پنجاب بار کی 75 نشستوں کیلئے انتخابات مکمل‘ لاہور میں پولنگ کے دوران ہنگامہ

22 نومبر 2009
لاہور + راولپنڈی (اپنے نامہ نگار سے + وقائع نگار خصوصی + نامہ نگاران) پنجاب بار کونسل کی 75 نشستوں پر انتخابات کے لئے گذشتہ روز پولنگ ہوئی‘ راولپنڈی‘ گوجرانوالہ‘ سرگودھا‘ شیخوپورہ‘ گجرات اور دیگر شہروں میں ماحول پرامن رہا‘ تمام شہروں کے انتخابی عمل کی نگرانی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد حنیف کھٹانہ نے کی جبکہ صوبائی دارالحکومت میں وکلا گروپوں میں کشیدگی اور ہنگامہ آرائی کے باعث صبح 9 بجے شروع ہونے والی پولنگ 10 بجے سے پونے 12 بجے تک بند کرنا پڑی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق لاہور کی 16 سیٹوں پر ہونے والے انتخابات میں رائے بشیر احمد‘ بابر وحید‘ نعمان قریشی‘ چودھری غلام مرتضی‘ طاہر نصراللہ وڑائچ‘ مقصود بٹر‘ نسیم ریاض گورسی‘ ذوالفقار چودھری‘ محمد نور عثمان اور علی احمد عثمان کامیاب ہو گئے جبکہ نمائندہ خصوصی کے مطابق گوجرانوالہ کی تین نشستوں پر عامر منیر‘ رانا ابرار احمد اور سعید بھٹہ الیکشن جیت گئے ہیں۔ نامہ نگاران کے مطابق گجرات کی نشستوں پر سات امیدواروں میں سے چودھری ثاقب اکرم‘ ندیم شہزاد گوندل‘ سرگودھا میں راؤ عبدالغفار اور مظہر اللہ‘ وہاڑی سے چودھری نوازش اور محمد زاہد کھچی پنجاب کونسل کے ممبر منتخب ہو گئے ہیں۔ ادھر راولپنڈی ڈویژن کی آٹھ نشستوں پر وکلا تحریک کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ راولپنڈی سے ملک غلام مصطفی‘ شفقت علی‘ مجیب الرحمن‘ ظفر محمود‘ اٹک سے محمد بشیر‘ جہلم سے راجہ شکیل‘ چکوال سے چودھری اسد‘ شیخوپورہ سے میاں عبدالرشید اور اسلام آباد سے راجہ اشتیاق غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیاب ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرکاری اعلان چند روز میں متوقع ہے۔ مزید برآں صوبائی دارالحکومت میں بعض وکلا گروپوں نے انتخابی انتظامات کی خامیوں پر شدید احتجاج کیا۔ پاکستان بار کے وائس چیئرمین نصراللہ وڑائچ نے کہا کہ مایوس کن انتخابات کا مقصد مخصوص لوگوں کو منتخب کرانا ہے۔ پیپلز لائرز فورم پنجاب کے صدر خرم لطیف کھوسہ نے کہا کہ چند گروپوں نے انتخابی رولز کی کھلی خلاف ورزی کی۔ اس صورتحال پر حنیف کھٹانہ نے کہا کہ کچھ انتظامی پریشانی ہوئی لیکن اسے فوری درست کر دیا گیا‘ ادھر کامیاب وکلا کے حامیوں نے غیر حتمی نتائج کا اعلان ہوتے ہی سیشن کورٹ میں اندھا دھند ہوائی فائرنگ شروع کر دی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ خوفزدہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق عینی شاہدین نے کہا ہے کہ پولیس کی نام نہاد سکیورٹی کے باوجود درجنوں افراد جدید اور ممنوعہ اسلحہ لئے سیشن کورٹ کی حدود میں پھرتے رہے۔