پاکستان‘ بھارت 2008ء میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے: ہلیری کا دعویٰ

22 نومبر 2009
واشنگٹن (این این آئی) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت 2008ء میں مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ چکے تھے‘ ممبئی حملوں کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا‘ دونوں ممالک دوبارہ جامع مذاکراتی عمل ازسرنو شروع کر کے مسئلہ کشمیر کا باہمی حل نکالنے کی راہ اختیار کریں۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ جامع مذاکرات کو وہیں سے شروع کریں جہاں اسے 2008ء میں چھوڑا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ دونوں ممالک تمام آپسی اختلافات دور کرنے کے ضمن میں کافی آگے بڑھ چکے تھے جن میں کشمیر کا مسئلہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں نئی دہلی کا موقف یہ ہے کہ یہ اِسے اپنا ایک حصہ مانتا ہے جبکہ پاکستان اس کو متنازعہ قرار دے رہا ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت اہم ہے لیکن کشمیر پر جو بھی پیشرفت ہو گی یا دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کے ذریعے جو کچھ بھی سامنے آئے گا وہ ان دونوں ممالک پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے کو کس تناظر میں اور کس حد تک حل کر سکتے ہیں۔