این آر او : قتل‘ اغوا‘ بلوے‘ غبن کے جرائم معاف کئے گئے ۔۔ زرداری‘ 33 سیاستدانوں سمیت 8041 افراد مستفید ہوئے‘ فہرست جاری

22 نومبر 2009
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) حکومت نے این آر او سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست جاری کر دی ہے۔ جس کے مطابق کل 8 ہزار 41 افراد نے این آر او کے تحت قتل ‘ اقدام قتلاغوابلوےغبن ‘ کرپشن سمیت کئی جرائم کے مقدمات ختم کرائے‘ متحدہ کی قیادت نے 56 قتل ‘ 26 اقدام قتل ‘ 10 اغوا اور 65 بلوے کے مقدمات ختم کرائے‘ جن افراد نے مقدمات ختم کرائے‘ ان میں صدر زرداری ‘ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین‘ گورنر سندھ عشرت العباد‘ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی‘ وزیر داخلہ رحمن ملک‘ وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری‘ وزیر سمندر پار پاکستانیز ڈاکٹر فاروق ستارکے علاوہ ایم کیو ایم کے کنوینئر عمران فاروق‘ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن‘ عثمان فاروقی و دیگر شامل ہیں۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف محمد افضل سندھو نے ان افراد کی فہرست ایک پریس کانفرنس میں جاری کی‘ انہوں نے بتایا کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں 34 سیاستدان 3 سفیر کئی وفاقی وزیر 248 بیوروکریٹس‘ 4 سفارتکار شامل ہیں۔ محمد افضل سندھو نے کہا کہ این آر او کو 28 نومبر تک تحفظ حاصل ہے کیونکہ سپریم کورٹ سے پاس کرانے کیلئے 120 دن کی مہلت دے چکی ہے۔ 28 نومبر کے بعد مقدمات بحال ہونگے یا نہیں اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔ این آر او کے دو مقدمات سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں اگر ان میں عدالت نے این آر او کو خلاف آئین قرار دیا تو مقدمات بحال ہو جائیں گے۔ صدر زرداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں صدارتی تحفظ حاصل ہے۔ اس لئے جب تک وہ اس عہدے پر موجود ہیں۔ ان کے مقدمات بحال نہیں ہو سکتے۔ افضل سندھو نے کہا کہ بیشتر مقدمات سیاسی نوعیت کے تھے۔ جو دس دس سال سے عدالتوں میں زیر سماعت تھے اور ان کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔ اس دوران صرف ایک مقدمے کا فیصلہ ہوا اس پر بھی تین ججوں کو استعفیٰ دینا پڑا۔ فہرست کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے 72 مقدمات ختم کئے گئے۔ ان میں قتل کے 31‘ اقدام قتل کے 11‘ اغوا کے 2 مقدمات شامل ہیں۔ سب سے زیادہ مقدمات صوبہ سندھ میں ختم کئے گئے جن کی تعداد 7793 ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو، حاجی کبیر احمد سابق ایم این اے، سینیٹر جہانگیر بدر، سابق وزیر ملک مشتاق اعوان، میاں محمد رشید سابق ایم پی اے، موجودہ ایم این اے حاجی طارق کبیر، چودھری عبدالحمید سابق ایم این اے، میاں عارف محمود سابق ایم پی اے گجرات، محمد نواز کھوکھر، پیپلز پارٹی کے ایم این اے نواب یوسف تالپور، سابق وفاقی وزیر انور سیف اﷲ، وزیر دفاع چودھری احمد مختار، سردار مقصود لغاری، چودھری شوکت، سابق ایم این اے رانا نذیر‘ سندھ سے صوبائی وزیر آغا سراج دراز بھی این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ صوبہ سرحد سے سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ، غنی الرحمن، سابق سینیٹر گل شیرخان، سابق سیینٹر حبیب اﷲ خان کنڈی بلوچستان سے فائدہ لینے والوں میں سابق وزیر میر باز خان کھیتران شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک دوسری فہرست بھی ہے‘ جنہوں نے این آر او کے آرٹیکل 2، ریویو بورڈ کے تحت فائدہ اٹھایا۔ ان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، ڈاکٹر فاروق ستار، بابر غوری، ڈاکٹر عشرت العباد، نعمان سینگل، ڈکٹر عمران فاروق، شعیب بخاری، وسیم اختر، سلیم شیراز تنویر خالد یونس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا سندھ سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست کافی طویل ہے یہ 7 ہزار 793 افراد پر مشتمل ہے انہوں نے کہا 3478 مقدمات تھے جن کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 8041 ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم گیلانی کی اہلیہ کا نام فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں شامل نہیں جبکہ فائدہ اٹھانے والوں میں سیاستدانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی کو عدالتوں نے باعزت بری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کے خلاف صرف ایک مقدمہ کا فیصلہ ہوا جو جسٹس ملک قیوم اور جسٹس کاظمی نے سنایا تھا۔ اس فیصلہ کے خلاف جب آصف زرداری کی اپیل سپریم کورٹ میں آئی تو عدالت عظمیٰ کے فیصلہ میں ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ ’’ہائی کورٹ کے فیصلے میں تعصب اور بدعنوانی تیرتی نظر آرہی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے جسٹس ملک قیوم، جسٹس کاظمی اور جسٹس راشد عزیز خان کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ وزیر مملکت برائے قانون نے کہاکہ این آر او کے تحت وہ مقدمات ہیں جو سیاسی انتقام کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ ان کی اصل حقیقت نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف جو مقدمات بنے وہ نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں سیف الرحمن کے احتساب بیور کے تحت بنے تھے۔ اس سلسلے میں نوازشریف خود بیان دے چکے ہیں‘ ان کی بات کو وزن دینا چاہئے۔ میثاق جمہوریت میں بھی سیاسی انتقام کا ذکر آیا ہے۔میثاق جمہوریت پر دونوں بڑی جماعتوں اور بعد میں دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی اتفاق کیا اس سے واضح ہو گیا تھا کہ یہ سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات تھے۔ انہوں نے سابق صدر فاروق لغاری کے دور میں مقدمات بننے کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت توڑنے کے بعد ان کی جو پیپلزپارٹی کے ساتھ مخاصمت تھی اس کے تحت مقدمات بنائے گئے۔ فاروق لغاری کو قدرت نے عبرت کا نشان بنا دیا۔ فاروق لغاری ایم این اے ہیں تاہم ان کو اسمبلی میں آنے کی ہمت نہیں۔ 28 نومبر کو مقدمات کے کھلنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ 28 نومبر تک این آر او کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ہم نے این آر او کو قومی اسمبلی میںپیش کیا تھا اور اب واپس لے لیا ہے۔ اب اس کی میعاد 28 نومبر کو ختم ہو گی۔ سپریم کورٹ میں پہلے ہی 2 درخواستیں زیر التواء ہیں جن میں ایک ڈاکٹر مبشر حسن اور دوسری روئیداد خان کی ہے۔ سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی ہم اس فیصلہ کو من وعن تسلیم کریں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔ 28 نومبر تک یہ مقدمات بند ہیں۔ جب کوئی آرڈیننس ختم ہو جاتا ہے تو آرٹیکل 264 اور عمومی کلاز 6 کے تحت ماضی کی ٹرانزیکشن سمجھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے اور جو فیصلہ کرے گی‘ ہم اس کو من و عن تسلیم کریں گے۔ انہوں نے کہا ہمیں حال میں زندہ رہنا چاہئے اور مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو تحفظ حاصل ہے۔ ان کے خلاف کوئی فوجداری یا کوئی دوسرا مقدمہ نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف فیصلہ دیا تو پھر تمام مقدمات کھلیں گے۔ صدر مملکت کے خلاف مقدمات اس وقت تک نہیں کھل سکتے جب تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے این آر او کے تحت الیکشن لڑا تھا اور عوام نے ہمیں اعتماد دیا۔ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں سابق سفیر اے آر صدیقی‘ بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو نے وزیراعظم سے بھی ملاقات کی۔ وزیرمملکت برائے وزیراعظم کے ساتھ اپنی وزارت کے متعلق امور کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے این آر او کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست قومی اسمبلی میں پیش نہ کئے جانے کی وجوہات کے بارے میں استفسارات کئے ۔ وزیر مملکت کو ہدایت کی گئی کہ فہرست کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے تاکہ گذشتہ کچھ عرصہ سے جاری بے چینی ختم کی جا سکے۔اے پی پی کے مطابق وزیر مملکت نے کہا کہ جن بیورو کریٹس نے این آر او سے فائدہ اٹھایا ان میں سابق پرنسپل سیکرٹری محمد احمد صادق، سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید احمد قریشی، سعید مہدی، رحمن ملک، حسین حقانی، بریگیڈیئر (ر) اسلم حیات قریشی، اے آر صدیقی، سلمان فاروقی، پیر مکرم الحق، بریگیڈیئر (ر) امتیاز احمد کے نام شامل ہیں۔ اس میں تین سفیروں حسین حقانی، واجد شمس الحسن اور اے آر صدیقی کے نام بھی شامل ہیں۔ صدر زرداری نے اے آر وائی گولڈ ریفرنس، ٹریکٹر خریداری کیس، کوٹکنا کو غیر قانونی ٹھیکہ دینے، حیثیت سے زیادہ ملکیت رکھنے، سابق چیئرمین سٹیل مل سجاد احمد سے کمیشن لینے، وزیراعظم ہائوس میں پولو گرائونڈ کی غیر قانونی تعمیر اور منی لانڈرنگ سوئس کیس سمیت سات مقدمات میں این آر او کے تحت فائدہ حاصل کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی اعلیٰ قیادت کے 182 مقدمات این آر او کی سیکشن 2 کے تحت ختم کئے گئے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سرفہرست رہے‘ ان کے خلاف قائم 72 مقدمات این آر او کے تحت ختم کئے گئے جن میں قتل31، اقدام قتل کے 11، اغوا کے تین، بلوے کے 25، لائوڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال اور قانون توڑنے کا ایک، ایک مقدمہ شامل ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار پر کل 23 مقدمات این آر او کے تحت ختم کئے گئے جن میں قتل کے پانچ، اقدام قتل کے چار اور بلوے کے 13 مقدمات شامل ہیں۔ بابر غوری پر قتل کے چار اور بلوے کا ایک مقدمہ، نعمان سہگل پر قتل کا ایک مقدمہ، عمران فاروق پر قتل کے سات، اقدام قتل کے دو، اغوا کے تین اور بلوے کے چھ مقدمات سمیت 19 مقدمات این آر او کے تحت ختم کئے گئے۔ وسیم اختر پر کل سات مقدمات این آر او کے تحت ختم کئے گئے جن میں قتل کا ایک، اقدام قتل کا ایک اور بلوے کے پانچ مقدمات شامل ہیں۔ سلیم شہزاد کے چھ مقدمات این آر او کے تحت ختم کئے گئے جن میں اقدام قتل کے دو، اغوا کے دو اور بلوے کے دو مقدمات شامل ہیں۔ کنور محمد خالد یونس پر قتل کے چار، اقدام قتل کے پانچ اور بلوے کے تین مقدمات سمیت کل 12 مقدمات این آر او کے تحت ختم کئے گئے۔ صفدر باقری پر قتل کے تین اقدام قتل کا ایک، اغوا کے دو اور بلوے کے دس مقدمات سمیت کل 16 مقدمات اور موجودہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر دائر ایک مقدمے کو این آر او کی سیکشن 2 کے تحت ختم کیا گیا۔