اہم سیاسی جماعتوں نے ’’این آر او زدگان‘‘ کیخلاف عدالتی کارروائی کیلئے دبائو بڑھانے کا فیصلہ کر لیا

22 نومبر 2009
لاہور (سلمان غنی) این آر او زدہ حکمرانوں‘ وزراء اور افسروں کے خلاف عدالتی کارروائی کیلئے مسلم لیگ ن‘ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سمیت متعدد سیاسی و مذہبی جماعتوں نے سیاسی دبائو بڑھانے کا فیصلہ کیا اور عیدالضحیٰ کے فوری بعد این آر او زدہ حکمرانوں کی قربانی کیلئے اپنی اپنی حکمت عملی کا تعین کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے درمیان این آر او زدہ وزراء اور حکام سے نجات کیلئے بھی رابطے قائم ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پارلیمنٹ کے شر وع ہونے والے اجلاس میں این آر او زدہ وزراء اور حکام کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر این آر او سے مستفید ہونے والے وزراء اور حکام کے خلاف آنے والے دبائو سے نمٹنے کیلئے بھی غور و خوض شروع ہو چکا ہے۔ باوثوق حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت این آر او کے مسئلہ پر کسی غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مسلم لیگ ن کی قیادت سے مشاورت پر غور کر رہی ہے تاکہ مسلم لیگ ن کو باور کرایا جائے کہ این آر او کو ایشو بنا کر کچھ قوتیں جمہوری سسٹم کو ٹارگٹ کرنا چاہتی ہیں لہٰذا اس حوالے سے ایسا طرز عمل اختیار نہ کیا جائے جس کے نتیجہ میں سسٹم غیرمستحکم ہو۔ ذرائع کے مطابق این آر او پر پیدا شدہ صورتحال پر خود حکومت اور اسکے اتحادیوں کا اجلاس بلائے جانے کا بھی امکان ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت کو بعض قانونی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ این آر او کے خاتمہ کے ساتھ ہی ایک نیا آرڈیننس لا کر کسی نئی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔