لاہور میں پابندی کے باوجود رات گئے تک شادیاں جاری‘ پولیس کارروائی نہیں کرتی

22 نومبر 2009
لاہور (خبرنگار خصوصی +سپیشل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت میں حکومتی پابندی کے باوجود رات گئے شادیوں کی تقریبات جاری رہیں۔ اور رات دس بجے تک کی ڈیڈلائن کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔ گزشتہ روز بھی لاہور میں پانچ ہزار سے زیادہ شادی کی تقریبات ہوئیں اور شادی گھروں کے گرد سڑکوں پر رات گئے تک ٹریفک کا رش رہا۔ بعض شادی ہالوں میں جنریٹر کھڑے کر کے شادی کے لئے بجلی فراہم کی گئی تاہم حکومت کی کوئی چھاپہ مار ٹیم کارروائی کرتی نظر نہ آئی۔ گزشتہ رات لاہور میں پانچ ہزار سے زیادہ شادی کی تقریبات ہوئیں۔ ذرائع نے بتایا محرم سے پہلے تک لاہور شہر میں تقریباً بیس ہزار سے زیادہ شادی کی تقریبات ہونگی جبکہ پولیس نے محلوں میں ہونے والی شادی کی تقریبات کیلئے پیسے لے کر سپاہی فراہم کرنے کا سلسہ شروع کر دیا ہے تاہم بعض افراد نے شکایات کی ہیں کہ رات گئے 15 پر کالیں کر کے تقریبات‘ ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی اطلاعات دی ہیں لیکن پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ ڈیک بجنے اور آتش بازی سے بیمار لوگ اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس 15کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں تو پولیس الٹا اطلاع دہندگان کیلئے مسائل کا باعث بن رہی ہے اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ 15پر فائرنگ‘ آتشبازی یا ڈھول ڈھمکے کی اطلاع دیں تو متعلقہ پولیس ملزم پارٹی کو اطلاع دہندہ کا نام بتا دیتی ہے جس سے لڑائی جھگڑے کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں حکومتی پابندی کو شادی ہال مالکان اور کیٹرنگ والوں نے پولیس سے ملی بھگت کرکے ہوا میں اڑا دیا ہے یہ تقریبات ساری رات جاری رہتی ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سمیت اعلیٰ حکام سے رات 10بجے تک لگائی جانے والی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...