش کی جائے جبکہ چھاﺅنیوں کی حدود میں واقع کمرشل پلازوں‘ پٹرول پمپوں‘ ریستورانوں اور فوجی زمینوں کے دیگر تجارتی مقاصد کے استعمال کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ۔ اس موقع پر چودھری نثار علی خان نے کہاکہ فوج کے فنانس اور لین دین کے معاملات کا عوام کو علم ہونا چاہئے کیونکہ 9سال تک فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت کے باعث مسلح افواج کے معاملات پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک جامع مانیٹرنگ پالیسی وضع کرنے کیلئے وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف سے بات کرونگا۔ علاوہ ازیں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چشمہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے قواعد و ضوابط کے برعکس ایک ارب 24کروڑ 40لاکھ کی ادائیگی کی گئی جس پر کمیٹی نے سیکرٹری پانی و بجلی سے 15روز میں رپورٹ طلب کرلی۔