وزیراعلیٰ کی ہدایت پر عمل نہ ہو سکا‘ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کا تصور بھی ختم

22 نومبر 2009
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کے بجائے مریضوں کے لواحقین پچاس روپے سے لیکر دو ہزار روپے تک کی ادویات بازار کے میڈیکل سٹورز سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنی نے آپریشن میں استعمال ہونے والے دھاگوں (surgical sature) کی قیمتوں میں 500 گنا تک اضافہ کر دیا ہے۔ جس کی قیمت پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں مجبور مریضوں کے لواحقین سے وصول کی جا رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں (میو، جنرل، گنگارام، سروسز، لیڈی ولنگڈن، جناح اور چلڈرن) میں مفت ادویات کی فراہمی پر عمل مکمل طور پر نہیں ہو رہا۔ لاہور میں جناح کے (دل، ایمرجنسی، زچہ و بچہ) سروسز کے (ای این ٹی، ایمرجنسی، آئی سی یو)، گنگارام کے (آئی، لیبر، دمہ،)، میو ہسپتال کے (گردے، مثانے، ھڈی، بچہ)، جنرل (نیورو)، لیڈی ولنگڈن (لیبر وارڈ) چلڈرن ہسپتال کے سبھی وارڈز میں مفت ادویات کا تصور ختم ہی ہو گیا ہے۔ محکمہ صحت نے ہدایات دی تھیں کہ ہسپتال میں مہیا کی جانے والی ادویات کا چارٹ بھی مختلف وارڈز کے باہر آویزاں کیا جائے۔ لاہور کے کسی بھی ہسپتال میں ادویات کا چارٹ نہیں لگایا گیا۔ دوسری جانب ملٹی نیشنل کمپنی نے پتہ، ہرنیا، آنکھ، پیٹ اور انتڑیوں کے آپریشن میں استعمال ہونے والے دھاگے کی قیمتوں میں 200 سے 500 گنا تک اضافہ برقرار ہے۔ جس کی منظوری دھاگہ فراہم کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنی نے محکمہ صحت سے نہیں لی اور نہ ہی اضافی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ پرولین (prolene) درجن دھاگے کی قیمت 1724 روپے تھی جو اب 8623 روپے میں مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ کیٹ ڈگ اور پی ڈی ایف دھاگے کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ نئی قیمت لگا کر کمپنی نے فروخت کرنا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں نقصان اور اضافی بوجھ غریب مریضوں پر پڑ رہا ہے۔