این آر او سے فائدہ اٹھانے پر صدر‘ وزراء مستعفی ہو جائیں : سیاسی و مذہبی رہنما

22 نومبر 2009
لاہور (خبرنگار خصوصی/ خصوصی رپورٹر/ ایجنسیاں) این آر او سے فائدہ اٹھانیوالے افراد کی سرکاری فہرست سامنے آنے پر مختلف سیاسی رہنمائوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر وفود سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاکہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے برسراقتدار رہے تو ملک بچانا ممکن نہیں رہے گا۔ این آر او اور امریکی حمایت سے برسراقتدار حکمرانوں نے غیروں اور ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک جس مشکلات سے دوچار ہے ان سے نجات کے لئے مڈٹرم الیکشن ناگزیر ہو چکے ہیں۔ صوبہ سرحد کے شہر پبی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہاکہ این آر او سے فائدہ اٹھانیوالوں کے خلاف مقدمات ری اوپن ہونے چاہئیں۔ ادھر اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے این آر او کی نہ تو کبھی حمایت کی اور نہ ہی پارٹی کے کسی بڑے لیڈر نے این آر او سے فائدہ اٹھایا‘ این آر او سے فائدہ اٹھانیوالے موقع پرور افراد مسلم لیگ (ن) میں شامل نہیں تھے‘ میاں نوازشریف نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی جس پر معافی مانگیں۔ انہوں نے کہاکہ این آر او سے فائدہ حاصل کرنے والے کو عدالتوں کا سامنا کریں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بگل بج چکا ہے‘ 28نومبر کو عیدالاضحی ہے‘ سیاستدانوں کو بھی قربانی دینی ہو گی‘ این آر او کے کیسز دوبارہ کھلے تو سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان پنجاب کے صدر علامہ محمد اقبال اظہری نے کہا کہ جو سیاستدان این آر او کی گنگا میں نہا چکے ہیں ان کو فوراً سیاست سے باہر کرکے گرفتار کیا جائے‘ جائیداد ضبط کرکے تاحیات سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ اور سابقہ تمام قیادت کرپٹ اور لٹیروں پر مشتمل ہے۔ ایم کیو ایم کی گورنر سمیت تمام قیادت این آر او کے ’’پوتر پانی‘‘ سے نہا دھو کر پاک ہو گئی اب صدر سمیت تمام وزراء کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ ان تمام افراد پر مقدمات چلائے جائیں ‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور نے کہاکہ 28نومبر کے بعد این آر او سے فائدہ اٹھانے والے صدر مملکت اور وزیر داخلہ رحمان ملک کیخلاف مقدمات ری اوپن ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ صدر کیخلاف قتل اور منشیات کی سمگلنگ جیسے سنگین الزامات ہیں ایسے افراد کو عدالتوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ مسلم لیگ ہم خیال کے سیکرٹری ہمایوں اختر خان نے کہاکہ این آر او کے تحت بری ہونیوالے فی الحال اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں اور عدالتوں سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہاکہ چودھری شجاعت نے این آر او جاری ہوتے وقت ہم سے مشاورت نہیں کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہاکہ این آر او کا سہارا لینے والے ان عدالتوں کا سہارا لیں۔ اے این پی کے رہنما حاجی محمد عدیل نے کہاکہ آرڈیننس سے فائدہ اٹھانے والوں کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ پیپلزپارٹی شیرپائو کے صدر آفتاب احمد خان نے کہاکہ این آر او میرے لئے بنا ہی نہیں تھا اس لئے اس سے فائدہ اٹھانے کا سوال ہی نہیں۔ میں نے 8برس عدالتوں کا سامنا کیا اور تمام مقدمات سے بری ہوا اگر سپریم کورٹ میں کیس چلا گیا تو پیروی کرونگا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر ظفر علی شاہ نے کہاکہ این آر او کی مدت 28نومبر کو ختم ہونے سے مقدمات ری اوپن ہو جائیں گے لیکن اصل بھونچال اس وقت آئیگا جب سپریم کورٹ فیصلہ دے گی۔