صدر کیخلاف مقدمات ختم ہو چکے‘ عدالتوں نے دوسرا فیصلہ کیا تو قبول کرینگے: ترجمان

22 نومبر 2009
لاہور /اسلام آباد/ (خبرنگار خصوصی+خصوصی نامہ نگار+ ریڈیو نیوز) ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ قانون کے تحت صدر زرداری کیخلاف جو کیس ثابت نہیں ہو سکے اور جن کی انوسٹی گیشن ہو رہی ہے وہ ختم ہو چکے ہیں۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر عدالتیں اس حوالے سے کوئی دوسرا فیصلہ کرتی ہیں تو وہ ہمکارے لئے قابل قبول ہو گا۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ میں نے کبھی این آر او سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا میرا نام این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں کیسے آ گیا۔ انہوں نے کہا احتساب بیورو نے جو مقدمات میرے خلاف بنائے تھے وہ میں نے عدالتوں سے کلیئر کرا لئے تھے۔ مزید براں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے فہرست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے کوئی اور ہونگے۔ میرے مقدمات ہائیکورٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا میرے فیصلے کی گھڑی آئی تو میرا نام این آر او میں شامل کر دیا گیا۔ ہم عدالتوں سے گھبرانے والے نہیں‘ مقدمات کا بھرپور دفاع کرینگے ۔ پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے کہا ہے کہ عدالت کو ایسے فیصلے ریورس نہیں کرنے چاہئیں جس سے ملک کا مفاد اور موجودہ نظام متاثر ہو ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی مقدمات سے گھبرانے والی نہیں پارٹی رہنماؤں نے ہمیشہ عدالتوں کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست پہلے ہی جاری کردینا چاہیے تھی اس میں تاخیر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر مقدمات انتقامی کارروائی کے تحت بنائے گئے۔