A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

این آر او کا سیاسی پس منظر: بینظیر‘ مشرف مصالحتی کوششوں کا آغاز 2006ء میں ہوا ‘ امریکہ‘ برطانیہ گارنٹر تھے

22 نومبر 2009
اسلام آباد (جی این آئی) قومی مصالحتی آرڈیننس المعروف این آر او کا سیاسی پس منظر یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے بینظیر بھٹو اور سابق صدر مشرف کے درمیان ’’کچھ لو کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر آپس میں مصالحت کرانے کی کوششوں کا آغاز 2006ء کے اختتام پر شروع کیا‘ اس سلسلے میں ابوظہبی میں بینظیر اور مشرف کے درمیان 3 ون ٹو ون ملاقاتیں ہوئیں جبکہ 2 ملاقاتوں میں گارنٹر ممالک امریکہ اور برطانیہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ بعدازاں مشرف کی طرف سے ان کے معتمد خاص طارق عزیز اور ان کے ملٹری سیکرٹری جنرل (ر) حامد جاوید جبکہ بینظیر کی طرف سے امین فہیم اور پرویز اشرف پاکستان کے اندر اور باہر ملاقاتیں کرتے رہے۔ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا کہ مشرف بینظیر کی راہ میں تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی رکاوٹ کو ختم کریں یا پھر ان کے اور ان کی پارٹیوں کے خلاف سیاسی مقدمات کو ختم کریں‘ یہ بھی طے پایا کہ اس ریلی کے بدلے پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ صدارتی الیکشن کے موقع پر استعفے نہیں دیں گے‘ وہ مشرف کو ووٹ نہیں دیں گے تو اس کے خلاف بھی ووٹ نہیں دیں گے‘ اس ڈیل کی حتمی منظوری کے لئے مشرف نے اپنے سیاسی حلیفوں کا اجلاس طلب کیا اور ان کے سامنے دو آپشنز رکھے، یا تو این آر او آرڈیننس کا نفاذ کرنا پڑے گا یا پھر تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی شرط کو ختم کرنا ہو گا۔ اس پر (ق) لیگ کے صدر شجاعت حسین نے کہا کہ تیسری دفعہ وزیراعظم نہ بننے کی شرط ہم ختم نہیں کریں گے‘ آپ این آر او کے تحت ریلیف دینا چاہتے ہیں تو دے دیں‘ بعدازاں ان ہی ملاقتوں کے نتیجے میں یہ آرڈیننس جاری ہوا جس کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی حتمی فہرست خود پیپلز پارٹی کی حکومت نے جاری کر دی ہے۔