این آر او کے ذریعہ کرپشن چھپانے والوں کی جوابدہی کا وقت آ گیا : احمد اویس

22 نومبر 2009
لاہور (خبرنگار خصوصی) وقت نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکاء نے انتقام سے عاری بے لاگ احتساب کو قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر جمہوری عمل اور جمہوریت کا مستقبل روشن نہیں۔ این آر او ایک قومی جرنیل نے اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کی تکمیل کیلئے سودابازی کے طور پر جاری کیا لہٰذا جس جس نے ملک کا سرمایہ لوٹا اور اربوں باہر منتقل کئے ان سے ان کی کرپشن اور جرائم کی جوابدہی ہونی چاہئے۔ پروگرام کے میزبان سلمان غنی تھے جبکہ شرکاء میں ہائیکورٹ بار کے سابق صدر احمد اویس ، پیپلزپارٹی لائرز ونگ کے سیکرٹری افتخار شاہد، نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی اور ممتاز تجزیہ نگار رضوان رضی شامل تھے۔ احمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا کہ این آر او کے ذریعے اپنی کرپشن اور جرائم پر پردہ ڈالنے والوں کی جوابدہی کا وقت آ رہا ہے۔ اس میں پارلیمنٹ نہیں، عدلیہ اپنا کردار ادا کرے گی۔ افتخار شاہد نے کہا کہ بے لاگ احتساب قومی ضرورت ہے لیکن یہ احتسابی عمل کی این آر او سے شروع کرنے کی بجائے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کرنا چاہئے۔ این آر او میں صدر زرداری کو ٹارگٹ کرنا درست نہیں۔ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی نے کہا کہ حسن اتفاق ہے کہ عیدالاضحی اور این آر او کے خاتمہ کا دن اکٹھے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالادست ہے تو اس نے اس پر کارروائی سے انکار کر دیا ہے لہٰذا اب یہ کیس عدالتوں میں جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس این آر او کی وجہ سے بھی بینظیر بھٹو نواز شریف واپس آئے اور یہ سسٹم قائم و دائم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بے لاگ احتساب کی تحریک عوام میں موجود ہے اور اگر احتساب ممکن نہ بنا تو عوام خود اس کیلئے کردار ادا کریں گے۔ رضوان رضی نے کہا کہ این آر او پر زورو شور ضرورت سے زیادہ ہے۔ اثرورسوخ کے حامل افراد ہر دور میں ایسا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے لاگ احتساب کیلئے ایسا سسٹم قائم کرنا چاہئے کہ یہ عمل مسلسل ہو۔ میزبان سلمان غنی کا کہنا تھا کہ بے لاگ احتساب جمہوری عمل کے ذریعہ ہی بروئے کار لانا چاہئے اور جنہوں نے قوم و ملک کی دولت لوٹی ہے، وہ قابل معافی نہیں۔